اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا تشریح

0
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا
الفاظمعانی
کج رو: ٹیڑھا چلنے والے
ہنگامہ ہائے شوق :اشتیاق یا تمناؤں اور آرزوں کے ہنگامے/ شور
لامکاں :مراد اوپر کی دنیا یعنی عالم قدس
صبحِ ازل: جب یہ کائنات تخلیق کی گئی
حرفِ شریں:میٹھا یعنی عمدہ لفظ
کوکب:ستارہ، استعارہ انسان
تابانی :چمک
آدم خاکی :مراد انسان
زیاں:نقصان

عزیز طلبا! اب ہم علامہ اقبال کی اس غزل کی متنی تدریس و تفہیم کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ غزل اقبال کے مجموعہ کلام ”بالِ جبریل“ کی غزلیات حصہ اول میں شامل ہے۔ اس میں علامہ اقبال نے جہانِ خالق کی پیدا کی ہوئی کائنات اور مخلوق کے عجیب حالات و کیفیات کو شعری قابل میں ڈھالا ہے۔ وہیں اس کائنات اور مخلوقات کی پیدائش اور واقعات میں پنہا رازوں سے پردے بھی اٹھائے ہیں اور ان پر دل سے ایمان بھی لایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے وجود کے ثبوت میں استفہام اقراری اور انکاری اسلوب سے دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ لیکن یہ دلائل محض علمی، مقالاتی یا مضامینی نہیں بل کہ شعر کی شعریعت میں ڈھالے گئے ہیں۔ عزیز طلبہ اس غزل کے ایک ایک شعر کا مفہوم درج ذیل ہے ملاحظہ کیجئے:

شعر نمبر 1:

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

اس شعر میں اقبال اپنے محبوبِ حقیقی اور مالکِ حقیقی سے مخاطب ہیں کہ اے کائنات کے خالق یہ دنیا یعنی لوگ تیرے اصولوں کے مطابق نہیں چلتے، انجم کج رح ہیں، مخلوق خداوند اگر بے اعتدالیوں، کمیوں، خامیوں میں مبتلا ہے تو یہ آسماں یعنی مخلوق تو تیری ہی پیدا کی ہوئی ہے۔ مجھے اس میں کوئی دخل نہیں، میں دنیا کی فکر کیوں کروں یہ سب تیرے راز ہیں جن کو تو ہی جانتا ہے، تو تیرا بندہ ہوں تیرے تمام اصولوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔

شعری محاسن: ”انجم“ سے استعارہ کیا ہے مخلوق خدا سے، آسماں سے استعارہ ہے کائنات یا دنیا سے۔ اس کی ردیف میں اقبال نے تیرا ہے یا میرا ؟ لا کر استفہامی انداز پیدا کیا ہے۔ یہ تو تسلیم ہے کہ یہ دنیا میری نہیں تیری ہے یعنی استفہام اقراری ہے لیکن لفظ ”میرا“کا استعمال کیا ہے اس میں اقبال نے اپنے فلسفۂ خودی کو شامل کیا ہے کہ جہاں انسانوں کا تصور یہ تھا کہ صرف اور صرف خدا کا وجود ہے دیگر تمام کائنات اور انسان اسی کے وجود کا پرتو ہیں یا عکس ہیں، جن کے سبب قوم میں بے عملی پیدا ہو گئی تھی لہذا اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے لفظ ”میرا“ کو ردیف کا حصہ بنایا ہے۔

شعر نمبر 2:

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا

اس شعر میں محبوب حقیقی کی بارگاہ میں ایک سوال اٹھا کر ایک ہم نکلتے کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے کہ لامکاں یعنی جہان خدا جلوہ گر ہے اور آسمانی دنیا میں جہاں فرشتے رہتے ہیں ان کا کام تو صرف اس کی تسبیح بیان کرنا ہے ان میں تو نے جذبۂ عشق رکھا نہیں تو وہ تیرے لیے سر کٹانے کا جذبہ نہیں رکھتے۔ اس میں تو میری کوئی خطا نہیں ہے یہ سب تیرے راز ہیں، اسے تو ہی جان۔ لامکان تیرا ہے اس پر میرا ایمان ہے میری تو کوئی حیثیت نہیں۔
شعری محاسن: اس شعر میں اقبال نے ”ہنگامہ ہائے شوق“ اور لامکاں کی اصطلاح برت کر معنی کے جہان آباد کر دیے ہیں۔ شعری اور غزلیہ رمز کے ساتھ ساتھ اختصار سے کام لے کر معنیٰ کی کئی پرتیں تخلیق کر دی ہیں۔ اقبال نے اس حقیقت سے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ یہ محبوب حقیقی کی مشیت ہے کہ اس لامکان کو ہنگامہ ہائے شوق خالی رکھا ہے اور فرشتوں کے بجائے انسان کو محبت کی دولت عنایت فرمائی ہے۔ اسی لیے انسان فرشتوں پر فضیلت رکھتا ہے۔

