Advertisement

تعارف

لکھنؤ ایک عظیم الشان شہر ہے جس میں بیشمار محلے ہیں۔ بعض کے نام بھی اب لوگوں کو یاد نہیں رہے۔ انہی محلوں میں کوچہ آفریں علی خان بھی تھا جو باگ ٹولہ کے نام سے مشہور ہے۔ اسی محلہ کے ایک مکان میں مرزا ہادی رسوا 21 اکتوبر 1858 میں پیدا ہوئے۔

Advertisement

حالات زندگی

مرزا رسوا کے والد کو ریاضی اور نجوم سے بہت شوق تھا۔ مرزا صاحب نے فارسی کی تمام درسیاست اور ریاضی میں اقلیدس اور حساب اور احکام نجوم کے بعض رسائل اپنے والد سے پڑھے۔ اس کے بعد مختلف مولویوں سے عربی پڑھی۔ رسمی سی تعلیمی کے بعد انھوں نے از خود کتاب بینی شروع کی۔ اسی دوران مرزا رسوا نے انگریزی بھی پڑھنا شروع کی۔رفتہ رفتہ انٹر پاس کر لیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کو کوئٹہ بلوچستان میں ریلوے میں ملازمت مل گئی۔ اسی دوران ان کو کمیسٹری کا ایک عربی رسالہ ملا جس سے ان کی توجہ اس جانب مبذول ہو گئی۔ جدید کمیائی آلات منگوائے اور لکھنو واپس ہو لیئے۔

Advertisement

مرزا رسوا کا زمانہ متضاد کیفیات کا حامل تھا۔ دو تہذیبی قدریں شکست و ریخت کے عمل سے گذر رہی تھیں۔ ملکی تہذیب نزاعی کیفیت سے دوچار تھی اور مغربی تہذیب اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ نمو پذیر ہورہی تھی۔ یہ زمانہ سیاسی، تہذیبی ، معاشی، سماجی اور ادبی ہر لحظ سے بحرانی تھا اور عبوری بھی۔ سلاطین و نوابین اور عام لوگ سب کے سب معاشی زبوں حالی کے شکار تھے۔ رسوا کی آنکھوں نے انھیں بھی دیکھا تھا جو کبھی صاحب تخت و تاج ہوتے تھےاور انھیں بھی مانگنے پر مجبور کر دیئے گئے۔

Advertisement

ناول نگاری

اردو ناول نگاری میں مرزا محمد ہادی رسوا کا نام خاص اہمیت کا حامل ہے۔ رسوا سے اردو ناول کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں نہ صرف حقیقت نگاری کو اپنایا ہے بلکہ پہلی مرتبہ ناول نگاری کے تمام فنی لوازمات کو برتنے کی کوشش کی ہے۔ مرزا رسوا نے اپنے بیش تر ناولوں میں عورتوں کے معاملات و مسائل اور ان کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو اپنا موضوع بنایا ہے اور ان کی پست سماجی حیثیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اب تک اس پہلو پر کوئی بھی خصوصی کام یا خاطر خواہ کام منظر عام پر نہیں آسکا ہے۔

ان کے ایک ناول "امراؤ جان ادا” کے نسوانی کرداروں کا تعلق کوٹھے کی زندگی سے ہے جبکہ "شریف ذادہ” کے نسوانی کرداروں کی دنیا ان کے گھریلو ماحول ہے۔

Advertisement

مرزا رسوا ایک جدت پسند طبیعت، گہرے شعور، باریک بین نگاہ اور شدید قوت مشاہدہ کے مالک تھے۔ شعروادب کے علاوہ انھیں ریاضی اور فلسفے کا بھی گہرا لگاؤ تھا۔ چوں کہ اس زمانے میں نفسیات کو فلسفے کی ایک شاخ سمجھا جاتا تھا اس لیے فلسفے کے ساتھ ساتھ رسوا نے منطق اور نفسیات سے بھی لگاؤ رکھا۔ انہیں علوم کے زیر اثر رسوا کے ذہن اور شعور کی نشو نما ہوئی تھی لہذا حقیقت بینی اور استدلال ان کے انداز فکر کا جزو بن گئے تھے۔ اسی انداز فکر سے انھیں ناول نگاری میں بڑی مدد ملی۔

انھوں نے اپنے ناولوں میں حقیقت نگاری کو اپنایا اور اپنے عہد کی ترجمانی بڑے فنکارانہ انداز میں کی۔ کردار نگاری اور پلاٹ کی تعمیر میں رسوا اپنا جواب نہیں رکھتے۔ ان کے ناولوں کے پلاٹ توازن و تناسب، ہم آہنگی اور تنوع کے لحاظ سے نہایت مربوط اور گٹھے ہوئے ہیں۔ وہ قصے اور واقعات کو اس سلیقے کے ساتھ ترتیب دیتے ہیں کہ کہیں بھی ان کے پلاٹ میں ڈھیلا پن یا جھول نظر نہیں آتا۔

Advertisement

تصانیف

  • مرزا رسوا کی تصانیف میں
  • اختری بیگم،
  • خونی عاشق،
  • خونی جورو،
  • لیلی مجنوں،
  • شریف زادے،
  • امراؤ جان ادا،
  • ذات شریف،
  • ڈرامہ منظوم،
  • افشائے راز،
  • بہرام کی رہائی،
  • خونی بھید،
  • مثنوی لذت فنا،
  • مثنوی بہار ہند،
  • مثنوی امید وبیم،
  • کلیات اردو،
  • طلسمات قابلِ ذکر ہیں۔

آخری ایام

مرزا ٹائیفائیڈ کے مرض میں 21؍اکتوبر 1931ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال کرگئے۔ مرزا رسوا نے 74 برس کی عمر پائی۔مرزا ہادی رسوا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement