Advertisement

فیض احمد فیض کی یہ نظم وطنی شاعری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ فیض نے انگریزی استبداد دیکھا تھا‌۔ ہندوستانیوں کے جسم سے خون کھینچنا، ان کو سزا دینا نیز ان کو پھانسی دینا کہ تمام چیزیں جیسے وطن پرست کے سامنے تھیں۔ ملک اور ملک والے جن مصائب کاشکار تھے وہ فیض دیکھ رہے تھے وہ سچے محب وطن تھے۔ اس نظم میں انہوں نے انگریزی حکومت کی زیادتیاں اور ہندوستانی عوام کی پریشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک دوسرے سے ملنے پر پابندی تھی۔ مگر فیض کو نئی صبح کا یقین تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مظلوموں اور ظالموں کی یہ جنگ ہمیشہ سے رہی ہے۔ فیض اپنے وطن کی گلیوں پر قربان جاتے ہیں۔کیونکہ ان کا وطن سب سے اچھا ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement