مناجات بیوہ مولانا الطاف حسین حالی کی مشہور نظم ہے۔ جس میں ایک بیوہ کی حقیقی زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس نظم میں بیوہ اللہ تعالی سے مخاطب ہیں اور کہتی ہیں کہ اے خدا! کائنات تیری ہی ذات سب کچھ ہے ،تو ہی اول و آخر ہے تو نے کسی کو خوشیوں سے بھر دیا اور کسی کی زندگی میں صرف دکھ ہی دکھ ہیں۔

تو کسی کو امیر بناتا ہے اور کسی کو غریب۔ کسی کے لیے ساری محبتیں امڈی آتی ہیں اور کوئی اس دنیا میں غم خوارِ ہے۔لیکن بیوہ کی زندگی میں دکھوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ شوہر کے مرنے کے بعد سسرال والے منحوس سمجھتے ہیں۔میکے والے مجھے اپنے اوپر ایک مار خیال کرتے ہیں۔ سماج میں اب کسی کا طرح کوئی مقام حاصل نہیں کر سکتی۔کیونکہ بیوہ کے لیے بھی سماج نے ہر خوشی اور بناؤ سنگھار چھین لیا ہے۔ میں سماج کے کسی بھی نامحرم سے بات نہیں کر سکتی۔ کیونکہ ایسا کرنے پر میرے اوپر انگلیاں اٹھنے لگتے ہیں۔ سماج کی روایتیں کچھ ایسی ہیں کہ میں نکاح ثانی بھی نہیں کرسکتی۔ اور تنہا اس پہاڑ جیسی زندگی کو کاٹنے کے لیے مجبور ہوں۔

میرے کردار پر لوگ اب شک کرتے ہیں حالانکہ میں نے سماج کی رسموں کو نبھاتے ہوئے سب کچھ چھوڑ کر خود کو ایک خول میں بند کر لیا ہے۔ میری ساری خوشیاں مجھ سے چھین لی گئی ہیں۔ دن و رات کا سکون لٹ گیا ہے۔ ہر پل ایک خوف دل پہ طاری رہتا ہے مگر پھر بھی مجھے طرح طرح کے طعن وطنز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اے پوری کائنات کی پرورش کرنے والے! تو کسی اور کو ایسا کوئی غم کبھی نہ دینا کیونکہ بیوہ عورت کے دکھوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ پوری دنیا میں وہ ہر ذی روح کی محنت سے محروم ہو جاتی ہے اور ہر وقت فتنہ ذہن والے سے لوٹ کا مال سمجھنے لگتا ہے۔

اے خدا میرے یہ سارے دکھ ایک پل میں دور کر سکتے ہیں۔ اگر تو مجھے اپنے سینے سے لگا لے۔اگر مجھے تیری محبت اور تیرا سہارا مل جائے تو یہ سارے دکھ خود بخود بھول جاؤں۔ اے خدا میں دنیا میں تو ہمیشہ ذلیل ورسوا ہوتی رہی ہوں مگر آخرت میں تیری محبت مل جانے کے بعد میری سب خوشیاں لوٹ آئیں گی۔میرے بھی دن پھر یں گے۔