Advertisement

تعارفِ غزل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام میر تقی میر ہے۔

تعارفِ شاعر

میر تقی میر آگرے میں پیدا ہوئے۔ آپ کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ آپ کی غزلوں میں انسانی جذبات ، درد و غم ، خود داری ، توکل ، قناعت پایا جاتا ہے۔ آپ کے علمی سرمائے میں چھ دیوان ، اردو شعرا کا ایک تذکرہ ، متعدد مثنویاں ، مرثیے ، ایک سوانح حیات اور ایک فارسی دیوان شامل ہے۔ میر تقی میر کا سارا کلام کلیاتِ میر کی شکل میں موجود ہے۔

Advertisement
میر تقی میر کی غزلیں 1

(غزل نمبر ۱)

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

اس شعر میں شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں اس بیماری دل یعنی محبت نے ہر کام کو الٹا کردیا اور ہم نے جتنی تدبیریں خود کو بچانے کے لیے کی تھیں وہ تمام کی تمام تدبیریں الٹی ہوگئیں اور ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا عہد جوانی رو رو کر کاٹا اور جب ہم بوڑھے ہوگئے اور مرنے کے قریب ہوگئے تو ہم نے آنکھیں بند کرلیں یعنی کہ ہم نے پوری رات تمھاری یاد میں جاگ کر گزار دی اور جیسے ہی صبح کی روشنی پھیلی تو ہم آرام کرنے کی غرض سے سوگئے۔

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم انسانوں پر اپنی مرضی کی تہمت بلاوجہ لگائی گئی ہے کیونکہ ہوتا وہی ہے جو ہماری قسمت میں لکھ دیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم انسانوں کو فقط یہاں بدنام کیا جاتا ہے اور اس شعر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مجھ پر تو ناحق یہ تہمت لگائی گئی ہے کہ میں اپنی مرضی کرتا ہوں کیونکہ ہوتا تو وہی ہے جو آپ چاہتے ہیں۔

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

اس شعر میں شاعر نے کہتے ہیں کہ ہمارے محبوب کہتے ہیں کہ ہم ان کی بے ادبی کرتے ہیں حالانکہ ہم تو جب بےہوش بھی ہوتے ہیں تو اپنے محبوب کی بےادبی نہیں کرتے اور جہاں بھی جاتے ہیں اپنے محبوب کو ہی سجدہ کرتے ہیں۔

یاں کے سپید و سیاہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا کے نظام میں ہمیں صرف یہ اختیار حاصل ہے کہ ہم رات کو روتے رہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے اور پھر ہم دن کو جوں توں شام کردیتے ہیں یعنی ہم ہر وقت بس اپنے محبوب کی یاد میں غرق وقت کو کاٹنے کی کوشش ہی کرسکتے ہیں کیونکہ وقت کا چکر ہمارے اختیار سے باہر ہے۔

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری اتنی توجہ کے باوجود اگر تم کہیں اور متوجہ ہوگئے تو تمھیں اپنی جانب متوجہ کرنے والے لوگ بھی یقیناً بہت شاطر ہوں گے ورنہ ہمارے محبوب کی توجہ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

(غزل نمبر ۲)

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بھی ہمارے سامنے کوئی تمھارا ذکر کرتا ہے تو ہم بےچین ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنا دل تھام لیتے ہیں اور تمھاری یاد ہمیں بےچین کردیتی ہے۔

قسم جو کھائیے تو طالعِ زُلیخا کی
عزیزِ مصر کا بھی صاحب ایک غلام لیا

اس شعر میں شاعر حضرت یوسف کے واقعہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زلیخا کی محبت کی قسم جس نے ایک غلام سے محبت کی ہمیں بھی تم سے اتنی ہی محبت ہے۔ جیسے انھوں نے بھی محبت میں یہ نہیں دیکھا کہ ان کا محبوب ایک غلام ہے ویسے ہی ہمیں بھی فرق نہیں پڑتا کہ میرا محبوب کون ہے۔

خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے
نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ مسجد کے آگے شراب خانے بھی موجود تھے اور وہاں بھی بہت سے لوگ محفل سجاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے تو اپنے محبوب کو دیکھنے کے بعد ہی نشہ سا محسوس ہونے لگتا ہے اور ساقی کی نگاہ نے اپنا انتقام بہت اچھے طریقے سے لیا ہے۔

وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی
نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی بداخلاقی اور سخت دلی کا ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا محبوب جب بھی میرے سامنے آیا وہ کبھی بھی مجھ سے راستے میں ٹھیک سے نہیں ملا۔ وہ ہمیشہ مجھے دکھ کر نظریں پھیر لیتا تھا اور اگر میں اسے سلام کرتا تھا تو وہ مجھے اس سلام کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔

