سوال نمبر 1: اس نظم کے اشعار کی تشریح لکھیں۔

یہ نظم سرور جہاں آبادی کی ہے اس میں انہوں نے سیتاجی کی محبت کو دکھایا ہے کہ وہ کس طرح اپنے شوہر رام چندر جی سے محبت کرتی ہیں اور ان کی جدائی برداشت نہیں کر سکتیں۔

  • پہلے مصرعے میں شاعر نے کچھ اس طرح لکھا ہے کہ میرے شوہر مجھے اپنے ساتھ لے چلو میں تمہارے پاؤں کی نشان ہوں میں میں اکیلی یہاں نہیں رہ سکتی ہوں۔
  • دوسرے مصرعے میں کہتے ہیں کہ اے میرے شوہر میرا دل شیشے کی طرح نازک ہے اگر آپ نے اس کو توڑ دیا پھر یہ واپس جڑ نہیں سکتا۔
  • تیسرے مصرعے میں کچھ اس طرح لکھا ہے کہ جب سے میں آپ کے گھر آئی ہوں تو کبھی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تو آپ کے بغیر یہ راتیں نہیں کاٹ سکتی یعنی میں آپ کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی۔
  • چوتھے مصرعے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ جب سے میں اپنے گھر سے شادی کر کے یہاں آئی ہوں تو آپ نے مجھے بہت پیار دیا۔ اے میرے شوہر آپ نے مجھے کبھی اپنے آپ سے الگ نہیں کیا مجھے آپ سے الگ رہنے کی عادت نہیں ہے۔
  • پانچویں مصرے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ میں آپ کے جسم کا ایک حصہ ہوں۔ جس طرح آنکھوں میں پتلی ہوتی ہے اور اس کو جسم سے الگ نہیں کیا جا سکتا اسی طرح میں آپ کے جسم کا حصہ ہوں آپ مجھے چھوڑ کے مت جاؤ۔
  • چھٹے مصرعے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ اے میرے شوہر مجھے آج تک انتظار کی عادت نہیں رہی کیونکہ مجھ پر اس زمانے کا کرم رہا ہے۔ بھگوان کا کرم ہے مجھے کبھی اس تکلیف سے دوچار ہونا نہیں پڑا۔
  • ساتویں مصرعے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ اے میرے محبوب ، اے میرے شوہر میں آپ کی جدائی کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتی چاہے وہ کچھ لمحے کے لیے کیوں نہ ہو۔ میں موت کو گلے لگا لوں گی لیکن آپ کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی۔
  • آٹھویں مصرے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ اے میرے محبوب آپ مجھے گھر میں اکیلا چھوڑ کر چلے جاؤ گے، جب آپ جنگل سے واپس گھر آؤ گے تو مجھے زندہ نہیں پاؤ گے بلکہ مجھے مردہ پاؤ گے۔
  • نویں مصرے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ آپ کے بغیر میرے لیے یہ دنیا اندھیری ہی اندھیری ہے۔ یہاں پر انہوں نے آہ کی سانس بھر کے کہا ہے، آپ کے بغیر جنت بھی مجھے جہنم نظر آتی ہے۔
  • دسویں مصرعے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ اے میرے محبوب اگر میں آپ کے ساتھ رہوں گی تو جنگل بھی میرے لئے چمن بن جائے گا۔دنیا کی تمام خواہشات عیش و آرام میرے لئے اسی میں ہے کہ میں آپ کی خدمت کر سکوں۔
  • گیارہویں مصرعے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ اے میرے شوہر اگر میں آپ کے ساتھ رہوں گی اور وہاں پہننے کے لئے کپڑا نہیں ہوگا تو درختوں کی چھال میرے لیے ریشم ہوگا یعنی وہ میرے لئے قیمتی کپڑا ہو گا میں اس سے اپنے بدن کو آراستہ کر لوں گی۔
  • بارہویں مصرعے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ اے میرے محبوب، میرے آقا اگر آپ میرے ساتھ ہو تو پھر کیسا غم ہوگا۔ اگر مجھے جنگل میں آپ کے ساتھ رہنے کے لئے گھاس پھوس کا گھر مل جائے تو وہ میرے لئے بہت ہی پرسکون اور محل کی طرح ہوگا۔ بس مجھے آپ کی رفاقت چاہیے۔
  • تیرویں مصرعے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ اے میرے سوامی اگر میں جنگل میں آپ کے ساتھ رہوں گی تو جنگل کا سبزہ بستر کا کام کرے گا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں میرے لیے جھولے کا کام کریں گی۔ یہ سب تب ممکن ہے جب آپ مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔
  • چودھویں مصرعے میں اس طرح کہتے ہیں کہ اے میرے سوامی اے میرےمحبوب، اے میرے شوہر جب میں صحرا یعنی جنگل میں آپ کا چہرہ دیکھوں گی تو سارے غموں کو بھول جاؤں گی۔ آپ میرے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
  • نظم میں جدائی کے لیے کون کون سے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
  • فراق اور ہجر۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