شعر نمبر 3:

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا

اس شعر میں علامہ اقبال نے اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے کہ ابلیس بھی محبوبِ حقیقی کی مخلوق ہے پھر اس نے تیرا حکم نہ مانتے ہوئے آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا۔ اس کی کیا مجال کہ وہ خالقِ حقیقی کا کہا نہ مانے۔ تیری اس میں کیا حکمت تھی تو تو اس راز سے بخوبی واقف ہے اور تو نے ہی اس کو اپنا رازداں بنا رکھا تھا، پھر انسان پر اس کی شرارتوں کا الزام کیوں؟

شعری محاسن: نہایت ہی رازدارانہ اور شوخی سے کام لیتے ہوئے تلمیحی پیرائے میں علامہ اقبال نے یہ حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ تیری حکمت کے بغیر تو اس کا انکار سمجھ سے بالاتر ہے۔

شعر نمبر 4:

محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا

اس شعر میں علامہ اقبال نے معنیٰ کی خواستگاری لیے ایک دلیل پیدا کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت جبریلِ امین علیہ السلام اور قرآن مجید یہ تینوں تیرے ترجمان بن کر تیری مخلوق کی طرف آئے ہیں، تیرے احکام کو تیرے بندوں تک پہنچانے کے لیے۔ لیکن یہ انسان بھی تو کوئی بیگانہ نہیں ہے بل کہ حرف شریں یعنی جذبۂ عشق جو اس انسان کے دل میں تو نے ودیت فرمایا ہے یہ بھی تو تیرا ہی ترجمان ہے۔ ہاں کبھی کبھی بشری تقاضوں کے مطابق اس سے خطا ہو جاتی ہے تو اس کو بھی معاف فرما دے۔ دوسرا معنیٰ اس کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حروف شریں سے مراد اقبال کی شاعری ہے جو دلوں کو گرماتی ہے، ان کے احساس کو بیدار کرتی ہے اور محبوبِ حقیقی کی طرف رہنمائی کرتی ہے لہٰذا یہ بھی تیری ہی ترجمان ہے۔ ایک اس کا معنیٰ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، جبریل امین علیہ السلام اور قرآن مجید جہاں اپنے وجود پر دلالت کرتے ہیں تو وہیں جذبۂ عشق یا شاعری بھی تو اپنے کہنے والے کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔ وہ جہاں تیری ترجمانی کرتے ہیں وہیں انسان کے وجود کی بھی ترجمانی کرتے ہیں۔
شعری محاسن: اس شعر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، جبریل امین کے مقرب فرشتہ ہونے کی ذمہ داری اور قرآن مجید کا پیغام خداوندی ہونے کا تلمیحاً ذکر کیا ہے۔ نیز ”حروف شریں“ سے جذبۂ عشق کا کنایہ کیا ہے یا حروف شریں شاعری سے استعارہ کیا ہے۔ اس طرح اقبال نے شعری اور جمالیاتی عناصر کا لحاظ رکھتے ہوئے فنی ہنر مندی کا ثبوت دیا ہے اور معنیٰ کی کئی پرتیں اس میں جمع کر دی ہیں۔

شعر نمبر 5:

اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا

اس شعر میں علامہ اقبال نے نہایت ہی ہنر مندی کے ساتھ دلیل دیتے ہوئے آدم اور اولاد آدم کی اہمیت، فوقیت، فضیلت اور اس کی وجودیت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی کوکب سے مراد ہے اولاد آدم ، انسان اگر زندہ ہے اس میں جذبۂ عشق موجود ہے۔ اس کی تابناکی اور ترقی سے ہی اے محبوبِ حقیقی، اے مالکِ حقیقی تیری یہ دنیا، کائنات آباد ہے، روشن ہے۔ اگر اسی یک مشت خاکی کا زوال ہو جائے تو انسان کا کوئی نقصان نہیں ہے لیکن یہ بتا کہ تیرے نام کو بلند کرنے والا کون ہوگا، تیری محبت میں سر قلم کرانے والا کون ہوگا، یہ وصف تو لامکاں پر رہنے والے فرشتوں کے بس میں تو نہیں ہے کہ وہ تیری محبت میں مسکراتے ہوئے اپنی جانوں کو قربان کر دیں۔ یہ حوصلے تو صرف اور صرف انسان میں ہی تو نے رکھے ہیں۔
شعری محاسن: پہلے مصرعے میں علامہ اقبال نے ”کوکب“ سے استعارہ کیا ہے اولاد آدم یعنی انسان سے۔ ”جہاں روشن“ سے کنایہ کیا ہے آباد دنیا اور کائنات کا۔ دوسرے مصرعے میں ”آدم خاکی“ مجاز مرسل کے طور پر برتا ہے کہ سبب بول کر مسبب مراد لیا ہے۔ آدم بول کر اولاد آدم یعنی انسان مراد لیا ہے۔ شعری اور فنی وسائل کا سہارا لیتے ہوئے انسان کے وجود کی اہمیت، فوقیت، فضیلت اور اس کی وجودیت کے ثبوت کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تلمیحی معنیٰ بھی اس میں موجود ہیں۔ اس حدیث کا مفہوم بھی اس شعر میں موجود ہے کہ جب جنگِ بدر کے موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالکِ حقیقی سے دعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے اللہ اگر یہ مٹھی بھر تیرے بندے آج شہید ہو گئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی پیدا نہیں ہوگا۔

