Advertisement

نظم : اونٹ کی شادی
شاعر : دلاور فگار
ماخوذ از : کلیاتِ دلاور فگار

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”اونٹ کی شادی“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام دلاور فگار ہے۔ یہ نظم کتاب کلیاتِ دلاور فگار سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

آپ کا نام دلاور حسین تھا۔ آپ نے شعر گوئی کا آغاز 14 سال کی عمر میں کیا۔ دلاور فگار ایک شاعر ، مزاح نگار اور نقاد تھے۔ آپ کی غزلوں کا مجموعہ "حادثے” اور ایک طویل نظم "ابو قلموں کی مصری” بہت مقبول ہوئی۔ آپ کی مزاحیہ شاعری میں قطعوں اور رباعیوں کا مجموعہ”ستم ظریفیاں” بہت دل چسپ ہے۔

نیا یہ آج کے پرچہ نے گل کھلایا ہے
کہ سہرا باندھ کے اک اونٹ بلبلایا ہے

تشریح : دلاور فگار بہت بڑے مزاح نگار ہیں۔ وہ لفظی اور واقعاتی دونوں قسم کے مزاح پر پوری گرفت رکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات کو ایسے مزاحیہ انداز سے پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والا مسکراۓ بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس نظم میں انھوں نے ایک اونٹ کی شادی کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نظم میں لفظی اور واقعاتی دونوں قسم کا مزاح موجود ہے۔ وہ ایک اونٹ کی شادی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کے اخبار میں میں نے ایک انہونی خبر پڑھی ہے۔ یہ خبر ایک اونٹ کی شادی سے متعلق ہے۔ اخبار میں لکھا ہے کہ ایک اونٹ کی شادی ہو رہی ہے۔ اونٹ باقاعدہ سہرا باندھ کر نہایت جوش و خروش کے ساتھ اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

Advertisement
شتر کے گھر میں پیامِ بہار ہے سہرا
کبھی کبھی تو بڑا بے مہار ہے سہرا

تشریح :

اونٹ اپنی شادی سے بہت خوش ہے۔ یہ شادی اس کے لیے خوشیوں کا پیغام لیکن کہتے ہیں کہ اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ اونٹ قابو سے باہر ہوجاتا ہے۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں۔ بہار ہی بہار ہے۔ یہاں دلاور فگار نے لفظ ’’مہار‘‘ کو بڑی خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔ مہار اس رسی کو کہتے ہیں جسے اونٹ کی ناک میں ڈال کر اسے قابو میں کیا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کبھی کبھی اونٹ اس رسی کو تڑ والیتا ہے۔

مرے بنے کو مبارک یہ خوش گوار گھڑی
کہ سر کا درد بڑھا ناک میں نکیل پڑی

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے دولھے یعنی اونٹ کو اس کی شادی مبارک ہو۔ اس کی آوارگی کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ اس کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔ ان باتوں سے اس کے سر کے درد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ درد پہلے سے کئی گنا بڑھ جاۓ گا۔ اب اونٹ اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اصل میں یہ پوری نظم ہی ایک تمثیلی نظم ہے۔ دلاور فگار اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ شادی سے انسان قابو میں آ جاتا ہے۔ اس کی اپنی مرضی کے ساتھ دوسروں کی مرضی بھی شامل ہو جاتی۔ یہاں ناک میں نکیل ڈالنے سے مراد اونٹ کا قابو میں آ جانا ہے۔

سمجھ لیا تھا جسے جانور سواری کا
وہ اونٹ بوجھ اٹھائے گا ذمہ داری کا

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتے پیں کہ اونٹ سواری کا جانور ہے۔ اس کے علاوہ یہ بوجھ اٹھانے کے کام آتا ہے۔ شاعر بڑے طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ اونٹ صرف اپنے جسم پر بوجھ لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتا ہے مگر اس اخباری خبر سے پتا چلتا ہے کہ اب اونٹ گھر داری کا بوجھ بھی اٹھائے گا۔ اس پر پورے گھر کی ذمہ داری کا بوجھ ہو گا۔ پرانے وقتوں میں اگر کوئی بچہ نالائق ہوتا تھا تو اس کے گھر والے کہتے تھے کہ اس کی شادی کر دو تاکہ اسے ذمہ داریوں کا احساس ہو کہ ایک گھر کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے۔ اس بات کو بنیاد بنا کر دلاور فگار کہتے ہیں کہ اب اونٹ ان ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاۓ گا۔

Advertisement
میاں شتر کو مبارک یہ رشتۂ شادی
اسی کو کہتے ہیں اردو میں قیدِ آزادی

تشریح : دلاور فگار نے اس شعر میں بڑے مزاحیہ انداز میں اونٹ کو مثال بنا کر کہا ہے کہ تمھیں یہ شادی کا رشتہ مبارک ہو۔ اصل میں اب تمھاری آزادی کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ تمھیں اس رشتے کے بندھن میں باندھ دیا گیا ہے۔ اصل میں وہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب ایک آدمی شادی کرتا ہے تو اس کی آزادی کے دن ختم ہو جاتے ہیں۔ دوست احباب سے ملنا جلنا کم ہو جاتا ہے۔ اسے ہر وقت اپنے گھر کی فکر رہتی ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا۔ شادی سے پہلے اسے جو آزادی حاصل ہوتی ہے اس پر پہرے لگ جاتے ہیں۔

