Advertisement
  • حوالہ: یہ نظم روضۂ تاج گنج سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔
یارو! جو تاج گنج ہے یہاں آشکار ہے،
مشہور اس کا نام بہ شہرو دیار ہے،
خوبی میں سب طرح کا اسے اعتبار ہے،
روضہ جو اس مکان میں دریا کنار ہے،
نقشے میں اپنے یہ بھی عجب خوش نگار ہے!

تشریح :

نظیر کہتے ہیں کہ اے میرے یارو! یہاں جو تاج گنج ہمیں نظر آتا ہے وہ اس شہر کی طرح مشہور و معروف ہے۔عمارت کی سبھی خوبیاں اس روضہ میں موجود ہیں جو ایک دریا کے کنارے بنا ہوا ہے ۔ اس کی تصویر بہت خوبصورت لگتی ہے۔

Advertisement
روۓ زمین پہ یوں تو مکان خوب ہے یہاں،
پر اس مکان کی خوبیاں کیا کیا کروں بیاں،
سنگ سفید سے جو بنا ہے قمر نشاں،
ایسا چمک رہا ہے تجلی سے یہ مکاں،
جس سے بلور کی بھی چمک شرمسار ہے!

تشریح:

نظیر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ویسے تو بے شمار مکانات ہیں مگر اس کی خوبیاں بے حساب ہیں جو بیان نہیں ہو سکتیں۔ سفید رنگ کے پتھر سے بن کر یہ چاند کی طرح ہو گیا ہے۔ یہ اپنی چمک دمک میں اس طرح کا ہو گیا ہے کہ اس کے آگے بلور (ایک چمکدار پتھر) کی چمک بھی پھیکی محسوس ہوتی ہے۔

Advertisement
گنبد میں اس کا زور بلندی سے بہرہ مند،
گرداس کے گنبدیاں بھی چمکتی ہوئی ہے چند،
اور وہ کلس جو ہے سرِ گنبد سے سر بلند،
ایسا ہلال اس پہ سنہرا ہے دل پسند،
ہر ماہ جس کے خم پہ مہِ نو نثار ہے!

تشریح:

نظیر کہتے ہیں کہ اس تاج گنج کے روضہ کا گنبد بہت بلند اور خوبصورت ہے۔ اس کے آس پاس میناریں اور چھوٹے گنبد بھی چمکتے رہتے ہیں۔ اس کے گنبد پہ جو کلس لگا ہے اس سے یہ اور بلند ہو گیا ہے۔ وہ کلس سونے کا بنا ہوا ہے۔ اس میں دل کو لبھانے والا چاند بھی بنا ہوا ہے۔ اس چاند پر ہر مہینے کی پہلی تاریخ کا چاند قربان ہونے آتا ہے۔

Advertisement
ہیں بیچ میں مکاں کے وہ دو مرقدیں جویاں،
گرد ان کے جالی اور محجر ہے درفشاں،
سنگین گل جو اس میں بناۓ ہیں تہ نشاں،
پتے، کلی، سہاگِ رگِ رنگ ہے عیاں،
جو نقش اس میں ہے وہ جواہر نگار ہے۔

تشریح :

نظیر کہتے ہیں کہ اس کے بیچ میں دو-دو قبریں بنی ہوئی ہیں۔ ان کے آس پاس بنی ہوئی جالیاں اور کنگورے موتی لٹاتے ہوے نظر آتے ہیں۔ بہت مشکل مشکل پھول دیواروں پر بناۓ گۓ ہیں۔ پتے بھی ہیں، کلی بھی ہیں جو سہاگ کی نشانی معلوم ہوتے ہیں۔ اس کا ہر نشان نگینوں سے چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔

دیواروں پر جو سنگ ہے نازک عجب نگار،
آئینے بھی لگے ہیں مجلیٰ و تابدار،
دروازے پر لکھا ہے خطِ طغرا طرفہ کار،
ہر گوشے پر کھڑے ہیں جو منار اس کے چار،
چاروں طرف سے اوج کی خوبی دو چار ہے!

تشریح:

دیواروں پر لگا ہوا پتھر بہت عجیب اور خوبصورت لگتا ہے۔ ان میں چمکدار اور صاف آئینے بھی لگے ہوئے ہیں۔ اس کے دروازے پر ایک طغرا یعنی نقشہ بہت انوکھے انداز سے بنایا گیا ہے اور اس کے چاروں طرف مینار نظر آتے ہیں۔ چاروں طرف سے یہ روضہ بہت حسین اور نہایت دلکش محسوس ہوتا ہے۔

Advertisement
جو صحن باغ کا ہے وہ ایسا ہے دل کشا،
آتی ہے جس میں گلشنِ فردوس کی ہوا،
ہر سو نسیم چلتی ہے اور ہر طرف ہوا،
ہلتی ہیں ڈالیاں سبھی ہر گل ہے جھومتا،
فوارے چھٹ رہے ہیں رواں جوۓ بار ہے!

تشریح:

نظیر کہتے ہیں کہ اس روضہ کے باغ کا چوک بہت پھیلا ہوا اور خوبصورت ہے۔ اس میں جو ہوا چلتی ہے جیسے جنت کی ہوا چل رہی ہے۔ ہر طرف کبھی صبح کی نرم ہوا چلتی ہے اور ہر طرف پیاری ہوا چلتی ہے۔ پیڑوں کی ڈالیاں ہلتی رہتی ہیں اور پھول جھومتے رہتے ہیں۔ فوارے ایسے چھوٹتے ہیں جیسے بارش ہو رہی ہے۔

وہ تاجدار شاہجہاں صاحبِ سریر،
بنوایا ہے انہوں نے لگا سیم و زر کثیر،
جو دیکھا ہے اس کے یہ ہوتا ہے دل پزیر،
تعریف اس مکاں کی میں کیا کروں نظیر،
اس کی صفت تو مشتہرِ روزگار ہے!

تشریح:

حکومت کے تخت و تاج کا مالک اور بادشاہ شاہجہاں نے بہت دولت لگا کر یہ روضہ بنوایا ہے یہ روضہ ہر ایک کے دیکھنے والوں کے دل کو لبھاتا ہے۔ اے نظیر! میں اس محل کی تعریف کیا کروں کہ اس کی خوبیاں سارے زمانے میں مشہور ہیں۔

Advertisement

سوالات و جوابات

سوال 1 :- روضہ کسے کہتے ہیں؟

جواب:- روضہ مزار کو کہتے ہیں۔

سوال 2 :- جوئے بار کسے کہتے ہیں؟

جواب :- بہتی ہوئی ندی کو کہتے ہیں۔

Advertisement

سوال 3 :- روضہ تاج گنج کہاں بنا ہوا ہے اور کس پتھر سے بنا ہوا ہے؟

جواب :- یہ روضہ تاج گنج آگرہ میں سنگِ مر مر کے پتھر سے بنا ہوا ہے۔

سوال 4 :- لفظ "فردوس” کے مترادف لکھیے۔

جواب :- جنت، بہشت

Advertisement
تحریرمحمد طیب عزیز خان محمودی
Advertisement

Advertisement

Advertisement