• رات بھی نیند بھی کہانی بھی
  • ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
  • ایک پیغام زندگانی بھی
  • عاشقی مرگ ناگہانی بھی
  • اس ادا کا تری جواب نہیں
  • مہربانی بھی سرگرانی بھی
  • دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میں
  • کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی
  • منصب دل خوشی لٹانا ہے
  • غم پنہاں کی پاسبانی بھی
  • دل کو شعلوں سے کرتی ہے سیراب
  • زندگی آگ بھی ہے پانی بھی
  • شاد کاموں کو یہ نہیں توفیق
  • دل غمگیں کی شادمانی بھی
  • لاکھ حسن یقیں سے بڑھ کر ہے
  • ان نگاہوں کی بدگمانی بھی
  • تنگنائے دل ملول میں ہے
  • بحر ہستی کی بے کرانی بھی
  • عشق ناکام کی ہے پرچھائیں
  • شادمانی بھی کامرانی بھی
  • دیکھ دل کے نگار خانے میں
  • زخم پنہاں کی ہے نشانی بھی
  • خلق کیا کیا مجھے نہیں کہتی
  • کچھ سنوں میں تری زبانی بھی
  • آئے تاریخ عشق میں سو بار
  • موت کے دور درمیانی بھی
  • اپنی معصومیت کے پردے میں
  • ہو گئی وہ نظر سیانی بھی
  • دن کو سورج مکھی ہے وہ نو گل
  • رات کو ہے وہ رات رانی بھی
  • دل بد نام تیرے بارے میں
  • لوگ کہتے ہیں اک کہانی بھی
  • وضع کرتے کوئی نئی دنیا
  • کہ یہ دنیا ہوئی پرانی بھی
  • دل کو آداب بندگی بھی نہ آئے
  • کر گئے لوگ حکمرانی بھی
  • جور کم کم کا شکریہ بس ہے
  • آپ کی اتنی مہربانی بھی
  • دل میں اک ہوک بھی اٹھی اے دوست
  • یاد آئی تری جوانی بھی
  • سر سے پا تک سپردگی کی ادا
  • ایک انداز ترکمانی بھی
  • پاس رہنا کسی کا رات کی رات
  • میہمانی بھی میزبانی بھی
  • ہو نہ عکس جبین ناز کہ ہے
  • دل میں اک نور کہکشانی بھی
  • زندگی عین دید یار فراقؔ
  • زندگی ہجر کی کہانی بھی