تعارف

اردو ادب میں بہت سے ادیب گزرے ہیں جو ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہوتے ہیں اور ان کو اس قدر عالم گیر مقبولیت ملتی ہے کہ ماؤنٹ ایوریسٹ کافی نیچے اور پیچھے رہ جاتا ہے۔ کچھ ادیب ایسے ہوتے ہیں جو امر ہو جاتے ہیں، لوگوں کو معلوم پڑے کہ ان کی لکھی کتاب آگئی ہے تو مارکیٹ میں ان کج کتابیں کم پڑنے لگتی ہیں گویا لوگ ان کا لکھا کھا جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک نام مستنصر حسین تارڑ کا بھی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ مشہور ناول نگار ، افسانہ نگار، ڈراما نویس، کالم نگار اور دانشور ہیں۔ ان کی پیدائش یکم مارچ ۱۹۳۹ کو لاہور میں ہوئی۔ لاہور میں ہی بچپن گزارا۔ تارڑ کا آبائی گاؤں گجرات تھا، ان کے والد محترم گاؤں کے کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ہمیں تارڑ صاحب کی شخصیت میں بہت زیادہ عناصر ان کے والد کے ملتے ہیں۔ یہ تارڑ کی خوش بختی تھی کہ ان کو سعادت حسن منٹو جیسے اردو کے لاثانی افسانہ نگار کا پڑوس ملا۔بچپن میں ان کی ابتدائی تعلیم تین اسکولوں سے ہوئی بعد ازیں میٹرک گورنمنٹ کالج سے کیا۔بیرونی ملک سے فلم ، ادب اور تھیٹر کی تعلیم حاصل کی اور صنعتی انجیئرنگ کی ڈگڑی حاصل کرنے کے بعد وہ وطن عزیز لوٹ آئے۔

ادبی سفر

تارڑ صاحب کی پہلی تحریر قندیل ۱۹۵۹ میں شائع ہوئی اور آپ نے لنڈن سے ماسکو تک سفر نامہ لکھا۔ ان کی پہلی کتاب نکلے تیری تلاش میں سفرنامہ شائع ہوا۔ تارڑ صاحب نے ٹی وی میں بطور اداکار بھی کام کیا ان کا پہلا ڈراما پرانی باتیں تھا۔ انھوں نے اپنا پہلا ڈراما بطور مصنت ۱۹۷۴ میں آدھی رات کا سورج سے شروع کیا۔ ٹیلی ویژن میں صبح کی نشریات کے آغاز پر مرکزی میزبان چنے گئے بطور میزبان بہت مدت تک کام کیا۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی لکھی تحریریں غیر ملکی یونی ورسٹیوں میں نصاب کے طور پر شامل ہیں۔ بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ان کے فن اور شخصیت کے حوالے سے ایک نفیس تحریر کیا گیا تارڑ ادب اور ٹیلی ویژن کے علاوہ مصوری ، فن کندھار اور آرکیاوجی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

اسلوب

ان کے سفر ناموں میں اور ناولوں میں تاریخ کا ایک وسیع پہلو نمایاں ہوتا ہے جو کہ ہر ایک سے ان کو منفرد بناتا ہے اور قاری کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔وہ اسی وجہ سے ایک کامیاب مصنف ماننے جاتے ہیں لوگ جن کو شوق سے پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدے اور ریسرچ کا گہرا پہلو آپ کو ان کی تحریروں میں ملتا ہے جس سے لوگ لطف لیتے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ ہمارے ملک کا اعزاز ہیں وگرنہ اگر ان کے ناول کسی دوسرے ملک میں ان کی زبان میں لکھے جاتے تو ان کو مختلف یونی ورسٹیوں سے علم بشریات کے اعزازات پیش کیے جاتے۔ تارڑ صاحب نے نا جانے کس صدی سے اپنے ثقافتی ورثے کو نکال لایا ہے اور نوجوانوں کو پڑھنے پر مجبور کردیا ہے۔ ان کے ناولوں میں کہانی کردار اور زبان کا گہرا اثر ہے۔کہانی میں انرجی اور اندرونی ربط شروع سے آخر تک بدستور موجود ہے۔کردار کے بارے میں صرف ایک کا ذکر کافی ہے وہ ہے عورت کا مرکزی کردار۔اردو فکشن میں اس سے زیادہ زور دار نسوانی کردار مشکل سے دستیاب ہوگا۔

اعزاز

ہم تارڑ صاحب کے مشکور و ممنون ہیں ان کی ادب کے لیے خدمات کسی اعزاز کی محتاج نہیں مگر ان کو حکومتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ملا ہے۔

حرفِ آخر

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ اس ملک کا عزاز ہے کہ وہ بقید حیات ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان کی کم و بیش ۷۰ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سفرنامے ،کالم ،ناول اور ڈرامے شامل ہیں۔

Advertisements