• ہستی اپنی حباب کی سی ہے
  • یہ نمائش سراب کی سی ہے
  • نازکی اسکے لب پہ کیا کہئیے
  • پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
  • چشمِ دل کھول اُس ہی عالم پر
  • یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
  • بارباراس کے درپہ جاتا ہوں
  • حالت اب اضعراب کی سی ہے
  • میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
  • اُسی خانہ خراب کی سی ہے
  • آتشِ غم میں دل بھنا شاید
  • دیرسے بُوکباب کی سی ہے
  • میراُن نیم بازآنکھوں میں
  • ساری مستی شراب کی سی ہے

-میر تقی میر

Advertisements