میاں شتر نئی گاڑی کے سفر کو چلے
مجھے خوشی ہے کہ تم آ گئے پہاڑ کے تلے

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اونٹ شادی کروانے جا رہا ہے۔ فی الحال تو اونٹ بہت خوش ہے۔ وہ نئی گاڑی میں بیٹھ کر اپنی دلھن بیاہنے جا رہا ہے۔ درحقیقت اس کا واسطہ اپنے سے زیادہ زور آور سے پڑنے جا رہا ہے۔ یہاں بھی دلاور فگار نے اونٹ کو بنیاد بنا کر نو جوانوں کو مخاطب کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کل بیوی شوہر سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ وہ اپنی بات منوا ہی لیتی ہے۔ شادی کے بعد مرد کو اپنی من مانی کا موقع نہیں ملتا۔ اصل میں تو شادی دو خاندانوں کا ملاپ ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کی بات ماننے سے ہی یہ بندھن مضبوطی سے بندھا رہتا ہے۔ وہ یہاں تمثیلی انداز میں کہتے ہیں کہ اونٹ پہلے اپنی من مانی کرتا تھا مگر اب اسے بیوی کا پابند ہونا پڑے گا۔ اب اسے پتا چلے گا کہ کوئی مجھ سے بھی زیادہ زبردست ہے۔

Advertisement
مجھے بیاہ کی تصویر بھیج دیں جھٹ پٹ
یہ دیکھنا ہے کہ بیٹھے ہیں آپ کس کروٹ

تشریح : اس نظم کے آخری شعر میں دلاور فگار کہتے ہیں کہ آج سے پہلے کبھی ایسی انہونی بات نہیں ہوئی کہ کسی اونٹ کی شادی ہوئی ہو، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس شادی سے پوری طرح واقفیت ہو۔ مجھے اس شادی کے موقع پر لی گئی اونٹ کی تھور بھیج دی جاۓ تا کہ میں دیکھوں کہ اونٹ کی شادی کس انجام سے دو چار ہوئی ہے۔ یہاں دلاور فگار نے محاورے کو بڑی خوب صورتی سے استعمال کیا ہے۔ محاورہ ہے دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس محاورے کا مفہوم یہ ہے کہ اب پتا چلے گا کہ اس معاملے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ایسا معاملہ جس کے انجام کا پتا نہ ہو بلکہ اس کے بارے میں صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ چونکہ پہلے کبھی کسی اونٹ کی شادی نہیں ہوئی اس لیے میں اس معاملے کے انجام کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے مجھے اونٹ کی شادی کی تصویر بھیج دیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سوال ۱: مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب لکھیے:

(الف) نظم میں شاعر نے ”نیا گل کھلانے“ کا ذکر کرکے کس طرف اشارہ کیا ہے؟

جواب : نظم میں شاعر نے ”نیا گل کھلانے“ کا ذکر کرکے اونٹ کی شادی طرف اشارہ کیا ہے۔

Advertisement

(ب) نکیل پڑنے سے شاعر کی مراد کیا ہے؟

جواب : یہاں ناک میں نکیل ڈالنے سے مراد اونٹ کا قابو میں آ جانا ہے۔

(ج) شاعر نے سر کا درد بڑھنے کی وجہ کیا بتائی ہے؟

جواب : شاعر کہتے ہیں کہ میرے دولھے یعنی اونٹ کو اس کی شادی مبارک ہو۔ اس کی آوارگی کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ اس کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔ ان باتوں سے اس کے سر کے درد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ درد پہلے سے کئی گنا بڑھ جاۓ گا۔

Advertisement

(د) نظم کے آخری شعر میں شاعر نے کس ضرب المثل کی طرف اشارہ کیا ہے؟

جواب : نظم کے آخری شعر میں شاعر نے ضرب المثل اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

سوال۲: نظم ”اونٹ کی شادی“ کے متن کو مدنظر رکھ کر درست جواب پر نشان (✓) لگائیں:

(الف) نظم ”اونٹ کی شادی“ شاعر نے لکھی ہے:
(۱) سید ضمیر جعفری
(۲) سید محمد جعفری
(۳) دلاور فگار (✓)
(۴) محمود سرحدی

Advertisement

(ب) نظم کے پہلے مصرعے میں آج کے پرچے سے مراد ہے:
(۱) آج کا اخبار (✓)
(۲) رسالہ
(۳) امتحانی پرچہ
(۴) پولیس کا پرچہ (FIR)