مزا دکھاویں گے بے رحمی کا تری صیاد
گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہیں جس نے ان کے دل کو اپنا قیدی بنا لیا ہے اور کہتے ہیں کہ تمھاری بے رحمی سے ہم پر جو اثر ہوتا ہے ہم تمھیں بھی وہ مزہ چکھائیں گے اگر ہماری پریشانی نے ہمیں بخش دیا اور اگر ہم بھی تمھاری طرح بےرحم ہوگئے تو ضرور تم سے تمھاری بے رخی کا بدلہ لیں گے۔

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

اس شعر میں شاعر اہنی بدقسمتی کا اظہار کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے اہنی محبت تمام عمر سلیقے سے نبھائی اور میری محبت کو تمام عمر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ
پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ نے شک میں شاعروں میں گوشہ گزیں تصور کیا جاتا ہوں لیکن تیری توجہ کے لیے کیے گئے میرے شور نے پوری زمین کا احاطہ کیا اور زمین پر موجود ہر مخلوق نے میرے اس شور سنا اور محسوس کیا لیکن توہی میری جانب سے غافل بنا رہا۔

سوالوں کے جوابات

سوال ۱ : ذیل کے اشعار کا مطلب اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

اس شعر میں شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں اس بیماری دل یعنی محبت نے ہر کام کو الٹا کردیا اور ہم نے جتنی تدبیریں خود کو بچانے کے لیے کی تھیں وہ تمام کی تمام تدبیریں الٹی ہوگئیں اور ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

یاں کے سپید و سیاہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا کے نظام میں ہمیں صرف یہ اختیار حاصل ہے کہ ہم رات کو روتے رہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے اور پھر ہم دن کو جوں توں شام کردیتے ہیں یعنی ہم ہر وقت بس اپنے محبوب کی یاد میں غرق وقت کو کاٹنے کی کوشش ہی کرسکتے ہیں کیونکہ وقت کا چکر ہمارے اختیار سے باہر ہے۔

قسم جو کھائیے تو طالعِ زُلیخا کی
عزیزِ مصر کا بھی صاحب ایک غلام لیا

اس شعر میں شاعر حضرت یوسف کے واقعہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زلیخا کی محبت کی قسم جس نے ایک غلام سے محبت کی ہمیں بھی تم سے اتنی ہی محبت ہے۔ جیسے انھوں نے بھی محبت میں یہ نہیں دیکھا کہ ان کا محبوب ایک غلام ہے ویسے ہی ہمیں بھی فرق نہیں پڑتا کہ میرا محبوب کون ہے۔

مزا دکھاویں گے بے رحمی کا تری صیاد
گراضطراب اسیر نے زیر دام لیا

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہیں جس نے ان کے دل کو اپنا قیدی بنا لیا ہے اور کہتے ہیں کہ تمھاری بے رحمی سے ہم پر جو اثر ہوتا ہے ہم تمھیں بھی وہ مزہ چکھائیں گے اگر ہماری پریشانی نے ہمیں بخش دیا اور اگر ہم بھی تمھاری طرح بےرحم ہوگئے تو ضرور تم سے تمھاری بے رخی کا بدلہ لیں گے۔

سوال ۲ : مندرجہ ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :

محاورےجملے
کام تمام کرنا :ہم نے مچھر مار دوائی کا استعمال کر کے مچھروں کا کام تمام کردیا۔
آنکھیں موند لینا :میں اکثر آنکھیں موند کر تصور میں کعبہ کی زیارت کرتا ہوں۔
رام کرنا : سارا نے سب کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کرلیا۔
مزا دکھانا : اس نے ساجد کو نظر انداز کر کے اس کی بےرخی کا مزا دکھایا۔
سپید و سیاہ میں داخل ہونا :مکھیاں کھڑکی کھلتے ہی سپید و سیاہ میں داخل ہوگئیں۔

سوال ۳ : میر تقی میر کی جو غزلیں آپ نے پڑھیں ہیں ان کی روشنی میں میر کے کلام کی خصوصیات بیان کیجیے۔

میر تقی میر کی جو غزلیں ہم نے پڑھی ہیں ان کی روشنی میں میر کے کلام کی یہ خصوصیات سامنے آتی ہیں کہ وہ فارسی تراکیب و تشبیہات کو خوبصورتی سے اپنی غزل میں پرو دیتے ہیں۔ آپ کے کلام میں خدا اور محبوب دونوں کے عشق کا تصور ملتا ہے۔ آپ کے اشعار میں سادگی پائی جاتی ہے۔ آپ کی شاعری میں خودداری کا عنصر بھی نمایاں ہوتا ہے اور آپ کی شاعری میں عشق کا ذکر بھی ہوتا ہے۔