Advertisement

فلسفہ وحدۃ الوجود و وحدۃ الشہود

  • 1.1 تمہید
  • 1.2 مقاصد
  • 1.3 فلسفہ وحدۃ الوجود وحدۃ الشہود / تصور وحدۃ الوجود و وحدۃ الشہود
  • 1.4 عمومی جائزہ
  • 1.5 سوالات
  • 1.6 امدادی کتب

1.1 تمہید

فلسفہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود تصوف کا معرکۃالآرا مسئلہ ہے۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی سے فلسفہ وحدت الوجود منسوب ہے جو کئی صدیوں تک تصوف کی منازل میں موضوع بحث بنا رہا۔ ایران و ہندوستان میں اس فلسفہ وحدت الوجود پر صوفیا کے مکاشفات کی بنیاد بنی رہی۔ لیکن آخری دور کے صوفیا نے اس پر غوروفکر کیا کہ اس کے ماننے سے وجود باری تعالیٰ پر بعض پہلوؤں سے حرف آتا ہے لہذا انہوں نے ایک اور اصطلاح اختراع کی جس کو وحدت الشہود کہا جاتا ہے۔ اس سبق میں ان دونوں تصورات پر سیر حاصل گفتگو کی جائے گی۔

1.2 مقاصد

اس سبق کا مقصد یہ ہے کہ تصوف کی تفہیم و تعبیر کے متعلق فلسفہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی جو بحثیں صوفیا کے مابین ہوئی ہے ان کو آسان پیرائے میں میں پیش کیا جائے تاکہ طلبا ان تصورات کے الگ الگ پہلوؤں کو سمجھ سکیں اور ان کے لئے اردو شاعری میں پیش کیے جانے والے وحدت الشہود اور وحدت الوجود کے مسائل تک رسائی آسان ہوجائے۔

1.3 فلسفہ وحدۃ الوجود ووحدۃ الشہود

تصوف میں یہ خیال راہ پا گیا کہ دنیا ہیچ ہے، انسان ناپائیدار ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ صرف ایک ہی وجود ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور وہ خدا کی ذات ہے، اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی اور باقی رہنے والی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے لیکن اس عقیدے کے ساتھ جو دیگر خیالات ملے کہ انسان کی کوئی حیثیت نہیں، یہ ناپائیدار ہے، جو کچھ دنیا میں واقع ہونے والا ہے اس میں بندے کا کوئی عمل دخل نہیں جو قسمت میں ہے وہ ہو کے ہی رہے گا۔

Advertisement

کہا جاتا ہے کہ ان سارے خیالات کو تائید یونانی مفکر افلاطون کے اس نظریے سے جلا ملی۔ اس کا کہنا تھا کہ دنیا فریب نظر ہے اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ حقیقی وجود صرف اور صرف ذات باری کا ہے یعنی عالم مثال میں صرف ایک ہی وجود ہے دیگر دنیا کی اشیاء اس کی پرچھائیاں ہیں۔ افلاطون نے دنیا کے وجود اور اس کی حقیقت کو غار کی ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کی جو تمثیلی غار کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فرض کرو ہمیں پابہ زنجیر کر کے کسی اندھیرے غار میں ڈال دیا جائے اور ہماری پشت غار کے دہانے کی جانب ہو اور ہم اس طرح زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں کہ دائیں بائیں اور پیچھے نہ دیکھ سکیں۔ ایسی حالت میں ہمارے پیچھے آگ روشن کر دی جائے تو ہمیں اپنے سامنے حرکت کرتی ہوئی پرچھائیاں نظر آئیں گی۔ تمام دنیا کا وجود بس ان پرچھائیوں کی مانند ہے یہاں تک کہ حواس ظاہرہ کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کو بھی افلاطون نے غیر حقیقی قرار دے دیا۔

