تعارف

خدیجہ مستور ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو بریلی (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم لکھنؤ سے حاصل کی تھی۔ کچھ عرصہ ان کا قیام بمبئی میں بھی رہا لیکن تقسیم ہندوستان کے بعد ان کا خاندان لاہور چلا آیا۔ ان کے والد ڈاکٹر طہور احمد خان برٹش آرمی ڈاکٹر تھے۔ ان کے انتقال کے بعد وہ اپنی ہمشیرہ حاجرہ مسرور کے ہمراہ لاہور چلی آئیں اور پھر یہیں آباد ہو گئیں۔ خدیجہ مستور نے ۱۹۴۲ میں افسانے لکھنے شروع کیے۔

ادبی آغاز

انہوں نے کم عمری میں ہی کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں اور ممبئی میں قیام کے دوران ان کے فن کو بہت جلا حاصل ہوئی۔ لیکن ان کی اصل تخلیقات لاہور کے قیام کی دین ہیں۔ خدیجہ مستور اور ان کی افسانہ نگار بہن حاجرہ مسرور کو احمد ندیم قاسمی جیسی شخصیت کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد تو وہ مسلسل لکھتی رہیں اور ان کی کہانیاں بھارت اور پاکستان کے مقتدر ادبی رسائل میں شائع ہوئیں۔ انہوں نے بہت جلد نمایاں ادبی مقام حاصل کر لیا۔ ان کا افسانہ” محافظ الملک“ بے حد مشہور ہوا جو ایک خاص دور کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’ تلاش گمشدہ ، درد ، کھیل ، بوچھار ، چند روز ‘ کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

ناول نگاری

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم پر متعدد اردو ناول نگاروں نے ناول لکھے۔ جن میں خدیجہ مستور کا "آنگن” بہت ہی اہمیت کا حامل ناول ہے۔ اس میں تقسیم ہند کی نہ صرف تاریخ لکھی بلکہ اس ناول میں اس دور کا جیتا جاگتا معاشرہ بھی نظر آتا ہے۔

اعزازات

ان کے ناول ’ آنگن‘ پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ادبی انعام ’ آدم جی پرائز ‘ بھی ملا۔ اس ناول میں خدیجہ مستور کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔

تصانیف

تاہم ان کے دیگر ناول "تھکے ہارے ، چند روز، زمین ، کھیل ، ٹھنڈا میٹھا پانی اور بوچھاڑ” نے بھی ان کی مقبولیت میں چار چاند لگائے۔
انہوں نے اپنے ناولوں میں کئی سماجی ، تہذیبی ، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی تحریکوں کا جائزہ لیا ہے اور ان کا ماہرانہ تجزیہ پیش کیا ہے۔ خدیجہ مستور کا شمار ایک سنجیدہ اور گہری سوچ رکھنے والی تخلیق کار کی حیثیت سے ہوتا ہے۔

خدیجہ مستور نے اپنے دوسرے ناول ”زمین“ میں قیامِ پاکستان کے وقت اور اس کے بعد جو حالات تھے ان کو بڑی فن کاری کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ ”آنگن“ قیامِ پاکستان کے بعد کی ابتدائی زندگی کے حوالے سے تخلیق شدہ ناولوں میں اہم ناول ہے۔ خدیجہ مستور کا دوسرا ناول ”زمین“ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے ناول ”آنگن “ ختم ہوا تھا۔ ”زمین “کو” آنگن “ کی توسیع بھی کہا جاتا ہے۔

ہاجرہ مسرور کے افسانے زندگی، فن اور شخصیت کے معتدل اور متوازن امتزاج کے عکاس ہیں۔ ان کی کہانیوں میں حیاتِ انسانی کی معمولی سی تبدیلی کی بھی تصاویر دکھائی دیتی ہیں۔ وہ فرد کی ذہنی اور جذباتی کیفیتوں سے بھی غافل نہیں ہیں۔ وہ پورے اخلاص کے ساتھ زندگی سے رشتہ جوڑتی ہیں۔ خدیجہ مستور نے اپنے فن کے ذریعے اردو ادب کی جو خدمات سر انجام دی ہیں انہیں تاریخ ادب اردو میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

آخری ایام

خدیجہ مستور کا انتقال ۲۶ جولائی ۱۹۸۲ کو عارضہ قلب کے سبب لندن میں ہوا ان کا جسد خاکی لاہور لاکر قبرستان گورومانگٹ (کبوتر پورہ ) میں سپرد خاک کیا گیا۔

Advertisements