تعارف

الطاف فاطمہ بھارتی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ۱۰ جون ۱۹۲۷ء کو پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان لاہور آ کر آباد ہو گیا تھا۔ لکھنؤ کی تہذیبی روایات کا اثر الطاف فاطمہ کی شخصیت پر نمایاں تھا۔ انہوں نے جامعۂ پنجاب سے اردو ادب میں ایم-اے کیا جس کے بعد وہ اسلامیہ کالج برائے خواتین لاہور میں اُردو کی استاد مقرر ہوئیں۔ الطاف فاطمہ کو پاکستان اور برطانوی ہند کی شہریت حاصل تھی۔

ادبی آغاز

الطاف فاطمہ کا شمار پاکستان کی نامور ناول نگار، افسانہ نگار، مترجم اور معلم خواتین میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کے متنوع تجربات کی عکاسی کرتی ہیں۔ فاطمہ ایک پاکستانی قوم پرست تھیں جن کے ناولوں اور مختصر کہانیوں میں حب الوطنی اور مذہبی ذائقہ موجود تھا۔فاطمہ کا اپنا ہی کرشمہ اور انداز تھا جو ان کے کرداروں میں جھلکتا ہے ، خاص کر لڑکیاں اور خواتین جو محکوم وجود سے ہٹ گئیں اور اپنے کنبے اور معاشرے کے معیار و اقدار کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔

ناول نگاری

الطاف فاطمہ نے بہت سے ناول اور افسانے لکھے۔ ان کا پہلا افسانہ ۱۹۶۲ء میں شائع ہوا۔ ان کے مشہور ناولوں میں نشانِ محفل، تارِ عنکبوت، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، دستک نہ دو شامل ہیں۔

الطاف فاطمہ نے ۱۹۷۱ء میں پاک بھارت جنگ کے بعد مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر بھی ایک ناول ’چلتا مسافر‘ تحریر کیا تھا۔ چلتا مسافر (دی ایور ٹریولر) الطاف فاطمہ کا ایک اور شاندار ناول ہے جو برصغیر میں ایک نہیں بلکہ دو پارٹیشنز پر مشتمل ہے۔ ۱۹۴۰ سے ۱۹۷۰ کے عشروں تک کے واقعات ’چلتا مسافر‘ میں پیش کیے گئے ہیں۔

الطاف فاطمہ نے اپنے دیگر دو ناولوں ، ’’ نشانِ منزل ‘‘ اور ’’ خواب غر ‘‘ کے علاوہ ، ایسی درجنوں مختصر کہانیاں بھی لکھیں جن میں روایتی حب الوطنی کی روایت ہے۔ مثال کے طور پر ، ان کی کہانیوں کو ۱۹۶۵ اور ۱۹۷۱ کی پاک بھارت جنگوں کے پسِ منظر کے خلاف لکھا گیا ہے جس کا موازنہ ہمارے فوجیوں کے لئے میڈم نور جہاں کی مشابہت سے کیا جاسکتا ہے۔ الطاف فاطمہ نے مختصر کہانیوں کے مختلف مجموعے شائع کیے ، جیسے ’’ وہ جسے چاہا گیا ‘‘ ، ‘دیواریں جب گریا کرتی ہیں’ ، اور ‘تارِ عنکبوت’ وغیرہ وغیرہ۔

الطاف فاطمہ نے ہمیشہ ناول اور افسانے اس قدر فن کی گہرائی میں ڈوب کر لکھے کہ بقول ان کے سقوط ڈھاکہ پر انہوں نے اپنا ناول چلتا مسافر دس برس ميں مکمل کيا تھا۔

ان کی تحریروں کی تفصیل

  • سچ کہانیاں : (تراجم – افسانے)
  • اُردو میں فنِ سوانح نگاری اور اس کا ارتقا (تحقیق و تنقید )
  • روزمرہ آداب
  • بڑے آدمی اور ان کے نظریات (ترجمہ)
  • نغمے کا قتل (ترجمہ)
  • خواب گر (ناول)
  • چلتا مسافر (ناول)
  • دستک نہ دو (ناول)
  • نشانِ محفل (ناول)
  • تارِ عنکبوت (افسانے)
  • جب دیواریں گریہ کرتی ہیں (10 افسانے)
  • وہ جسے چاہا (افسانے)

شاعر حسین مجروح ، جو ارباب ذوق کے سکریٹری جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں ، نے کہا کہ :
پچھلے بیس سالوں سے الطاف فاطمہ نے دوستوں سے علیحدگی اختیار کرنا شروع کردی تھی اور وہ بہت زیادہ معاشرتی نہیں تھیں۔
انہوں یہ بھی کہا کہ :
فاطمہ نے ہمیشہ کم پروفائل رکھا ہے اور کبھی بھی ممتاز مصنف کی حیثیت سے توجہ اور فوائد حاصل ہونے کا استعمال کبھی نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک مصنف کی حیثیت سے شاذ و نادر ہی منظر عام پر آتی ہیں اور شاید اسی وجہ سے انہیں وہ جگہ نہیں دی گئی تھی جہاں اسے ہونا چاہئے تھا۔

آخری ایام

الطاف فاطمہ لاہور میں مقیم تھیں اور طویل عرصے سے علیل تھیں۔ فاطمہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ الطاف فاطمہ ۲۹ نومبر ۲۰۱۸ کو وفات پا گئیں۔