Advertisement

تعارف

شمس العلما مولانا محمد آزاد کی ولادت 17 ستمبر 1829 کو دہلی میں ہوئی۔ ان کے والد مولوی محمد باقر کا شمار شہر کے ممتاز علما و ادباء میں ہوتا تھا اور انھیں دہلی سے پہلا اردو اخبار نکالنے کا فخر حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے ہی حاصل کی۔ پھر دہلی کالج میں داخل ہوئے، اور علوم مروجہ میں تعلیم حاصل کی۔ تکمیل تعلیم کے بعد انھوں نے اخبار اور پریس کے کاموں میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانا شروع کیا۔ ان کے زور قلم اور اسلوب تحریر کی وجہ سے یہ اخبار تھوڑی مدت ہی میں عوام میں بے حد مقبول ہو گیا۔ اخبار میں وہ اکثر ایسٹ انڈیا کمپنی پر تنقید کیا کرتے تھے۔ 1857 کے بعد انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی اور انھوں نے اخبار کی تمام کاپیاں ضبط کر لیں۔

Advertisement

ملازمت

آزاد نے بہت عرصہ تک ڈاک خانے میں بھی ملازمت اختیار کی۔ انھیں ڈاک خانے میں اشتہارات اور علانات کا انگریزی سے اردو ترجمہ کرنا تھا۔ ان کے کام کو دیکھ کر سب بہت متاثر ہوئے۔ انھیں محکمہ تعلیم کے شعبے میں ملازمت ملی۔ 1864 میں انجمن پنجاب کا قیام عمل میں آیا جس میں مولانا نے بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔

Advertisement

ادبی خدمات

محمد حسین آزاد اردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے وہ نثر نگار اور شاعر ہی نہیں تھے نقاد اور مورخ بھی تھے۔ آزاد کی تحریروں کے مطالعہ سے ہمیں بخوبی واضح ہوجاتا ہے وہ ایک منفرد اسلوب تحریر مالک تھے۔ جذت اور دل کشی ان کی تحریر کا وصف خاص تھی جس سے کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آثار جنون سے پہلی کی لکھی ہوئی ان کی کتابوں میں ان کی پروازِ تخیل اور خیالی پیکروں کو دیکھ کر انھیں اس عالم خاکی کا نہیں بلکہ ایک خیالی دنیا کا بندہ ماننا پڑتا ہے۔ آزاد کی طرز تحریر کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ وہ ضمیر متکلم کی بجائے اپنے تخلص کا استعمال کرتے تھے۔

Advertisement

آزاد کی ادبی زندگی کی ایک اور منزل ان کی فارسی دانی ہے جس کے تحت انہوں نے سخن دان فارسی ، جیسی کار آمد اور ضخیم کتاب تحریر کی۔ آب حیات بلاشبہ ان کا لازوال اور بے نظر کارنامہ ہے۔ اپنی بعض خامیوں کے باوجود یہ آج بھی انتہائی مقبول ہے۔

آزاد کی نظموں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں تصویر کشی میں کمال مہارت حاصل تھی۔تخیل کی بلند پروازی، الفاظ کی شان و شوکت ان کے یہاں پورے آب و تاب سے نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد نے بھی مغرب کی مادی ترقی سے روشنی لے کر قومیت کے نئے تصور کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ آزاد کی نظم حب وطن ان کی قوم پرور اور وطن پرست ہونے پر دال ہے۔

Advertisement

آزاد کا ایک اور بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اردو میں تمثیل نگاری کی روایت کو فروغ دیا۔ گوکہ اردو میں تمثیل نگاری پہلے سے ہو رہی تھی لیکن آزاد نے اپنی تمثیلوں سے اس صنف کو کافی جلا بخشی۔ آزاد کی انشا پردازی اور زبان پر قدرت نے اس صنف میں انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ کسی بھی بے جان ، بے روح اور کبھی کبھی تصوراتی اور خیالی چیز پر وہ کچھ اس طرح تمثیل کا پیراہن ڈالتے ہیں کہ وہ ہمارے سامنے چلتی پھرتی متشکل اور متحرک نظر آنے لگتی ہے۔

تصانیف

محمد حسین آزاد کی تصانیف میں دو قسم کی کتب ہیں۔ ایک تو وہ جو انھوں نے سرشتہ تعلیم پنجاب کے لیے لکھیں اور دوسری وہ جو اپنے شوق سے لکھیں راقم کے خیال میں۔ سب سے پہلے انھوں نے سرشتہ تعلیم کی کتابوں کے لئے قلم اٹھایا۔ سرشتہ تعلیم کے لئے لکھی گئیں کتابوں میں فارسی کی پہلی کتاب، فارسی کی دوسری کتاب، جامع القواعد، اردو کا قاعدہ، اردو کی پہلی کتاب ، اردو کی دوسری کتاب، اردو کی تیسری کتاب، اردو کی چوتھی کتاب، قصص ہند حصہ دوم شامل ہیں۔ ان میں سے جامع القواعد اعلیٰ جماعتوں کے لئے جب کہ باقی ادنیٰ جماعتوں کے لئے لکھیں۔

Advertisement

جو کتابیں انھوں نے اپنے شوق کے لئے لکھیں ان میں:

  • آب حیات،
  • نیرنگ خیال،
  • دیوان ذوق،
  • دربار اکبری،
  • سخندان فارسی،
  • قندپارسی۔نصحیت کا کرن پھول،
  • نظم آزاد ،
  • مکاشافات آزاد شامل ہیں۔

آخری ایام

آپ عمر کے آخری حصے میں تھے کہ جوان اولاد کی موت سے دماغی حالت توازن سے ہٹ گیا۔ اسی کیفیت میں 22 جنوری 1910 کو 80 سال کی عمر میں اردو ادب میں منفرد مقام رکھنے والا مصنف راہی ملک عدم ہو گا۔ آپ کو لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement