• دیدنی ہے نرگس خاموش کا طرز خطاب
  • گہہ سوال اندر سوال و گہہ جواب اندر جواب
  • جوہرِ شمشیر قاتل ہے کہ ہیں رگ ہاے ناب
  • ساقیا تلوار کھینچتی ہے کہ کھینچتی ہے شراب
  • عشق کی آغوش میں بس اک دل خانہ خراب
  • حسن کے پہلو میں صدہا آفتاب و ماہتاب
  • سرور کفار ہے عشق اور امیرالمومنین
  • کعبہ و بُت خانہ اوقاف دل عالی جناب
  • راز کے صیغے میں رکھا تھا مشیت میں جنہیں
  • وہ حقائق ہو گئے میری غزل میں بے نقاب
  • ایک گنج بے بہا ہے اہلِ دل کو ان کی یاد
  • تیرے جور بے نہایت تیرے جور بے حساب
  • آدمیوں سے بھری ہے یہ بھری دنیا مگر
  • آدمی کو آدمی ہوتا نہیں ہے دستیاب
  • ساتھ غصے میں نہ چھوڑا شوخیوں نے حسن کا
  • برہمی کی ہر ادا میں مسکراتا ہے عتاب
  • عشق کی سر مستیوں کا کیا ہو اندازہ کہ عشق
  • صد شراب اندر شراب اندر شراب اندر شراب
  • عشق پر اے دل کوئی کیوں کر لگا سکتا ہے حکم
  • ہم ثواب اندر ثواب وہم عذاب اندر عذاب
  • نام رہ جاتا ہے ورنہ دہر میں کس کو ثبات
  • آج دنیا میں کہاں ہیں رستم و افراسیات
  • راس آیا ہے دہر کو خون جگر سے سینچنا
  • چہرۂ آفاق پر کچھ آ چلی ہے آب و تاب
  • اس قدر رشک اے طلبگاران سامان نشاط
  • عشق کے پاس اک دل پر سوز اک چشم پر آب
  • اب اسے کچھ اور کہتے ہیں کہ حسن اتفاق
  • اک نظر اڑتی ہوئی سی کر گئی مجھ کو خراب
  • ایک سناٹا اٹوٹ اکثر اور اکثر اے ندیم
  • دل کی ہر دھڑکن میں صد زیر وبم چنگ و رباب
  • آ رہے ہیں گلستاں میں خیروبرکت کے پیام
  • ہے صدا باد صبا کی یا دعائے مستجاب
  • مرغ ہوں اس دشت کا کوئی نہ مارے پر جہاں
  • ایک ہی پنجے کے ہیں اے چرخ شاہین و عقاب
  • ہم سمندر متھ کے لائے گوہر راز دوام
  • داستانیں ملتوں کی ہیں جہاں نقش بر آب
  • کرگئیں میری نظر سے آج اپنی سب دعائیں
  • واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیاجواب
  • پوچھتا ہے مجھ سے تو اے شخص کیا ہوں کون ہوں
  • میں وہی رسوائے عالم شاعروں میں انتخاب
  • اے فراقؔ آفاق ہے کوئی طلسم اندر طلسم
  • ہے ہر ایک خواب حقیقت، ہر حقیقت ایک خواب
Advertisements