نعت کی تعریف

نعت اس کو کہتے ہیں جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی جائے۔

سوال نمبر 1: اس نظم کے بندوں کی تشریح بیان کیجیے۔

یہ نظم (نعت) الطاف حسین حالیؔ کی ہے۔ اس میں انہوں نے حضرت محمدﷺ کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے اس نعت میں یہ بتایا ہے کہ وہ رحمت اللعالمین تھے۔ پوری دنیا کے لئے ایک رہنما بن کر آئے تھے۔ انہوں نے لوگوں کو راہ راست دکھایا اور برے راستے پر چلنے سے روکا۔

پہلے بند میں الطاف حسین حالی کہتے ہیں کہ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے۔جن کو رحمت للعالمین کا لقب ملا اور وہ غریبوں کی مرادیں پورا کرتے تھے اور غریبوں کے کام آتے تھے فقیروں کو پناہ دیتے تھے۔ ضعیف کو ٹھکانہ دیتے تھے۔ یتیموں اور غلاموں کی سرپرستی کرتے تھے الغرض اس پورے بند کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم چاہے وہ اپنا ہو یا پرایا ہو دونوں کی مدد کرتے تھے۔

دوسرے بند میں وہ اس طرح کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی خطا کی ہو تو اس کو معاف فرما دیتے اور اگر کوئی شخص بداندیش ہوتا یا برا چاہنے والا ہوتا اس کے دل میں وہ اپنے لئے جگہ بناتے تھے۔ وہ ان سے بدلہ نہیں لیتے تھے بلکہ ہمدردی سے پیش آتے تھے۔ اگر کوئی فساد کرتا تو اس کو اپنے طریقے سے سمجھاتے تھے بدلہ نہیں لیتے تھے بلکہ قبائل کو شیر و شکر کرنے والے تھے۔ غار حرا میں جہاں وہ اللہ پاک کی عبادت کرتے تھے وہاں پر ہی قرآن کریم کی وحی نازل ہوئی اور وہ اس کو ہمارے لئے لے کر آئے اور ہمیں راہ راست پہ چلنے کی دعوت دی۔

تیسرے بند میں اس طرح کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے رحمت بن کے آئے۔ اس سے پہلے یہ دنیا ایک جہالت میں پڑی ہوئی تھی اور لوگوں کو اچھے برے کی تمیز نہیں تھی۔ انہوں نے برے اور اچھے کو الگ کر کے دکھایا اور یہ بتایا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا۔عرب جو صدیوں سے جہالت میں پڑی ہوئی تھی اس کو راہ راست دکھایا۔ مثال کے طور پر جیسے بچوں کو پہلے زندہ درگور کیا جاتا تھا آخری مصرے میں وہ اس طرح کہتے ہیں۔ کشتی کو ہمیشہ سمندر کی تیز وتندلہروں سے ڈر لگتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا رخ تبدیل کر دیا یعنی جو قوم پہلے برائیوں کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی اب ان کو دین اسلام کا راستہ دکھایا۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