اس کے خیال کے مطابق دنیا محض نظر کا دھوکا ہے اور آخرت ہی سب کچھ ہے۔ جب فلسفہ ترجمہ ہوکر عربی زبان میں آیا تو بعض صوفیاء کو یہ خیال بہت پسند آیا کیونکہ انہوں نے اس نظریہ میں تصور وحدانیت کی جھلک دیکھی تو انہوں نے بلا تامل اسے قبول کر لیا۔کہا جاتا ہے کہ یہی فلسفہ مسلمانوں میں ”وحدت الوجود“ کے نام سے مشہور و مقبول ہوا۔ سب سے پہلے ذوالنون مصری نے اس نظریے پر ایمان لایا۔ ان کا ماننا یہ تھا کہ محبت الٰہی جب اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو بندے کی انفرادی حیثیت ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ خدا کی ذات میں جذب ہو جاتا ہے۔جیسے غالب نے استعاروں کے پیرائے میں یوں کہا ہے؀

”قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن“
اسی کو صوفیا تصوف کی اصطلاح میں فنا فی اللہ کہتے ہیں۔ با یزید بسطامی کا بھی یہی مسلک رہا ہے ان سے مشہور ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خدا سے دعا کی کہ مجھے اپنے تک رسائی حاصل کرنے کا راستہ دکھا۔ جواب ملا: ”بایزید پہلے اپنے آپ کو تین طلاق دے پھر ہمارا نام لے “ مزید بایزید کہتے ہیں کہ جب سانپ کی کینچلی اتارنے کے مانند میں بایزید سے نکلا تو دیکھا کہ عاشق و معشوق ایک ہی ذات کے دو روپ ہیں۔“ اسی جذب و مستی کے عالم میں منصور بن حلاج فنا فی اللہ ہو کر انا الحق کہہ اٹھے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا کا عقیدہ یہ ہو گیا کہ ایک ہی وجود خدا تعالیٰ کا ہے دیگر تمام موجودات و مخلوقات اسی کا پرتو (عکس) ہیں۔ ساری کائنات کی تخلیق اسی کے نور سے ہوئی ہے اور آخر کار ہر شے فنا ہو کر اسی کا جزو بن جائے گی۔ خدا تعالی ہی عین کائنات اور واجب الوجود ہے۔ وہ ایک ایسا سمندر بے کنار ہے کہ انسان اس کا ایک بے حقیقت قطرہ ہے۔

شیخ محی الدین ابن عربی:
شیخ محی الدین ابن عربی نے اس نظریے کی وضاحت بھی کی اور اس کی وکالت کا بھی کام انجام دیا۔ انہوں نے اس طرح وضاحت کی کہ ” نورِ خداوندی کے ماورا عدم محض کے سوا کچھ نہیں“ اس کی حمایت اور تائید میں انہوں نے قرآنی آیات اور احادیث کا سہارا لیا۔( ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں- القرآن) (اس نے آدم کو اپنی ہی صورت پر پیدا کیا- الحدیث) ( جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے بیشک اپنے رب کو پہچان لیا-القرآن) یہاں تک کہ ابن عربی کے اثر سے یہ فلسفہ وحدۃالوجود عالم اسلام میں عام ہوگیا۔ پھر اعراقی اور حافظ نے اپنی شاعری کے ذریعے اس کی اشاعت کی۔ حافظ نے کہا کہ دنیا کے کاروبار ہیچ ہیں اور دنیا کو فسانہ اور افسوس سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔اسی فلسفہ وحدت الوجود کا دوسرا نام ایران میں ”ہمہ اوست“ پڑ گیا۔ یعنی کائنات میں جو کچھ بھی ہے سب وہی ہے یعنی خدا تعالی کی ذات۔

