Advertisement

تعارف شاعر

نظیر اکبر کا اصلی نام ولی محمد تھا, نذیر تخلص تھا۔ ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کے مطابق نظیر اکبر آبادی نادرشاہ کے دلی حملہ کے وقت پیدا ہوئے تھے۔ نظیر اکبر آبادی کی شاعری اپنی علیحدہ دنیا رکھتی تھی۔ انہوں نے میر و سودا کی بہار سخن بھی دیکھی اور داستان لکھنو کی جوانی کا نکھار بھی لیکن ان کی آزاد منشی اور منفرد رنگ طبیعت نے انہیں کسی دوست کا پابند نہیں ہونے دیا۔ آپ کو آ ٹھ زبانوں پر عبور تھا عربی ،فارسی ،اردو، پنجابی ، مراٹھی، پوربی اور ہندی۔

Advertisement

نظیر اکبر آبادی کو بجا طور پر اردو کا پہلا عوامی شاعر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر پہلو پر گہری دلچسپی سے غور کرتے ،شدت سے محسوس کرتے اور پھر اسے شاعری کا جامہ پہنا دیتے تھے۔

Advertisement

تعارفِ نظم:

یہ نظم ہماری درسی کتاب بہارستان اردو سے ماخوذ ہے۔ یہ نظم نظیر اکبر آبادی نے لکھی ہے، اس میں شاعر نے انسان کی فطرت اور اس کی خصلت کا ذکر کرتے ہوئے انسان کے الگ الگ چہرے، روپ اور رنگ کی تصویر کشی کی ہے۔ شاید اس نظم میں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ انسان کتنے الگ ہوتے ہیں اور کس طرح سے ان کی فطرت اور خصلت اور ان کا ضمیر ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے۔

نظم کی تشریح

دنیا میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے جو مانگتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

شاعر انسان کی تعریف اور تصویر کشی کرتے ہوئے انسان کے الگ الگ خصلت ضمیر اور فطرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دنیا میں بادشاہ مفلس و گدا ، اور بے نوا آدمی یعنی انسان ہی ہے۔شاعر فرماتا ہے کہ بھیک مانگنے والا بھی انسان ہے۔

Advertisement
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی نماز اور قرآن
اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں
آدمی کو جو توڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

شاعر فرماتے ہیں کہ انسان ہی مسجد بناتا ہے اور وہی امام بھی بنتا ہے۔ خطبہ دینے والا بھی ، وہی مسجد میں بیٹھ کر نماز اور قرآن پڑتا ہے۔ وہی دوسرے لوگوں کے جوتے چراتا ہے اور لوگوں کے بیچ نفاق فساد اور دوری پیدا کرتا ہے۔

یہاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی پہ تیغ کو مارے ہیں آدمی
پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی
چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی
اور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

شعر انسان کی الگ الگ فطرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کچھ انسانوں کی فطرت یہ بھی ہے کہ وہ انسان پر جان نثار کرتے ہیں۔ وہیں کچھ انسان ایسے بھی ہیں جو لوگوں کو مارتے ہیں، کچھ لوگ دوسروں کی عزت اچھالتے ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ انسان جب کسی مصیبت میں دوسرے انسان کو پکارتا ہے تو کچھ لوگ اس کی مدد کو اس کے پاس دوڑے چلے آتے ہیں یعنی یہ سب کام اور روپ انسان ہی کے ہیں۔

Advertisement
بیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگا
کہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لارےلا
اور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پر خونچا
کس طرح سے بھیجتے ہیں چیزیں بنا بنا
اور مول لے رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

شاعر اس بند میں فرماتے ہیں کہ انسان ہی دکانیں ڈالتا ہے انسان ہی چیزیں بھیجتا ہے اور خریدتا ہے۔ کچھ لوگ سروں پر ٹوکری رکھ کر چیزوں کو بھیجتے ہیں اور نفع اٹھانے والا بھی انسان ہی ہے۔

اشرف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیر
ہیں آدمی ہی صاحبِ عزت بھی اور حقیر
یہاں آدمی مرید ہیں اور آدمی ہی پیر
اچھا بھی آدمی ہی کہتا ہے اے نظیر
اور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

شعر انسان کی الگ الگ خصلت ضمیر اور مزاج کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کچھ انسان شریف ہیں، کچھ کمینے۔ کوئی بادشاہ ہے تو کوئی وزیر۔ ان میں سے کچھ عزت والے بھی ہیں اور حقیر بھی۔ یہی لوگ مرشد بھی ہیں اور پیر بھی۔ شاعر فرماتے ہیں کہ اچھا بھی انسان ہے اور برا بھی انسان۔

Advertisement
یہاں آدمی ہے لعل و جوہر سے بے بہا
اور آدمی ہی خاک سے بد تر ہی ہو گیا
کالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جو توا
گورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا سا چاند کا
بد شکل و بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمی

انسان کی تصویر کشی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے شاعر فرماتے ہیں کہ دنیا میں کچھ انسانوں کے پاس لعل و جوہر یعنی ان کے پاس بہت دولت ہوتی ہے، وہیں کچھ مٹی سے بھی بدتر ہوتے ہیں، یعنی وہ بیچارے غریب ہوتے ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کالے توے کی شکل والا بھی انسان ہے گورا جو چاند کے ٹکڑے جیسا ہے وہ بھی انسان ہی ہے۔ بد شکل اور بد نما بھی انسان ہی ہے۔

اس نظم میں آدمی کے متضاد خصوصیاتیں بیان کی گئی ہیں، تلاش کر کے متضاد لکھیے۔

بادشاہفقیر
اشراف کمینے
صاحب عزت حقیر
پیر مرید
گورا کالا
گدا شاہ
مفلس دولت مند بند

سوالات

سوال: نظم کے دوسرے بند میں سماج کے کس طبقہ کا بیان کیا گیا ہے؟

ج: نظم کے دوسرے بند میں مسلمان طبقے کا بیان کیا گیا ہے۔

Advertisement

سوال: نظم کا عنوان آدمی نامہ کیوں رکھا گیا؟

ج: کیونکہ اس پوری نظم میں آدمی کا ہی ذکر کیا گیا ہے اسی لئے اس نظم کا عنوان آدمی نامہ رکھا گیا ہے۔

سوال: شاعر نے کالے آدمی کو الٹے توے سے تشبیہ دی ہے بتائیے گورے آدمی کو کس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے؟

ج: شاعر نے گورے آدمی کو چاند کے ٹکڑے سے تشبیہ دی ہے۔

Advertisement