>
  • مشعل درد پھر اک بار جلا لی جائے
  • جشن ہو جائے، ذرا دھوم مچا لی جائے
  • خون میں جوش نہیں آیا زمانہ گزرا
  • دوستو آؤ کوئی بات نکالی جائے
  • جان بھی میری چلی جائے تو کچھ بات نہیں
  • وار تیرا نہ مگر ایک بھی خالی جائے
  • سو بھی ملنا ہے ترے در سے ہی ملنا ہے اسے
  • در تیرا چھوڑ کے کیسے یہ سوالی جائے
  • وصل کی صبح کے ہونے میں ہے کچھ دیر ابھی
  • داستاں ہجر کی کچھ اور بڑھا لی جائے

Close Menu