وحدت الشہود

بعض اہل علم اور صوفی پر اس وحدت الوجود فلسفہ کے کچھ عیب کھلے تو انہوں نے اس اصطلاح کو بدل کر اس کے مدمقابل وحدت الشہود کو لایا۔جن اہل علم کو یہ اصطلاح پسند نہ آئی ان میں ایک بہت ہی اہم نام شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کا بھی ہے۔یہ بھی پہلے وحدت الوجود کے نظریے کے قائل تھے لیکن بعد میں اس سے انحراف کرلیا اور ”ہمہ اوست“ کے بجائے ”ہمہ از اوست“ کے قائل ہو گئے۔ یعنی یہ کائنات خدا کا جزو نہیں بلکہ اس کے حکم سے پیدا ہوئی ہے۔ مشرقی دنیا میں ان کے بعد ایک اور اہم نام مشرق و مغرب میں معتبر بن کر ابھرا وہ ہیں علامہ اقبال، وہ بھی پہلے وحدت الوجود کے حامی رہے اور بعد میں اس سے تائب ہوگئے۔

وحدت الوجود کے ماننے والوں نے اس تمثیل کے ذریعے اپنے نظریے کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ایک بڑا ہال ہے جس میں کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر لگائے گئے۔ اس ہال کے درمیان میں ایک چراغ روشن کیا جائے تو اس ایک چراغ کا عکس ہر ایک اس شیشے کے ٹکڑے میں نظر آئے گا جو اس ہال میں لگایا گیا ہے۔ اسی طرح ایک ہی خدا کا وجود ہے کائنات کی ہر چیز اس کا پرتو یا پر چھائی ہے۔

وحدت الشہود والوں نے نظریے کی تردید کی اور ایک تمثیل کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی۔ کہ آپ کا یہ ماننا ہے کہ جب بندہ خدا کا قرب حاصل کرتا ہے تو اس کا اپنا وجود فنا ہو جاتا ہے، صرف ایک ہی محبوب حقیقی کا وجود باقی رہتا ہے یہ محل نظر ہے۔ بلکہ یہ وحدت الوجود کی نہیں بلکہ وحدت الشود کی منزل ہے۔

وحدت الشہود کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ستارے دکھائی نہیں دیتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ستاروں کا وجود نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج اتنا روشن ہے کہ اس کی موجودگی میں ستارے دکھائی نہیں دیتے حالانکہ ان کا وجود آسمان پر ہے۔ اسی طرح جب بندۂ خدا اپنے محبوب حقیقی کے نور کا جلوہ دیکھتا ہے تو اس کی روشنی اس قدر ہوتی ہے اور وہ مستی و سرور کی منزل میں ہوتا ہے کہ اسے اپنے وجود کا احساس نہیں ہوتا۔ حالانکہ اس کا وجود ہے تو یہ وحدت الوجود کی منزل نہیں بلکہ وحدت الشہود کی منزل ہے۔

دوسرا معنی یہ ہے کہ ہر چیز خدا کا جزو نہیں بلکہ اس کے حکم سے ہے۔ ہر چیز خدا نہیں بلکہ ”ہمہ از اوست“ سب اس کے حکم سے وجود میں آیا ہے۔ یہ خالق کا جزو نہیں بلکہ خالق کے وجود یعنی ایک وجود کی گواہ ہے۔ یہ کائنات کی اشیاء اس ایک وجود کے ہونے کا ثبوت ہیں جسے وحدت الوجود نہیں بلکہ وحدت الشہود کہنا چاہیے۔

اقبال نے وحدت الوجود کے معنی میں ایک عیب فلسفے کے ذریعے بھی نکالا اور قرآنی مفہوم سے اسے سمجھا۔ اقبال کا کہنا ہے کہ:
” مجھے اس امر کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ میں ایک عرصے تک ایسے عقائد و مسائل کا قائل رہا جو بعض صوفیاء کے ساتھ خاص ہیں اور جو بعد میں قرآن شریف پر تدبر کرنے سے قطعاً غیر اسلامی ثابت ہوئے۔ مثلاً شیخ محی الدین ابن عربی کا مسئلہ وحدت الوجود “

