Back to: Best Urdu Nazams
نظم کی مختصر تشریح
| شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار سرنگوں ،محو ہیں بنانے میں دامنِ آسماں پہ نقش و نگار |
شام کے بعد بل کھاتے ستاروں سے آہستہ آہستہ رات نمودار رہی ہے، ہوا یوں مجھے فرحت بخش رہی ہے جیسے کوئی مجھ سے پیار سے کی بات کر رہا ہو، قید خانے کے صحن میں شاخیں جھکائے درخت یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے آسمان کی گود میں کسی نے مصوری کر دی ہو۔
| شانۂ بام پر دمکتا ہے! مہرباں چاندنی کا دستِ جمیل خاک میں گھل گئی ہے آبِ نجوم نور میں گھل گیا ہے عرش کا نیل سبز گوشوں میں نیلگوں سائے لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں موجِ دردِ فراقِ یار آئے |
قید خانے کی چھت کے کنارے سے چاندنی پھیلتی جا رہی ہے، ستاروں کی روشنی زمین میں گھلتی محسوس ہوتی ہے اور چاند کی روشنی سے آسمان بھی نیلگوں ہو رہا ہے، سبزے میں یہ نیلی روشنی یوں لہلہا رہی ہے جیسے محبوب کی یاد مسلسل دل کو بے چین رکھتی ہے۔
| دل سے پیہم خیال کہتا ہے اتنی شیریں ہے زندگی اس پل ظلم کا زہر گھولنے والے کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا چاند کو گل کریں تو ہم جانیں |
یہ منظر دیکھ کر میرے دل میں مسلسل خیال آتا ہے کہ زندگی کس قدر حسین ہے، ظلم کرنے والے بھلا کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں، اگر انھوں نے ہماری محفلوں کی شمع ہمیں قید کر کے بجھا بھی دی ہے تو کیا غم ہے، وہ چاند کی روشنی کو کبھی نہیں بجھا سکتے۔
نظم کا تجزیہ
یہ نظم فیض نے دورانِ اسیری لکھی، فیض ”اگرتلہ سازش کیس” میں چار سال پابندِ سلاسل رہے، لیکن ان کے انقلابی نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ قید میں بھی شاعری کے ذریعے اپنے افکار کا پرچار کرتے رہے، زنداں کی ایک شام اُن کی معروف نظموں میں سے ایک ہے، جس میں انھوں نے جیل میں ڈھلنے والی شام کی تصویر الفاظ سے کھینچی ہے، فیض کو امیجری میں ملکہ حاصل ہے، ذرا نظم کی بُنت پر غور کریں، شام کے پیچ و خم ستاروں سے /زینہ زینہ اتر رہی ہے رات۔۔۔ شانہ بام پر دمکتا ہے /مہرباں چاندنی کا دستِ جمیل/خاک میں گھل گئی ہے آبِ نجوم/نور میں گُھل گیا ہے عرش کا نیل۔۔۔تمام الفاظ اور مصرعے متناسب رنگوں کی صورت ایک دوسرے میں گُھلتے گئے ہیں اور یہ رنگ اپنے پڑھنے والے پر ایسی شبیہ (امیج) ابھارتے ہیں جو تاثیر سے لبریز ہے، جیل میں بند ایک قیدی کے سامنے ڈھلتی شام کی اس سے بہتر تصویر کشی ممکن نہیں۔
شعرا نے وقت اور موسم کو مختلف کیفیات سے منسوب کیا ہے، صبح اگر امید کی علامت ہے تو شام محبوب کی یاد دلانے کا سبب ہے، یہ یاد شعرا کو اداس کر دیتی ہے، لیکن فیض کا محبوب انقلاب ہے، اس لیے جب وہ شام کے اس منظر کو دیکھتے ہیں تو ان کا ذہن مزاحمت کو راغب ہوتا ہے، اور یہ رویہ اداسی کی بجائے انھیں توانائی بخشتا نظر آتا ہے، جبھی وہ اپنے رقیب یعنی سرمایہ داری نظام کو یوں للکارتے ہیں، ظلم کا زہر گھولنے والے /کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل۔
فیض کا ایک اور ممتاز وصف کلاسیکی اصطلاحات کو نئی معنویات سے برتنا ہے، جس سے ان کی شاعری میں کلاسیکی رچاؤ اور آہنگ بھی ہے اور ترقی پسندانہ رحجانات کا اظہار بھی، وصال و فراق، چاند اور چاندنی، عاشق و معشوق اور دیگر کئی الفاظ کو فیض نے نئے معنی بخشے ہیں، نظم کے اختتامی مصرعے دیکھیں، جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں / وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا /چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں۔ یہاں چاند کو جس طرح فیض نے برتا ہے یہ انھی کا خاصا ہے، چاند علامت ہے روشنی کی ،جس طرح چاند کو کبھی بُجھایا نہیں جا سکتا، اسی طرح وہ روشنی جو افکار و نظریات سے پھیل رہی ہے، اسے کبھی مقید نہیں کیا جا سکتا۔
بقول گوپی چند نارنگ فیض کی اہمیت اس میں ہے کہ انھوں نے جمالیاتی احساس کو انقلابی فکر پر قربان نہیں کیا اور اس کے برعکس بھی صحیح ہے یعنی فیض نے انقلابی فکر کو جمالیاتی احساس پر قربان نہیں کیا. یہ نظم بھی اسی تاثر کی دلیل ہے۔
| تحریر | محمد واصف رحیم |