تعارف

عبداللہ حسین  ۱۴ اگست ۱۹۳۱ کو گجرات پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد بنوں سے پنجاب ہجرت کر گئے۔ عبداللہ اپنے والدین کے تین  بچوں میں ان کا اکلوتا اور چھوٹا بیٹا تھا۔ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا جب عبداللہ صرف چھ ماہ کے تھے۔ ان کے والد ان کے بارے میں انتہائی محتاط تھے اس لیے وہ اپنے فارغ اوقات میں عبد اللہ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے۔ عبداللہ اور ان کے والد کی آپس میں محبت کو ان کی تحریروں میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

حالاتِ زندگی

ان کے گھریلو حالات بہت اچھے نہیں تھے اس وجہ سے وہ اس ملک میں آگے کی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ عبداللہ حسین نے اردو آٹھویں جماعت تک پڑھی اور نویں جماعت میں انہوں نے سائنس کو لازمی مضمون کے طور پر اختیار کیا اور بی ایس سی کرنے کے بعد سیمنٹ فیکٹری میں کیمسٹ ہوگئے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد کو نئے لکھنے والے اردو کے مصنفین کی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، چنانچہ عبداللہ حسین نے بھی کرش چندر ، ممتاز مفتی، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی اور منٹو کی کتابیں اپنی طالب علمی کے زمانے میں پڑھ ڈالیں اور تعلیم کی تکمیل کے بعد کی فرصت نے انہیں بور کرنا شروع کیا تو قلم اٹھایا اور ناول لکھنا شروع کردیا۔

عبد اللہ حسین نے جب اپنے لیے کوئی قلمی نام اختیار کرنا چاہا تو انہیں خود اپنا نام محمد خان پسند نہیں آیا صرف اس لیے کہ کرنل محمد خان وہاں پہلے سے موجود تھے۔ انھیں سیمنٹ فیکٹری کے ہم منصب "طاہر عبداللہ حسین” کا نام اچھا لگا اور انہوں نے "عبد اللہ حسین” بطورِ قلمی نام اختیار کر لیا۔

ادبی خدمات

ان کی کوئی تحریر کسی معیاری ادبی رسالے میں شائع نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ ان سے ایک افسانہ ’’ندی‘‘ لکھوایا گیا جو ’’سویرا‘‘ میں شائع ہوا اور اس کے ساتھ ہی ٹی ہاؤس میں نذیر احمد چودھری نے اعلان کردیا کہ اردو کا ایک عظیم ناول ان کے ادارے سے چھپنے والا ہے جسے ’’ندی‘‘ کے مصنف عبداللہ حسین نے لکھا۔

اردو ناول نگاری میں کئی ایسے نام لیے جا سکتے ہیں جو گہرا سیاسی ، سماجی اور معاشرتی شعور اپنے ناولوں کے ذریعے پیش کرتے ہیں اور اسی خصوصیت کی بنیاد پر وہ اردو فکشن میں امر ہو گئے ہیں۔ان میں پریم چند، کرشن چندر، فضل کریم فضلی، جمیلہ ہاشمی ،حسن منظر، قرۃ العین حیدر، مرزا اطہر بیگ، شمس الر حمان فاروقی اور مستنصر حسین تارڑ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ عبداللہ حسین کا نام بھی اسی قبیل کے ناول نگاروں میں شامل ہوتا ہے، جنھوں نے اپنے ناولوں میں مافوق الفطرت کائنات سجانے کی بجائے حقیقی زندگی کی تصویر پیش کی۔

عبداللہ حسین نے اپنے ناول "اداس نسلیں” سے شہرت حاصل کی۔  اس ناول کے لئے انہیں آدم جی ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اردو ادب میں اُداس نسلیں ایک سنگ میل سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ایک عام آدمی کی کہانی ہے جس نے شادی کے ذریعے تنگی دور کرنے کی کوشش کی مگر اس معیاری زندگی کے قابل خود کو نہ سمجھ کر وہ واپس اپنی زندگی میں لوٹ آتا ہے۔

