کیسا ماضی تھا کیا ہے حال اپنا
دیکھنا تھا ہمیں زوال اپنا

اور بھی ہو گئے ہیں ہم تنہا
اک ذرا آیا تھا خیال اپنا

دشت ہو باز گشت سے آباد
کوئی دہرائے پھر سوال اپنا

یہ سفر ختم یوں نہیں ہوگا
راستہ بدلیں ماہ و سال اپنا

دیکھ ہم پھر جلا رہے ہیں چراغ
اے ہوا ! حوصلہ نکال اپنا

Advertisements