Advertisement

تعارف

مولانا عبدالحلیم شرر 4 ستمبر 1860 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم تفضل حسین اودھ کے آخری تاجددار واجد علی شاہ کے ملازم تھے۔نو سال کی عمر میں عبدالحلیم شرر بھی مٹیا برج چلے گئے۔ وہاں اپنے والد اور کافی سارے علما کے زیر سایہ عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ فن شاعری میں علی حیدر نظم طباطبائی کے شاگرد ہوئے۔
اس کے بعد انھوں نے لکھنؤ اور دہلی میں مزید تعلیم حاصل کی۔ انگریزی کا زمانہ تو اگرچہ تھا مگر انھوں نے کسی مستند ادارے سے باقائدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ تعلیم کے ساتھ تصنیف اور تالیف کا مشغلہ جاری تھا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر منشی نولکثور نے انھیں اودھ اخبار کا نائب اڈیڈٹر بنا دیا۔ اس میں انھوں نے مختلف موضوعات پر متعدد مضامین لکھے جو مقبول عام ہوئے۔

Advertisement

ادبی تعارف

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جن ادیبوں نے اردو ادب کو مغربی اصناف اور اسالیب فن سے روشناس کرایا ان میں عبدالحلیم شرر کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی شہرت کا بڑا سبب تو دراصل ان کے تاریخی ناول ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت بڑی ہمہ رنگ اور ان کی صلاحیتیں بڑی متنوع تھیں۔ ناول کے علاوہ انھوں نے انشائیہ ، ڈراما، شاعری، سوانح اور تاریخ میں بھی قابلِ قدر نگارشات یادگار چھوڑی ہیں۔

Advertisement

تراجم و رسائل

1884 میں انھوں نے  بنکم چندرچڑر جی کے ایک تاریخی ناول ، درگیش نندنی کا انگریزی سے اردو  میں ترجمہ کیا۔ 1887 میں انھوں نے اپنا رسالہ "دلگداز” جاری کیا تو اس میں اپنا پہلا تاریخی ناول ‘ملک العزیز درورجنا’ قسط وار شائع کیا۔

Advertisement

مولانا کو تاریخ بالخصوص اسلامی تاریخ سے خاص دل چسپی تھی۔ اپنے بیشتر ناولوں کا مواد انھوں نے تاریخ سے ہی لیا ہے۔ ان کا تاریخ کا تصور بڑی حد تک ان کے احیا پسندانہ خیالات کا تابع تھا۔ اپنے تاریخی ناولوں میں مسلمانوں کو تہذیبی اور سیاسی عروج کی داستانیں سنا کر انھیں بنداری اور عمل کا پیغام دیا اور ان کی زندگی کو صحیح اسلامی شعائر سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی۔

شرر کے بیشتر تاریخی ناول عشق و محبت اور مسلمان جانبازوں کی جرأت و شجاعت کے واقعات سے معمور ہیں۔ دراصل وہ ایک طرح کے رومانی قصے ہیں جن کی کہانیوں اور کرداروں میں ایک باشعور قاری کو اکتا دینے والی کیسانیت محسوس ہوتی ہے۔اپنے ناولوں میں وہ نہ تو ماضی کی معاشرت اور ماحول کو زندہ کرنے میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی ایسی جاندار اور غیر فانی کردار تخلیق ہو سکے۔

Advertisement

ناول نگاری

شرر فنی اعتبار سے خواہ بہت کامیاب نہ ہوئے ہوں کردار نگاری میں بہت زیادہ جان نہ پیدا کی ہو لیکن قصے کی ساخت ، پلاٹ کی ترتیب و تشکیل پر بے حد توجہ دی ہے۔ شرر بنیادی طور پر انشاپرداز ہی تھے۔ جب ناول لکھنا لکھانا پڑا تو ناول میں حسن و عشق کا تذکرہ ان کے نزدیک ناول کا جزو لازم تھا۔ پس قلم لکھتا گیا، ریگستان ہو، دلکش وادیاں ہوں، جنگل ہو، دردناک مناظر ہوں، جنگ کے مناظر ہوں، معشوق کا سراپا ہو، کچھ بھی ہو ایسے موقعوں پر شرر کا قدم بڑی چابک دستی سے اپنے فن کی مہر لگاتا ہوا آگے بڑھتا رہتا ہے۔ بعض ناول نہ تو جس میں مضبوط پلاٹ ہے اور نہ ہی زیادہ دم خم والے کردار لیکن صرف ان کی انشاپردازی کی وجہ سے ہی ذوق وشوق سے پڑھے گئے۔ ان کے ابتدائی ناول خاص طور پر اسی وجہ سے مقبول ہوئے۔

زبان و بیان کی دل کشی، خوبصورت منظر نگاری اور اسلوب بیان کے اعتبار سے فردوس بریں کے مقابلے میں ان کا کوئی بھی ناول نہیں ٹھہرتا بلکہ اسی بنا پر ہی شرر کا یہ ناول کامیاب ناول تسلیم کیا گیا۔

Advertisement

تصانیف

  • عبدالحلیم شرر کی تصانیف میں
  • ابوبکر شبلی،
  • ادب و تحقیق مسائل،
  • افسانہ قیس،
  • آغا صادق کی شادی،
  • الفانسو،
  • ایام عرب،
  • عزیزہ مصر،
  • بدر النساء کی مصیبت،
  • دربار حرام پور،
  • فردوس بریں،
  • فاتح مفتوح،
  • درگیش نندنی،
  • فلورا فلورنڈا،
  • غیب داں دلہن،
  • گذشتہ لکھنو،
  • حسن بن صباح،
  • حسن انجلینا،
  • اسلامی سوانح عمریاں،
  • جوپائے حق،
  • منصور موہنا،
  • ملک العزیز ورجنا،
  • میوہ تلخ،
  • طاہرہ،
  • تاریخ عصر قدیم،
  • تاریخ اسلام،
  • زوال بغداد اور بے شمار کتابی مجموعے ان شامل ہیں۔

آخری ایام

اردو کےمورخ ، ناول نگاراور انشاپرداز عبدالحلیم شرر ایک دسمبر 1926 کو 66 سال کی عمر میں لکھنو میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement