تعارف و تعلیم

مجتبی حسین 15 جولائی 1936ء میں(سرٹی فیکیٹ کے مطابق 15 جولائی 1933ء ) ریاست کرناٹک، ضلع گلبرگہ، تحصیل چنچولی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد مولوی احمد حسین کی نگرانی میں گھر پر ہی حاصل کی۔ چوتھی جماعت میں گلبرگہ کے مدرسہ تحتانیہ، آصف گنج میں داخلہ لیا اس کے علاوہ عثمان آباد میں بھی کچھ عرصہ زیر تعلیم رہے۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان گلبرگہ کالج سے 1953ء میں پاس کیا۔ گریجویشن کی ڈگری 1956ء میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے حاصل کی اور ڈپلومہ ان پبلک ایڈمنسٹریشن بھی عثمانیہ یونیورسٹی سے 1958ء میں حاصل کیا۔

ادبی زندگی

مجتبی حسین کی شادی ان کی چچا زاد بہن ناصرہ رئیس سے نومبر 1956ء میں ہوئی۔ وہ مشہور مزاح نگار ابراہیم جلیس کے چھوٹے بھائی تھے۔ ابتدا سے ہی طنزومزاح سے خاص لگاؤ تھا۔ اپنے زوق کی تکمیل لے لئے 1956ءمیں روزنامہ” سیاست” سے وابستہ ہو گئے اور وہیں سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ انھوں نے اپنی پہلی مطبوعہ تحریر "کالم شیشہ و تیشہ” (سیاست) 1962ء میں کوہ پیما کے فرضی نام سے لکھی تھی اور 1964ء میں ماہنامہ(صبا) میں ” غالب کے طرفدار” مجتبی حسین کے نام سے لکھی تھی ۔ علاوہ ازیں وہ محاکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، آندھراپردیش 1962-72ء ، شعبہ ریسرچ گجرال کمیٹی، دہلی1972-74ء اور ایڈیٹر، شعبہ پبلیکیشن، NCERT حکومت ہند1976-91ء سے بھی وابستہ رہے۔

ادبی خدمات

مجتبی حسین ایک بسیار نویس ادیب تھے۔ وہ خاکہ نویس بھی تھے، انشائیہ نگار بھی، طنزومزاح نگار بھی اور کالم نویس بھی تھے۔ ان کا مشاہدہ وسیع اور گہرا تھا۔ طرز اسلوب خاص ان کا اپنا تھا جس میں تکلف اور تصنع کا شعبہ نہیں ہوتا۔ ایسی آسان زبان استعمال کرتے تھے کہ قارئین کے دل میں اتر جاتی۔

تصانیف

انھوں نے متعدد کتابیں اپنی یاد گار چھوڑی ہیں جن میں "تکلف برطرف” 1968ء ، "قطع کلام” 1969ء ، "قصہ مختصر” 1972ء ، "بہرحال” 1974ء ، "آدمی نامہ”(خاکے) 1981ء ، "بالآخر” 1982ء ، "جاپان چلو جاپان چلو” 1983ء ، "الغرض” 1987ء ، "سو ہے وہ بھی آدمی” (خاکے) 1987ء ، "چہرہ در چہرہ” ( خاکے) 1994ء ، "سفر لخت لخت” 1995ء ، "آخرکار” 1997ء ، "ہوئے ہم دوست جس کے” (خاکے)1999ء "میرا کالم” 1999ء ، "شیشہ و تیشہ” 1994ء وغیرہ خاص طور پر قابل زکر ہیں اس کے علاوہ کچھ کتابیں ہندی میں بھی شائع ہوئی ہیں جن میں "قصہ آرام کرسی کا” 1987ء ، "جاپان چلو جاپان چلو” 1988ء ، "سوئز بنک میں کھاتا ہمارا” 1990ء ، "سند باد کا سفر نامہ” 1994ء ، "چہرہ در چہرہ” 1999ء اور "مجتبی حسین رچناولی” وغیرہ شامل ہیں۔

مجتبی حسین نے مختلف ممالک جاپان، امریکہ،برطانیہ، فرانس، کنیڈا، روس اور پاکستان وغیرہ کے سفر کئے اور بہترین سفر نامے لکھے۔ ان کا مشہور و معروف سفر نامہ ” جاپان چلو جاپان چلو” ہے۔ جس کو جاپانی زبان میں بھی منتقل کیا جا چکا ہے۔ مشفق خواجہ لکھتے ہیں:

"مجتبی حسین خاصے "جہاں دیدہ” ہیں۔۔۔ اسلئے ان کے تجربات و مشاہدات میں تنوع بھی ہے وسعت بھی۔ انھوں نے طنز کی گہرائی اپنے بڑے بھائی ابراہیم جلیس سے، اسلوب کی چاشنی اپنے بڑے بھائی کے جگری دوست ابن انشاء سے لی ہے۔ مزاح میں وہ کسی کے مقلد نہیں ۔۔۔ مضامین ہوں یا خاکے یا سفر نامے ان کا بنیادی وصف مجتبی حسین کا انداز بیان ہے۔ وہ ایک ایسی بے تکلفانہ فضا تخلیق کرتے ہیں کہ قاری مسحور ہو جاتا ہے اور اس کیفیت سے اسی وقت آزادی حاصل کرتا ہے جب مضمون ختم ہو جاتا ہے۔”

اعزازات

مجتبی حسین کو مختلف اعزازت سے بھی نوازا جا چکا ہے جس میں باوقار سویلین پدم شری ایوارڈ ، غالب ایوارڈ، مخدوم ایوارڈ، کنور مہندر سنگھ بیدی ایوارڈ، میر تقی میر ایوارڈ اور کرناٹک اردو اکیڈمی ایوارڈ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ان کی ساری تخلیقات کو ملک کی مختلف اکیڈمیوں کے طرف ایوارڈ مل چکے ہیں۔

مجتبی حسین کی وفات

اردو زبان کے نامی گرامی قلمکار اور خدمت گزار ایک ایک کر کے سب داغِ مفارقت دیتے جا رہے ہیں۔ روز کسی نہ کسی کی سنوائی کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ آج (27 مئی 2020) ایک عہد ساز، نایاب، ہردلعزیر اور ممتاز طنزومزاح نگار مجتبی حسین کی رحلت کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا لیکن آہ مشیت ایزدی کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ مرحوم کی ذات اس دور میں اردو زبان و ادب میں مینارِ نور کی حیثیت رکھتی تھے۔ نصف صدی سے زائد قارئین کے دلوں پر راج کرنے والی شخصیت کی موت دنیائے اردو ادب کے لئے بہت بڑا سانحہ ہے۔ مدتوں اس نقصان عظیم کی تلافی نہ ہو سکے گی۔

مجتبی حسین کی شخصیت ایک بڑے فنکار اور عظیم انسان کے حسین امتزاج سے عبارت تھی عجز و انکساری، انسان دوستی، احترام اور اخلاق حسنہ ان کی شخصیت کے نمایاں وصف تھے۔ یہ ایسے اوصاف ہیں جو موجودہ قحطالجرال دور میں ان کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ بلا شبہ مجتبی حسین اردو طنزومزاح کی آبرو تھے ہیں اور رہیں گے۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا قابل قدر سرمایہ ہیں۔

#تحریر_____قمر_مغل

Advertisements