فلسفے کی رو سے اس نظریے وحدت الوجود کی یہ خامی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ خدا تعالی کی ذات قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور مخلوقات حادث ہے یعنی پہلے نہیں تھی بعد میں پیدا ہوئی، اس خدا کے پیدا کرنے سے۔ اگر قطرہ کو سمندر میں ملا کر خدا کی ذات میں جذب ہونے کے نظریے کو دیکھا جائے تو پھر یہ خرابی لازمی آئے گی کہ محبوب حقیقی یعنی خداوندی قدیم اور کائنات حادثاث، جب یہ اس کا حصہ یہ جزو بن جائے گی تو خدا بھی حادث ہو جائے گا جو خدا کی شان کے منافی ہے۔لہذا قدیم و حادث ایک نہیں ہو سکتے۔ اس لیے یہ نظریہ باطل ہے۔ اس خرابی کو ہم ایک مثال کے ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایک برتن دودھ سے بھرا ہوا ہے جو صاف ستھرا ہے، اگر اس میں گندگی کا ایک قطرہ بھی پڑ جائے تو وہ بھی ناپاک یا گندا ہو جاتا ہے۔لہذا حادث کا قدیم کے ساتھ ملنا یا وصل ہونا یا جزو بننا باطل ہے۔اس نظریے وحدت الوجود کی تردید کے لیے وحدت الشہود نظریے کو پیش کیا گیا ہے۔ یہی وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے فلسفے کی حقیقت ہے۔

1.4 عمومی جائزہ

تصوف کی دنیا میں جہاں اور بہت سے نظریات پیدا ہوئے وہیں دو اہم نظریے وحدت الوجود اور وحدت الشہود بھی شامل ہوئے۔ صوفیاء کے ابتدائی دور میں تصوف کی بنیاد خالص کلام اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب عباسی دور میں یونانی فلسفے کے ترجمے عربی زبان میں ہوئے تو افلاطون کا ایک نظریہ عالم مثال میں ایک ہی وجود ہے اور باقی سارے وجود یعنی کائنات کی تمام اشیاء اسی ایک وجود کے پرتو یا عکس ہیں۔

صوفیا نے یہ دیکھا کہ یہ معنی وحدت الوجود کے تصور سے بہت قریب ہے لہذا ان کے مزاج سے اس کے لوازمات میل کھاتے تھے کہ دنیا فریب نظر ہے، آنکھوں کا دھوکا ہے، انسان کی کوئی حیثیت نہیں یہ ناپائیدار ہے، فنا ہونے والا ہے، باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔لہذا صوفیا نے ان معانی ترجمانی کے لیے ایک اصطلاح وضع کی جو وحدت الوجود کے نام سے مشہور ہوئی۔یہ اصطلاح سفر کرتے ہوئے ایران پہنچی، وہاں پر شعرا اور خاص طور پر حافظ نے اس کو خوب عام کیا ہے۔ فارسی کے زیر اثر اردو شعر و ادب میں داخل ہوا اور یہاں کے مذہبی مزاج لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا۔ پھر بعض اہل علم اور صوفیاء کی نظر میں اس نظریے کی خامی ظاہر ہوئی لہذا اس کی اصلاح کے لیے اس مفہوم کے تھوڑے تغیر کے ساتھ ایک دوسری اصطلاح وضع کی جس کا نام تصوف میں ”وحدت الشہود“ کے نام سے عام ہوا۔

1.5 سوالات

  • 1. عالم مثال کا نظریہ کس محقق نے پیش کیا؟
  • 2. وحدت الوجود کے نظریے کو سب سے پہلے کس صوفی نے قبول کیا؟
  • 3. وحدت الوجود کی تفصیلی وضاحت کیا ہو سکتی ہے؟
  • 4. وحدت الشہود کے دلائل کیا ہیں؟

1.6 امدادی کتب

  • 1. اقبال سب کے لیے۔۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری
  • 2. امام احمد رضا اور معارف تصوف۔۔محمدعیسی رضوی قادری
  • 3. اقبال شاعر اور مفکر۔۔ نورالحسن نقوی
  • 4. غالب اور تصوف۔۔ سید محمد مصطفی صابری
از تحریر ڈاکٹر محمد آصف ملک اسسٹنٹ پروفیسر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں و کشمیر