Advertisement

تعارف

اپنے عہد کے بہترین ڈرامہ نگار اور تھئیٹر ڈائریکٹر حبیب تنویر ۱ستمبر ۱۹۲۳ء کو وسطی ہندوستان کے شہر رائے پور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے کرئیر کا آغاز صحافت سے کیا۔ آپ کو موسیقی اور  شاعری سے بھی خاص شغف رہا۔

Advertisement

آپ ہندی فلموں کے اداکار، ڈراما نگار اور تھیٹر ڈائریکٹر تھے، جنہوں نے راہی، فٹ پاتھ، چرن داس چور، گاندھی، یہ وہ منزل تو نہیں، ہیرو ہیرا لال، پر ہار، منگل پانڈے اور بلیک اینڈ وہائٹ نامی فلموں میں کام کیا۔ حبیب تنویر ایک ساتھ مُفکّر، ڈرامانگار، اداکار، ادیب، شاعر، مصلح، عاشق، دوستوں کے دوست، سیاست داں اور عالمی امن کے پیغامبر کے طور پر نظر آتے ہیں۔

Advertisement

اسلوب

حبیب تنویر نے بریخت اور جرمن تھیئٹر سے جو کچھ سیکھا، اسے انھوں نے تھیئٹر کی ایک نئی زبان تشکیل کرنے میں بخوبی استعمال کیا۔ حبیب تنویر ڈرامے کی سطح پر آزمائی جانے والی عرفِ عام میں ہماری زبانوں کی کارگردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ ڈرامے کی ایک ایسی زبان کی تلاش میں تھے جو ہمارے روایتی لسانی ڈھانچے کو تہس نہس کردے۔ ایک ترسیلی زبان کا یہ سودا لیے لندن، برلن سب جگہ گئے۔ لیکن زبان انھوں نے سیکھی عام لوگوں کے بیچ۔ اسے اردو، ہندی اور چھتیس گڑھی سب ناموں سے پہچانا گیا۔ یہی حبیب تنویر کا مخصوص اسلوب قرار پایا۔

Advertisement

ڈرامہ نگاری

جدید ہندوستانی ڈرامے کی تاریخ میں حبیب تنویر کے امتیازات تسلیم شدہ ہیں۔ ترقی پسند تحریک کی پہلی اور دوسری نسل سے ان کا براہِ راست تعلق تھا۔ انھوں نے اردو زبان وادب کی باضابطہ اعلیٰ تعلیم (ادھوری) حاصل کی تھی۔ نظیر اکبر آبادی کی حیات و شخصیت کو بنیاد بنا کر انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 1954 ء میں جو ڈراما پیش کیا، وہیں سے ایک نئے ڈراما نگار کا آغاز ہوتاہے جس کی ایک اضافی خصوصیت اس کی شاعری اور موسیقی سے گہرا لگاؤ رہی ہے۔

اہلِ اردو کی ڈراموں سے بے رغبتی مشہور ہے جس کی وجہ سے کسی نازک لمحے میں حبیب تنویر چھتیس گڑھی اسلوب کی طرف مُڑ گئے۔ حالاں کہ وہ سو فی صدی اردو کے ادیب تھے اور ہر آدمی کو معلوم ہے کہ وہ اپنے ڈراموں کے تمام کام اردو ہی میں کرتے رہے۔ انھوں نے اردو میں شعر کہنا کبھی نہیں چھوڑا۔ آخر وقت تک اردو شاعری ان کے اظہار کا ذریعہ رہی لیکن اردو والوں نے انھیں اپنی مادری زبان کی طرف لَوٹنے کی کبھی پُر زور دعوت نہیں دی۔ اس طرح وہ چھتیس گڑھی ہی کے ہورہے۔ یہ کم تعجب کا مقام نہیں کہ حبیب تنویر کی خدمات پر اردو زبان میں کوئی بھرپور کتاب نہیں لکھی گئی۔

