• مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتے
  • جو ہر خوشی میں ترے غم کو بھی سمو دیتے
  • کہاں وہ شب کہ ترے گیسوؤں کے سائے میں
  • خیال صبح سے ہم آستین بھگو دیتے
  • بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے
  • ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے
  • بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہ
  • کنارے والے سفینہ مرا ڈوب دیتے
  • جو دیکھتے مری نظروں پہ بندشوں کے ستم
  • تو یہ نظارے مری بے بسی پہ رو دیتے
  • کبھی تو یوں بھی امنڈتے سرشکِ غم مجروحؔ
  • کہ میرے زخم تمنا کے داغ دھو دیتے