تعارف

کنہیا لال کپور ۲۶ جون ۱۹۱۰ کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شری لالہ ہری رام کپور تھا جو کہ پیشے کے اعتبار سے پٹواری تھے۔ آپ نے اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر گورنممٹ ہائی اسکول سے سیکنڈری کی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۲۸ء میں پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کے امتحان نہ صرف فرسٹ ڈیویذن سے پاس کیے بلکہ پورے صوبے میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ آپ نے ۱۹۳۲ء میں اے وی کالج سے بی اے اور ۱۹۳۴ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

ملازمت

آپ نے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک سال تک کمپوزیشن ٹیچر کی حیثیت سے نوکری کی۔ پھر آپ انگریزی کے استاد مقرر ہوئے، اس کے بعد وائس پرنسپل اور پھر بطورِ پرنسپل آپ نے ۱۹۷۵ء تک بچوں کو تعلیم دی۔

ادبی سفر

آپ کے ادبی سفر کا آغاز ۱۹۳۶ء میں آپ کی پہلی تحریر خفقان سے ہوا۔ ان کے مضامین میں ان کی صحت کے بارے میں جابجا اشارے بھرے پڑے ہیں۔ لفظ "پاگل” کو انھوں نے اپنے مضامین میں جابجا استعمال کیا ہے۔ مزاح نگار مجتبی حسین سے آپ کی خط و کتابت رہی ہے۔ وہ کبھی بھی خط کے جواب وقت پر نہ دیتے تھے۔ انھوں نے نہ کبھی اپنی زندگی کے لیے جدوجہد کی نہ ہی ادبی زندگی کے لیے۔

آپ کو اپنے پیشے سے کافی دلچسپی تھی۔ انگریزی زبان و ادب سے محبت بھی آخری سانس تک قائم رہی۔ انھیں اردو کے ہزاروں اشعار ازبر تھے۔ آپ پطرس بخاری , کرشن چند , چودھری نذیر احمد , چراغ حسن حسرت سے متاثر تھے۔ ادبی کاوشوں کے سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کی رہنمائی سوائے ایک شخص کے اور کسی نے نہ کی اور وہ ایک شخص کنہیا لال کپور ہے۔

مزاح نگاری

کنھیا لال کپور بنیادی طورپر مزاح نگار ہیں آپ کی تحریروں میں سماج کی نا ہموار یوں پر شدید طنز ملتا ہے۔ آپ نہایت ہی سادہ اور آسان نثر لکھتے تھے تاہم لفظوں کے درمیان طنز کی کاری لہریں رواں ملتی ہیں۔

تصانیف

آپ کی چند مشہور تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :

  • سنگ و خشت ,
  • شیشہ و تیشہ ,
  • چنگ ورباب ,
  • نوکِ نشتر ,
  • بال وپر ,
  • نرم گرم ,
  • گرد کارواں ,
  • دلیل سحر ,
  • گستاخیاں ,
  • نازک خیالیاں ,
  • نئے شگوفے ,
  • کلیات کنھیا لال کپور ,
  • کپور نامہ۔

اعزاز

آپ کو جون ۱۹۷۵ء میں پانچ ہزار روپیوں کا غالب ایوارڈ دیا گیا تھا۔

آخری ایام

۲۶ جون کو آپ ستر سال کے ہوجاتے لیکن قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔ ۵ مئی ۱۹۸۰ء کو کپور صاحب پونا میں انتقال کرگئے۔ دو دن بعد دلی کے بعض اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی۔ تاہم کئی دنوں تک اردو دنیا اس سانحے اور اس کی تفصیلات سے بےخبر رہی۔

Advertisements