تعارف


اردو ادب کے بہترین ناول و افسانہ نگار ، ڈراما نویس ، کالم نویس ، صحافی، ادیب، نقاد اور دانشور احمد ندیم قاسمی صاحب ۲۰ نومبر ۱۹۱۴ کو سرگودھا کی تحصیل خوشاب کی کورنگی میں پیدا ہوئے۔ گھروالوں نے ان کا نام احمد شاہ رکھا۔قاسمی صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں خوشاب سے ہی حاصل کی بعد ازیں انھوں نے پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے لاہور میں بطور مصنف کام بھی کیا۔

اس سب کے علاوہ وہ مترجم بھی تھے انہوں نے جاپانی نظموں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ریڈیو اور ٹی وی کے لیے لازوال ڈرامے بھی لکھے۔ ان کے افسانوں کا بڑا حصہ نہ صرف ہندی زبان میں بلکہ بہت سے افسانے روسی، چینی، فارسی اور انگریزی کے علاوہ پنجابی، بنگلہ، سندھی، گجراتی اور مراٹھی جیسی علاقائی زبانوں میں بھی منتقل ہو چکا ہے۔

ادبی تعارف

احمد ندیم قاسمی نے سماجی حقیقت نگاری کے ذریعے نہ صرف اپنے افسانوں میں دیہی رہن سہن، طبقاتی تضاد، سماج کے پسے ہوئے استحصالی طبقات اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو موضوع بنایا بلکہ سیاست اور مذہب کے ٹھیکے دار بھی جو اپنے مفاد کے لیے دوسروں کا استحصال کرتے ہیں ان کے قلم کی زد سے بچ نہ پائے۔

اسلوب

قاسمی صاحب ناول اور افسانے بہت سادہ اور انتہائی عام لوگوں اور کرداروں سے بنت کرتی کہانی بیان کرتے تھے۔ خدا معلوم مگر ان کی کہانیاں آخرت تک مٹی کے کچے گھروں سے جڑی رہیں۔ ان کی تحریریں زندگی کے ہر پہلو پر سے پردہ چاک کرتی تھیں۔ ان کا انداز بیان ہر خاص و عام کے ذہن میں نقشہ بنا دیتا تھا اور قاری مرکزی خیال کے مدار سے باہر کبھی نہیں بھٹکا۔

ان کی تحریریں صداقت پر مبنی تاثر دیتی تھیں اور وہ زندگی کی اصلیت کو پیش کرتے تھے۔ غربت، بھوک، توہم پرستی، بیماری، ناخواندگی، بے روزگاری، نچلے طبقوں کا استحصال، امیروں کی عیاری، آسودہ اور باوسائل افراد کا جارحانہ اور جابرانہ رویہ اجڑے گھروں اور ان کے باسیوں کی مفلوک الحالی اور خانہ ویرانی یہ تمام مسائل سبھی دیہی باشندوں کے ہیں۔ قاسمی کا فطری میلان دیہی زندگی کی طرف زیادہ تھا۔ انھوں نے دیہاتی بود وباش کو اپنی تحریروں میں پیش کرکے زندگی کے مختلف پہلوؤں کی نقاب کشائی کی ہے قاسمی نے اپنی تحریروں میں مقامی طرز معاشرت کی عکاسی اتنے دلکش اور دلچسپ انداز سے کی ہے کہ مختلف ادبی نظریات سے تعلق رکھنے والے نقاد بھی ان کی تعریف و توصیف بیان کیے بغیر نہیں رہ سکے۔

فنون

اُن کی ایک اور انفرادیت بطور مدیر ’’فنون‘‘ کی ہے۔ وہ نہ صرف ’’فنون‘‘ کے مدیر رہے بلکہ ’’ادب لطیف‘‘ اور نقوش کی ادارت سے بھی وابستہ رہے۔ احمد ندیم قاسمی کی شاعری میں غزلیں اقبال اور فیض کی شعری روایت کے بعد بہت اہم گردانی جاتی ہیں۔

اعزازات

  • قاسمی صاحب ان بہت چند لوگوں میں شامل ہیں جن کو ان کی شاعری خدمات پر تین بار آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔
  • ان کی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو تمغا برائے حسن کارکردگی جو کہ پاکستان کا اعلٰی سول اعزاز ہے دیا گیا۔
  • انھیں ستارہ امتیاز ، عالمی فروغ اردو ادب، کمال فن ادبی اور علامہ اقبال انعام سے بھی نوازا گیا۔

آخری ایام

۱۰ جولائی ۲۰۰٦ کوتقریبا ۹۰ برس کی عمر میں احمد ندیم قاسمی راہی ملک عدم ہو گئے ۔احمد ندیم قاسمی جیسی ہمہ جہت شخصیت کا چلا جانا ادب کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔ ان کو لاہور میں ہی مدفن کیا گیا۔ان کی ادبی خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان کے محکمہ ڈاک نے احمد ندیم قاسمی کی تیسری برسی پر ایک یادگار ٹکٹ جاری کیا جس پر قاسمی صاحب کا عکس بنا ہوا تھا۔

Advertisements