انہوں نے پچیس سال کی عمر میں یہ ناول لکھنا شروع کیا اور چھ سال میں مکمل کیا۔ انہوں نے ۱۹۸۲ میں "باگھ” بھی لکھا ، جس میں کشمیر کی آزادی پر توجہ دی گئی ہے۔ باگھ (ایک شیر) ہر ایک کے لئے دہشت کی علامت ہے۔ ان کا ۱۹۹۵ کا ناول ‘قید’ ایک نوزائیدہ بچے کی کہانی ہے جسے کراچی میں قتل کیا گیا تھا۔ ۱۹۹۴ میں شائع ہونے والی ‘رات’ بھی اسی نوع کا ان کا ناول تھا۔ بعد میں انہوں نے ۱۹۹۶ میں "نشیب” بھی لکھا۔ انہوں نے نشیب اور  فریب کے افسانوی مجموعے لکھے اور افغان جہاد کے بارے میں انگریزی میں ایک ناول بھی لکھا تھا۔

ناول اداس نسلیں

اردو ادب کے کچھ بہترین ناولوں اور افسانوں کے مصنف عبد اللہ حسین کبھی بھی روشنی میں رہنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ۱۹۶۱ میں ان کا پہلا ناول "اداس نسلیں” کی اشاعت کے بعد سے جو "آگ کا دریا” کے بعد اردو کا دوسرا بہترین ناول سمجھا جاتا ہے اور خود ہی weary generations کے عنوان سے عبداللہ صاحب نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ عبداللہ حسین اردو ادب میں ایک بڑا نام رہے ہیں۔ تاہم ، خطوط کے عظیم انسان کو اردو فکشن ، معمولی مصنفین ، غیر جانبدار نقادوں اور شاید تمام تر ادبی محفلوں کی طے شدہ روایات اور نمونوں کے لئے اختلاف تھا۔

عبداللہ حسین کے افسانوں میں غیر متزلزل طاقت ہے۔ ان کی تحریریں نچلے طبقے کی عکاسی کرتی ہیں اور انسانی فطرت کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوتی ہیں۔ زبان آسان اور سیدھی ہے جو قاری کو کرداروں کے قریب بھی لے جاتی ہیں اور اس  سحر سے نکلنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ ان کی ساری کہانیوں میں زندگی کے ساتھ ناانصافی بنیادی موضوع ہے۔

بلاشبہ عبداللہ حسین اردو ادب کے سب سے بڑے حقیقت پسند ہیں۔ ان کی تحریروں پر کبھی رومانوی مزاج کے اثرات نہ پڑے۔ ان کے ناول بالکل زندگی کے آئینے کی طرح ہیں ، بالکل ویسے ہی جیسے انسان ان کو دیکھنا چاہے ،دیکھنے والے کی بدصورتی ، خوبصورتی اور بالکل اسی طرح جیسے خود ہو نظر آجاتا ہے۔

عبداللہ حسین اپنی وضع کے انوکھے ادیب تھے، انہوں نے کسی ادبی تنظیم کی رکنیت کبھی اختیار نہیں کی لیکن وہ کہا کرتے تھے کہ اس تحریک نے ادب کے امکانات کو وسیع کیا، نئے موضوعات دیئے اور ادیبوں کی سوچ کا زاویہ بدل ڈالا لیکن وہ یہ بھی کہے بغیر نہ رہ سکے کہ اس تحریک میں سیاست در آئی اور یہ پروپیگنڈہ بن کر رہ گئی، کرشن چندر کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ انہوں نے کمرشل رویہ اختیار کرلیا اور ادب پر اپنا نظریہ ٹھونسنا شروع کردیا، ان کے خیال میں تخلیقی کام اور بالخصوص ناول اور افسانے کا فیصلہ وقت کرتا ہے، بالفاظ دیگر فن کا اصلی مصنف زمانہ ہے، پروپیگنڈہ ادب کو دوام ابد عطا نہیں کرسکتا۔

آخری ایام

عبد اللہ حسین کئی سالوں سے بلڈ کینسر میں مبتلا تھے۔ طبیعت خراب ہونے پر انہیں نیشنل ڈیفنس ہسپتال لے جایا گیا۔ بعد ازاں ، ان کو واپس اپنے گھر لایا گیا جہاں ۴ جولائی ۲۰۱۵ کو ان کا انتقال ہوگیا۔

Advertisements