Advertisement

غزل

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں
مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں
ہم آئینے کے سامنے جب آ کے ہو کریں
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو!
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال جو کچھ گفتگو کریں
ہر چند آئینہ ہوں پر اتنا ہوں ناقبول
منھ پھیر لے وہ جس کے مجھے رُوبرو کریں
نے گُل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمن ہوسِ رنگ و بو کریں
ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدانِ شہر
اے درد! آ کے بیت دست سبوٗ کریں

تشریح

پہلا شعر

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں

غزل کے مطلعے میں درد کہتے ہیں کہ اے فلک،اے آسمان،تم میں ہم کس خواہش کی تلاش کریں۔خواہش تو دل میں ہوتی ہے اور ہمارے پاس تو دل ہی نہیں رہا کہ تمنا پیدا ہو۔

Advertisement

تیسرا شعر

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو!
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

تر دامنی گناہوں سے بھرے ہوئے دامن کو کہتے ہیں۔ اب شاعر کہتا ہے کہ ہمارے گناہوں سے بھرے دامن پر مت جا۔ اس تر دامن پر مت جا۔یہ اتنا پاکیزہ ہے کہ اگر ہم اس کو نچوڑ دیں تو فرشتے بھی اس سے آکر وضو کریں۔ یعنی نماز ادا کرنے سے پہلے پاکیزہ ہونے کے لیے اسے منہ دھویں۔

Advertisement

پانچواں شعر

ہر چند آئینہ ہوں پر اتنا ہوں ناقبول
منھ پھیر لے وہ جس کے مجھے رُوبرو کریں

شاعر کہتا ہے کہ نہ ہی سچ بولتا ہوں گویا آئینہ ہوں۔ وہ بھی اصل صورت دکھاتا ہے۔ لیکن اس قدر نا قبول ہوں کہ جس کے سامنے آنے سے ہر کوئی کتراتا ہے۔ مجھے جس کے بھی رُوبرو کریں وہ اپنا مُنہ پھیر لیتا ہے۔

Advertisement

چھٹا شعر

نے گُل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمن ہوسِ رنگ و بو کریں

شاعر کہتا ہے کہ نہ ہی پھول کو پائیداری ہے اور نہ ہی ہمیں خود اپنا بھروسہ ہے۔ گویا ہر چیز بے ثبات ہے تو پھر کس کے لئے اس چمن کے رنگ و بُو کی خواہش کریں۔ یعنی اس دنیا کی خواہش کریں۔

ساتواں شعر

ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدانِ شہر
اے درد! آ کے بیت دست سبوٗ کریں

شاعر خود سے مخاطب ہے۔کہتا ہے کہ اے درد ہماری یہ صلاح ہے کہ تمام پرہیزگار دست سبو کی اطاعت قبول کریں۔ یعنی کہ معرفت کے جام اٹھائیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement