• آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
  • اک شرح حیات ہو گئی ہے
  • جب دل کی وفات ہوگئی ہے
  • ہر چیز کی رات ہو گئی ہے
  • غم سے چھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو
  • کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے
  • مدت سے خبر ملی نہ دل کی
  • شاید کوئی بات ہو گئی ہے
  • جس شے پہ نظر پڑھی ہے تیری
  • تصویر حیات ہو گئی ہے
  • اب ہو مجھے دیکھئے کہاں صبح
  • ان زلفوں میں رات ہوگئی ہے
  • دل میں تجھ سے تھی جو شکایت
  • اب غم کے نکات ہو گئی ہے
  • اقرار گناہ عشق سن لو
  • مجھ سے اک بات ہوگئی ہے
  • جو چیز بھی مجھ کو ہاتھ آئی
  • تیری سوغات ہو گئی ہے
  • کیا جانیے موت پہلے کیا تھی
  • اب میری حیات ہوگئی ہے
  • گھٹتے گھٹتے تری عنایت
  • میری اوقات ہو گئی ہے
  • اس چشم سیہ کی یاد یکسر
  • شام ظلمات ہو گئی ہے
  • اس دور میں زندگی بشر کی
  • بیمار کی رات ہو گئی ہے
  • جیتی ہوئی بازی محبت
  • کھیلا ہوں تو مات ہوگئی ہے
  • مٹنے لگیں زندگی کی قدریں
  • جب غم سے نجات ہو گئی ہے
  • وہ چاہیں تو وقت بھی بھی بدل جائے
  • جب آئے ہیں رات ہو گئی ہے
  • دنیا ہے کتنی بے ٹھکانہ
  • عاشق کی برات ہوگئی ہے
  • پہلے وہ نگاہ اک کرن تھی
  • اب برق صفات ہو گئی ہے
  • جس چیز کو چھو دیا ہے تو نے
  • اک برگ نبات ہو گئی ہے
  • اکا دکا صدائے زنجیر
  • زنداں میں رات ہوگئی ہے
  • ایک ایک صفت فراقؔ اس کی
  • دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے
Advertisements