غزل

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام
اﷲ رے! جسم یار کی خوبی کہ خودبخود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام
حیرت غرور حسن سے،شوخی سے اِضطراب
دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام
دیکھو تو چشم ِیار کی جادُو نگاہیاں
بے ہوش اِک نظر میں ہوئی انجمن تمام
شیرینی نسیم ہے سوز و گداز میرؔ
حسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطفِ سخن تمام

تشریح

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے جلوے سے تمام کی تمام محفل روشن ہو اٹھی ہے۔ محبوب کو پھول اور بزم کو چمن قرار دیا ہے۔کہتا ہے اس گل کی آگ سے تمام چمن دہک رہا ہے۔روشن ہوگیا ہے۔

اﷲ رے! جسم یار کی خوبی کہ خودبخود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

اچھا لباس زیب تن کرنا خوبصورتی کو بڑھاتا ہے۔لیکن شاعر اس شعر میں ایک دوسرا پہلو نکال رہا ہے۔وہ بڑے تعجب خیز انداز میں کہتا ہے کہ میرے محبوب کی خوبصورتی کا یہ عالم ہے کہ لباس تن پر آکر خود حسین ہو جاتا ہے۔محبوب کا حسن آباد کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے۔

حیرت غرور حسن سے،شوخی سے اِضطراب
دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام

شاعر کہتا ہے کہ میرے دل نے محبوب کے تمام چلن شیوا سیکھ لیے ہیں حسن کے غرور سے اس نے حیرت اور اس کی شوخی سے بےقراری سیکھ لی ہے۔عاشق کی خصوصیت ہے کہ وہ بے قرار حیران رہتا ہے۔

دیکھو تو چشم ِیار کی جادُو نگاہیاں
بے ہوش اِک نظر میں ہوئی انجمن تمام

شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کی جادو بھری نظریں دیکھئے کہ اس کی ایک نظر میں تمام کی تمام بزم اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے۔بے ہوش ہوگئی ہے۔

شیرینی نسیم ہے سوز و گداز میرؔ
حسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطفِ سخن تمام

غزل کے مقطع میں حسرتؔ خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ حسرتؔ تمہارے کلام میں نسیم کی سی مٹھاس ہے۔نسیم اور میرؔ سا سوز و گداز اور جس کے کلام میں یہ دونوں خصوصیات ہوں اس کا کیا کہنا۔اس طرح شاعری کی خوبی تیرے سخن پر تمام ہوتی ہیں۔ اس کے آگے کچھ نہیں ہے۔

Advertisements