  • اس غزل کی کئی خصوصیات ہیں۔
  • اول: یہ کہ یہ غزلِ مسلسل ہے کیونکہ اس غزل کے ہر شعر میں خدا تعالی سے خطاب ہے۔
  • دوم: یہ کہ ظاہری طور پر علامہ اقبال نے ہر شعر میں محبوبِ حقیقی سے سوال کیا ہے لیکن باطنی طور پر مشت ایزدی پر ایمان لایا ہے اور اسے تسلیم کیا ہے۔
  • سوم: یہ کہ اسلوب بیان بہت دلکش، غور و فکر سے معمور اور جمالیاتی عناصر سے مالا مال ہے۔
  • چہارم: یہ کہ علامہ اقبال نے اس غزل کی جو ردیف قائم کی ہے ”تیرا ہے یا میرا“ یہ ان کے کلام کا اساسی فلسفہ کی آئینہ دار ہے یعنی خدا کی ہستی کے ساتھ ساتھ خود ہی کا اثبات بھی کر دیا ہے۔
  • پنجم: اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اقبال نے پوری غزل میں محبوبِ حقیقی سے مخاطب ہو کر سوالیہ فضا پیدا کی ہے۔ سوالیہ لہجے میں اقبال نے غزل کی لفظیات کائنات میں اپنے فلسفہ ”اثبات وجود“ کی موجودگی سے اپنی خودی کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پوری غزل میں استفہام کہیں اقراری ہے کہیں انکاری، کہیں اذعانی ہے۔ اس استفہام کی فضا سے غزل میں تغزل کی کیفیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ دعوت غور و فکر بھی ملتی ہے، کہیں حکمتوں سے بھی پردے اٹھتے ہیں۔ یہ غزل اپنی شعری معراج پر فائز ہے۔
  • ششم: اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فلسفہ اور مذہب کے بعض اہم مسائل کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ مثلاً :
  • 1. انجم بنی ادم کی کجروی
  • 2. لا مکاں کا عشق سے خالی ہونا
  • 3. انکار ابلیس اور اس کا سبب
  • 4. حروف شریں جذبۂ عشق کی کار فرمائی
  • 5. اہمیت وجود آدم

یہ ایسے باریک اور مشکل مسائل ہیں جن پر حکما اور علما نے بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں لیکن یہ اقبال کا کمال ہے کہ انہوں نے فکر اور فن کو ایسا ہم آمیز کیا ہے کہ آسانی کے ساتھ مشکل ترین مسائل کو شعر کے پیکر میں ڈھال کر سمجھا دیا ہے۔

ماحصل

اس غزل میں اقبال نے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے کہ انسان خود کو محض پرچھائی سمجھ کر اپنے وجود کو محض دھوکہ سمجھ بیٹھا ہے جس کے سبب وہ بے عمل ہو گیا ہے۔ وہ اپنی دنیا آپ بنانے سے گریزاں ہے لہٰذا خودی اور فلسفۂ وجودیت کو پیش کیا ہے۔ نیز انسان کے وجود اور اس کی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان غزلوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان میں بہت سے اشعار ایسے ہیں کہ جن میں زندگی کے حقائق و معارف کو ایسے دلکش اور دل پذیر اظہار بیان دیا ہے کہ پڑھتے ہی قاری کے دل کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ اقبال نے غزلیہ شاعری میں رمز و ایما سے خوب کام لیا ہے نیز وسائل شعری کا بھرپور اور فنی ہنر مندی کے ساتھ برتاؤ ہوا ہے جس کے سبب کلامِ اقبال اسرار و رموز کا سرچشمہ بن گیا ہے۔

کج رو: ٹیڑھا چلنے والے
ہنگامہ ہائے شوق : اشتیاق یا تمناؤں اور آرزوں کے ہنگامے/ شور
لامکاں : مراد اوپر کی دنیا یعنی عالم قدس
صبحِ ازل: جب یہ کائنات تخلیق کی گئی
حرفِ شریں: میٹھا یعنی عمدہ لفظ
کوکب: ستارہ، استعارہ انسان
تابانی : چمک
آدم خاکی : مراد انسان
زیاں: نقصان

تحریرڈاکٹر محمد آصف ملک ، اسسٹنٹ پروفیسر بی۔جی۔ایس۔بی۔یو راجوری