(ج) کھلانا کا مطلب ہے:
(۱) پھول کھلنا
(۲) عجیب و غریب کام کرنا (✓)
(۳) نئی بات کہنا
(۴) انکشاف کرنا

Advertisement

(د) شتر کے گھر میں کیا آیا ہے؟
(۱) ہوا کا جھونکا
(۲) خوش کن پیغام
(۳) پیام بہار (✓)
(۴) ایک اور اونٹ

(ہ) اردو میں قید آزادی کسے کہتے ہیں؟
(۱) قید بامشقت کو
(۲) شادی خانہ آبادی کو (✓)
(۳) جرم کو سزا کو
(۴) آزادی کے خاتمے کو

Advertisement

سوال۳: نظم کا متن ذہن میں رکھ کے حسب ذیل مصرعے مکمل کریں:

  • (الف) کہ سہرا باندھ کے ایک اونٹ ۔۔۔۔۔۔ ہے (بلبلایا)
  • (ب)کہ سر کا درد بڑھا ناک میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑی (نکیل)
  • (ج) اسی کو کہتے ہیں اردو میں۔۔۔۔۔۔۔ (قیدِ آزادی)
  • (د) مجھے خوشی ہے کہ تم آگئے۔۔۔۔۔۔۔ تلے (پہاڑ)
  • (ہ) مجھے بیاہ کی تصویر بھیج دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جھٹ پٹ)

سوال۵: نظم کے قوافی ترتیب سے لکھیں۔

جواب :
کھلایا
بلبلایا
بہار
مہار
گھڑی
پڑی
سواری
ذمہ داری
شادی
آزادی
چلے
تلے
پٹ
کروٹ

سوال۶: درج ذیل کا مفہوم واضح کیجیے۔

گل کھلانا نیا کام کرنا
نکیل پڑنا قابو میں آنا
قید آزادی شادی/آزادی کا اختتام
کسی کروٹ بیٹھنا کسی بات کا نتیجہ نکلنا

سوال۷۔ نظم کا خلاصہ تحریر کریں۔

دلاور فگار بہت بڑے مزاح نگار ہیں۔ وہ لفظی اور واقعاتی دونوں قسم کے مزاح پر پوری گرفت رکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات کو ایسے مزاحیہ انداز سے پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والا مسکراۓ بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس نظم میں انھوں نے ایک اونٹ کی شادی کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نظم میں لفظی اور واقعاتی دونوں قسم کا مزاح موجود ہے۔ وہ ایک اونٹ کی شادی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کے اخبار میں میں نے ایک انہونی خبر پڑھی ہے۔ یہ خبر ایک اونٹ کی شادی سے متعلق ہے۔ اخبار میں لکھا ہے کہ ایک اونٹ کی شادی ہو رہی ہے۔ اونٹ باقاعدہ سہرا باندھ کر نہایت جوش و خروش کے ساتھ اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اونٹ شادی کروانے جا رہا ہے۔ فی الحال تو اونٹ بہت خوش ہے۔ وہ نئی گاڑی میں بیٹھ کر اپنی دلھن بیاہنے جا رہا ہے۔ درحقیقت اس کا واسطہ اپنے سے زیادہ زور آور سے پڑنے جا رہا ہے۔ یہاں بھی دلاور فگار نے اونٹ کو بنیاد بنا کر نو جوانوں کو مخاطب کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کل بیوی شوہر سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ وہ اپنی بات منوا ہی لیتی ہے۔ شادی کے بعد مرد کو اپنی من مانی کا موقع نہیں ملتا۔ اصل میں تو شادی دو خاندانوں کا ملاپ ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کی بات ماننے سے ہی یہ بندھن مضبوطی سے بندھا رہتا ہے۔ وہ یہاں تمثیلی انداز میں کہتے ہیں کہ اونٹ پہلے اپنی من مانی کرتا تھا مگر اب اسے بیوی کا پابند ہونا پڑے گا۔ اب اسے پتا چلے گا کہ کوئی مجھ سے بھی زیادہ زبردست ہے۔ دلاور فگار کہتے ہیں کہ آج سے پہلے کبھی ایسی انہونی بات نہیں ہوئی کہ کسی اونٹ کی شادی ہوئی ہو، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس شادی سے پوری طرح واقفیت ہو۔ مجھے اس شادی کے موقع پر لی گئی اونٹ کی تھور بھیج دی جاۓ تا کہ میں دیکھوں کہ اونٹ کی شادی کس انجام سے دو چار ہوئی ہے۔ یہاں دلاور فگار نے محاورے کو بڑی خوب صورتی سے استعمال کیا ہے۔ محاورہ ہے دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس محاورے کا مفہوم یہ ہے کہ اب پتا چلے گا کہ اس معاملے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ایسا معاملہ جس کے انجام کا پتا نہ ہو بلکہ اس کے بارے میں صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ چونکہ پہلے کبھی کسی اونٹ کی شادی نہیں ہوئی اس لیے میں اس معاملے کے انجام کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے مجھے اونٹ کی شادی کی تصویر بھیج دیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement