Advertisement

کیسا ماضی تھا کیا ہے حال اپنا
دیکھنا تھا ہمیں زوال اپنا

اور بھی ہو گئے ہیں ہم تنہا
اک ذرا آیا تھا خیال اپنا

دشت ہو باز گشت سے آباد
کوئی دہرائے پھر سوال اپنا

یہ سفر ختم یوں نہیں ہوگا
راستہ بدلیں ماہ و سال اپنا

دیکھ ہم پھر جلا رہے ہیں چراغ
اے ہوا ! حوصلہ نکال اپنا

Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement