تنہا انصاری کے حالات زندگی اور ادبی خدمات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تنہا انصاری کی غزلوں کی تشریح

غزل نمبر 1

مری ہر صبح پر فرقت میں تیری
اندھیرا شام غم کا چھا رہا ہے


اس شعر میں شاعر اپنے دوست سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میرے دوست تیری جدائی میں میری ہر صبح و شام نظر بہت مشکل میں کٹتی ہے اور ہر روز مجھے تیرا غم کھائے جاتا ہے لہذا میرے لیے صبح یا شام کا ہونا برابر ہے۔

کیے جاتا ہوں میں جتنا مداوا
غم دل اور بڑھتا جا رہا ہے

اس شعر میں شاعر نے اپنے دل کی کیفیت کو بیان کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ مجھے جتنے غم سوغات کے طور پر ملے ہیں اور جتنا بھی میں غم بھلانے کا سوچتا ہوں اتنا ہی وہ زیادہ بڑھ جاتے ہیں یعنی جتنا علاج میں کرتا ہوں اتنا ہی یہ غمِ دل بڑھتا جا رہا ہے۔

میری دنیا سے کٹ کر جانے والے
تصور تیرا کیوں تڑپا رہا ہے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب تم مجھ سے جدا کیوں ہونا چاہتے ہو اور یہ بتاؤ تمہارا خیال مجھے کیوں تڑپاتا رہتا ہے۔

نقاب رخ الٹ کر کس نے رکھ دی
فلک پر چاند بھی شرما رہا ہے

اس شعر میں شاعر یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کس نے آج اپنے چہرے سے نقاب اٹھا لیا ہے/ یا کس نے اپنا چہرہ دکھا دیا ہے۔ اس چہرے کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے آسمان پر چاند شرما رہا ہے اس کی دلکشی اور خوبصورتی کو دیکھ کر۔

خیال پرسش اعمال تنہا
ابھی سے روح کو تڑپا رہا ہے

اس شعر میں شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تنہا زندگی تو گزاری خیال یار میں۔ اب سوچتا ہوں کہ جب حساب لیا جائے گا تو اللہ کو کیا جواب دوں گا یہ خیال تو ابھی بھی میرے دل کو تڑپاتا ہے۔

غزل نمبر 2

تیری فرقت میں مجھ پر ہر گھڑی جو کچھ گزری ہے
سمجھتا خود ہوں لیکن تم کو سمجھانا نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ میرے دوست تمہاری جدائی میں جو کچھ بھی میرے دل پہ گزرتی ہے، جو حال میرے دل کا ہوا ہے، اس سے میری ذات واقف ہے۔ لیکن جب تمہیں ملتا ہوں تو اس وقت مجھے وہ ماحول، وہ الفاظ میسر نہیں آتے جن سے میں اپنے دل کی بے قراری آپ کے سامنے بیان کر سکوں۔

میں گل ہوں مسکرا رہتا ہوں طوفانوں کے عالم میں
خزاں کے تند جھونکھوں میں بھی مرجھانا نہیں آتا

اس شعر میں شاعر نے تشبیہ کا استعمال کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ میں اس پھول کی مانند ہوں جو ہواؤں میں بھی کھلا کھلا رہتا ہے۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ میں خزاں کے موسم میں بھی پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز رہتا ہوں جبکہ باقی سارے پھول اس موسم میں مرجھائے ہوئے ہوتے ہیں۔

شکستہ ناؤ اپنی اور موجوں کا تلاطم ہے
ہو کچھ بھی ساتھیو مجھ کو تو گھبرانا نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ میری کشتی میں سوارخ ہے اور اسے ڈوب جانے کا اندیشہ بھی لاحق ہے اور اس خطرناک طوفان میں بھی میرے دوستو! میں گھبرانے والا نہیں ہوں۔

چٹانوں کو ہٹانا ٹھوکروں سے مجھ کو آتا ہے
مگر نازک سی امیدوں کو ٹھکرا نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ میرے اندر ہمت اور استقلال کی کمی نہیں ہے۔ میں بڑی سے بڑی مشکل کو آسانی سے سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ مگر امیدوں پر لات مارنا میری عادت نہیں میں ان کی عزت کرتا ہوں۔

تڑپنے ہی میں لطف زندگی حاصل ہوا تنہاؔ
تڑپتا خود تو ہوں اوروں کو تڑپانا نہیں آتا

اس شعر میں شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے تنہا ! تڑپنے اور انتظار کرنے میں ہی زندگی کا مزہ حاصل ہوا ہے۔ مگر اس کے لئے تو صبر آزما دل ہونا چاہیے اور ہمت ہونی چاہیے اور اسی لیے میں خود تڑپنے پر ترجیح دیتا ہوں برعکس اوروں کے تڑپانے کی۔

اس سبق کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