Advertisement

ہندی اور انگریزی زبانوں میں حبیب تنویر کے بارے میں متعدد مختصر اور طویل تصانیف موجود ہیں لیکن ان کی مادری زبان کی گود ان کے اوصاف کے بیان سے خالی ہے۔ چند یونی ورسٹیوں میں اردو والوں نے ان پر تحقیق بھی کی تو محققین کے مکمل نتائج چھَپ کر سامنے نہیں آئے۔  یہ ڈرامائی تصوّرات آج زیادہ انوکھے نہیں معلوم ہوں گے لیکن ساٹھ سال قبل کے ہندستانی تھیئٹر کی فکری بے سمتی کو نگاہ میں رکھا جائے تو پتا چل جائے گا کہ حبیب تنویر کس طرح ہمارے ملک میں تھیئٹر کی ایک انقلابی دنیا خلق کررہے تھے۔ صرف سماجی انقلاب پر قناعت کرنے والے افراد کے لیے بھی اکثر حبیب تنویراس لیے ناپسندیدہ ہوجاتے تھے کیوں کہ وہ تہذیب وثقافت کے ہر منچ پر اس آزادی اور انقلاب کی دستک سننا چاہتے تھے۔ اسی لیے ان کے ہاں ڈرامائی آرٹ میں ایک سُلجھا ہوا ارتقا نظر آتا ہے۔ حبیب تنویر نے مستقبل کا تھیئٹر تلاش کیا اور اس کے نقش ونگار متعیّن کیے۔

ناقدین کی رائے

ایک کتاب میں سلیم عارف ، حبیب تنویر کے بارے میں بتاتے ہیں۔
’’یورپ میں گزارے ہوئے دنوں نے انھیں خود اپنے ثقافتی اور سماجی خلقیے کے حوالے سے کام کرنے کی اہمیت اور ضرورت کا یقین دلا دیا اور ان کے دل میں رائج شہری تھیٹر کی طرف سے کسی قدر تنفّر پیدا کردیا۔ یہ تھیئٹر انہیں محض نقل لگتا تھا جس پر کلونیل نقطۂ نظر اور کلونیل سوچ کا بھاری بوجھ تھا۔ اپنے چند معاصرین کے برعکس، بریختن ہونے کا مطلب ان کے نزدیک اور زیادہ ہندستانی ہونا تھا۔‘‘
(سلیم عارف)

Advertisement

’’بریخت کے اثر نے حبیب کو وہ سب بھلانے پر مجبور کردیا جو انھوں نے انگلستان میں سیکھا تھا۔ بریخت کا یہ قول کہ تھیئٹر کو تفریح ہونا چاہیے، بالکل ویسے جس طرح میوزک ہال یا فٹ بال کا کھیل دلچسپ ہوتا ہے، حبیب کے جی سے لگ گیا۔‘‘
(شمع زیدی)

ان اقتباسات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حبیب تنویر نے لندن کے رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس(RADA) میں ڈرامے کی اشرافیت کی جو تعلیم حاصل کی تھی، اسے یورپ میں رہتے ہوئے بریخت کے حلقے میں انھوں نے مٹا دیا اور اپنے ملک ہندستان میں نئے ثقافتی خواب کے ساتھ آئے اور اسی سے ایک نیا ڈرامائی تصور قائم کیا۔ اس نئے ڈرامے میں سیاست، ارضیت اور زبان کا اَن گڑھ پن سب کچھ ہے۔ یہی رفتہ رفتہ حبیب تنویر کے آرٹ کے عناصرِ ترکیبی بن گئے۔ وہ اپنے تصورات میں بین الاقوامی ذہن کے یوں ہی دکھائی نہیں دیتے۔ انھوں نے یورپ اور امریکا میں وہاں کے لوگوں کے ساتھ مل کر جو تھیئٹر کیے اور سیکھنے سکھانے کے عمل میں شامل رہے، اس سے دنیا کے مختلف ملکوں کے ڈرامے سے متعلق شخصیات کا ان سے گہرا ربط پیدا ہوا۔ 

Advertisement

ڈرامے

حبیب تنویر کا ذکر ہو اور ان کے ڈراموں ’آگرہ بازار‘ اور ’چرن داس چور‘ کی بات پہلی سانس میں ہی نہ آجائے، یہ ممکن نہیں۔ 

آخری ایام

8 جون 2009 کو بروز پیر بھوپال میں ان کا انتقال ہو گیا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement