• ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائے
  • طلوع ہو کوئی چہرا تو دھند چھٹ جائے
  • یہی ہے وقت کہ خوابوں کے بادباں کھولو
  • کہیں نہ پھر سے ندی آنسوؤں کی گھٹ جائے
  • بلندیوں کی ہوس ہی زمین پر لائی
  • کہو فلک سے کہ اب راستے سے ہٹ جائے
  • گرفت ڈھیلی کرو وقت کو گزارنے دو
  • کہ ڈور پھر نہ کہیں ساعتوں کی کٹ جائے
  • اسی لیے نہیں ہوتے ہیں ہم کہ دنیا میں
  • شب فراق کی سوغات سب میں بٹ جائے
Advertisements