سوال نمبر 1: اس کہانی کا خلاصہ یا مرکزی خیال پیش کیجئے۔

سگریٹ نوشی ایک بری عادت ہے۔ یہ کسی بھی طرح صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہے بلکہ یہ کئی مضر اثرات کی حامل ہے۔ اس سے نہ صرف نوش کرنے والے کی زندگی پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ اس کے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی اس سے کافی نقصان پہنچتا ہے۔

سگریٹ نوشی کا شمار فضول خرچی میں ہوتا ہے کیونکہ جس چیز کے کھانے اور پینے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا یعنی طاقت حاصل نہیں ہوتی تو وہ فضول خرچی میں شامل ہوتا ہے۔ کچھ اطباء نے اس کو سانپ سے تشبیہ دی ہے جو انسان کے قریب آتا ہے تو اس کے پورے جسم سے لپٹ جاتا ہے بالکل اسی طرح سگریٹ کی جس کو عادت ہو جاتی ہے وہ اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔ سگریٹ پینے والے کا دماغ ہمیشہ بوجھل رہتا ہے اور اس کے حرکات و سکنات دیگر لوگوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ جو لوگ سگریٹ پیتے ہیں وہ اکثر دل کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔سگریٹ میں ایک طرح کا نکوٹین ہوتا ہے جس میں زہریلے اثرات پائے جاتے ہیں جو کینسر جیسی مہلک بیماری کا سبب بنتی ہے۔ اس فضول خرچی میں داخل ہونے والے شخص کو اگر کبھی یہ نہیں ملتا تو وہ دوسروں کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے یا بعض اوقات وہ چوری جیسی بری عادت کا عادی ہو جاتا ہے۔ گورنمنٹ نے اس کو پینے سے سخت منع کیا ہے اور اس کے ڈبے پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے جو امراض پیدا ہوتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛
پھپڑوں کا کینسر ،گلے کا کینسر، اندرونی سوزش، دل کے پھپھولے ا،ور ناگہانی موت ، معدے کا زخم ،گردے کا کینسر وغیرہ وغیرہ۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر اسکول اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو اس سے پاک رکھیں اور لوگوں کو اس بری عادت سے بچائیں۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2: خالی جگہوں کو پُر کیجئے۔

  • سگریٹ نوشی ایک (بری عادت ) ہے۔
  • سگریٹ پینے والوں کی اکثر تعداد (کینسر) میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
  • کئی لوگوں کو گلے اور پھپڑوں کا ( کینسر ) ہو جاتا ہے۔
  • تمہاری تمباکو نوشی ( میری صحت ) کے لیے مضر ہے۔
  • تمباکو کے اندر جو کیمیاوی اجزاء پائے جاتے ہیں ان میں( نکوٹین ) خاص ایک جز ہے۔