Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے چوتھی جماعت
  • سبق نمبر03: مضمون
  • سبق کا نام: پرندوں کی دنیا

خلاصہ سبق: پرندوں کی دنیا

سبق "پرندوں کی دنیا” میں کئی اہم پرندوں کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ہمارے ملک کئی طرح کے پرندے موجود ہیں کوئی سریلی تو کوئی کرخت آواز والا۔کچھ آسمان کی بلندیوں میں اڑنے والے جیسے چیل، کبوتر اور عقاب جبکہ بعض پانی میں تیرنے والے جیسے مرغابی بطخ وغیرہ۔ہندوستان میں جوخاص پرندے پائے جاتے ہیں ان میں سے مور ہندوستان کا قومی پرندہ ہے۔

یہ چار فٹ لمبا، لمبی گردن اور چمکیلے رنگوں والا پرندہ ہے۔خوبصورت ناچ دکھاتا ہے اور ہندوستان کے علاوہ لنکا اور افریقہ میں پایا جاتا ہے۔یہاں مینا اور طوطا بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ دونوں پرندے بولنا سیکھ لیتے ہیں اور کئی جملے رٹ کر فر فر بول سکتے ہیں۔مینا کالی۔ جبکہ طوطے کا رنگ ہرا ہے۔ طوطے کو جتںا مرضی پیار سے پال لو ایک بار اڑ جائے تو واپس نہیں لوٹتا یہی سے بے مروت لوگوں کے لیے "طوطاچشم” کی مثال بنی ہے۔

کبوتر بھی اڑ جاتا ہے لیکن یہ لوٹ کر ضرور آتا ہے۔کبوتر امن کی نشانی ہے اور کی کئی نسلیں اور رنگ ہیں پرانے زمانے میں کبوتر سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام پہنچانے کا کام بھی لیا جا تا تھا۔ مرغے اور مرغیاں گھروں میں پالی جاتی ہیں۔چکور بھی ایک سریلی آواز والا پرندہ ہے جو نیپال، ہندوستان اور پنجاب میں پایا جاتا ہے۔اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ چاند کا عاشق ہے اور ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا ہے۔

Advertisement

بگلا، سارس اور ہنس ایک ہی نسل سے تعلق رکھنے والے پرندے ہیں۔بگلا بھگت کے نام سے اس کے مچھلی کے انتظار میں سادگی سے کھڑے رہنے پر کہاوت مشہور ہے۔سارس بھی سفید رنگ کا ہوتا ہے لیکن اسے اڑنے سے قبل ہوائی جہاز کی طرح دوڑنا پڑتا ہے۔ ہنس سفید رنگ کا پرندہ ہے جو ہمیشہ جوڑے کے ساتھ تالاب میں رہتا ہے اور اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ موتی چنتا ہے۔ کوا اور کوئل دونوں کالے ہوتے کوئل اپنی سریلی آواز اور کوا چالاکی کی وجہ سے مشہور ہے۔

سب پرنددے ہمارے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ یہ کیڑے مکوڑوں کو۔کھا کر فصلوں کو نقصان سے بچاتے ہیں۔ بعض پرنے مردہ جانوروں کا گوشت کھا کر فضا کو آلودگی سے بچاتے ہیں۔جن میں گدھ شامل ہے مگر اب اس کی نسل ختم ہوتی جا رہی ہے۔ پرندے گھونسلوں میں رہتے ہیں اور بعض پرندے بلخصوص چڑیاں اپنا گھونسلہ نہایت مہارت سے بناتی ہیں۔ بیا جو کہ بہت چھوٹا پرندہ ہے۔لیکن سب سے زیادہ کارگری سے بنا ہوا گھونسلہ بیا کا ہوتا ہے۔

بعض پرندے ٹوکری کی طرح گھونسلہ بںاتے ہیں جبکہ کچھ اپنی لمبی چونچ سے درخت کے تنوں میں سوراخ کرکے رہتے ہیں۔ اگر سوچا جائے تو ان طرح طرح کے رنگ برنگے اور خوبصورت پرندوں کے بنا یہ دنیا کتنی پھیکی اور ادھوری محسوس ہوتی۔ان پانی میں تیرتے اور ہوا میں اڑتے پرندوں کو دیکھ کر ہمیں بہت لطف ملتا ہےاس لیے ہمیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے۔

ہندوستان میں پاۓ جانے والے اس پرندوں کے نام لکھیے۔

مور ، طوطا، مینا ،کبوتر ، سارس ، گدھ ، چڑیا ، بگلے ، کوّا ، کوئل، چکور وغیرہ۔

ہمارا قومی پرندہ کون سا ہے؟ اس کا نام لکھیے۔

ہمارا قومی پرندہ مور ہے۔

بے مروت انسان کی مثال کس پرندے سے دی جاتی ہے؟

بے مروت انسان کی مثال "طوطا چشم ” کہہ کر طوطے سے دی جاتی ہے۔

وہ کون سا پرندہ ہے جو چاند کا عاشق کہلا تا ہے؟

چکور نامی پرندہ چاند کا عاشق کہلاتا ہے۔

آسمان میں اونچا اڑنے والے پرندوں کے نام لکھیے۔

آسمان میں اونچا اڑنے والے پرندوں میں عقاب ، چیل اور کبوتر شامل ہیں۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کی مدد سے خالی جگہوں کو پر کیجئے۔

امن ، قومی ، اونچائی ، شوق، کاری گری ، آسمان۔

  • کچھ پرندے آسمان میں بہت اونچائی تک اڑ سکتے ہیں۔
  • مور ہمارا قومی پرندہ ہے۔
  • طوطا مینا کولوگ شوق سے پالتے ہیں ۔
  • کبوتر کو امن کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
  • سب سے زیادہ کارگری سے بنا ہوا گھونسلہ بیا کا ہوتا ہے۔

نیچے دی گئی تصویروں کوغور سے دیکھیے۔

اوپر دی گئی تصویروں سے نر اور مادہ کا پتا چلتا ہے، نر کو مذکر اور مادہ کو مونث کہتے ہیں ۔ بے جان چیز میں بھی مذکر اور موقت بولی جاتی ہیں ، یہاں ملک، عقاب، پرنده ، رنگ، پنجره مذکر ہیں اور سریلی ، زمین ، چونچ ،آنکھ، مچھلی مونث ہیں ۔نیچے دی گئی پنجرے کی تصویر سے مذکر اور مچھلی کی تصویر سے موقف ظاہر ہوتے ہیں۔

باکس میں دیے گئے لفظوں کو چن کر صحیح خانوں کے مطابق لکھیے :

پنجرہ: بادل، آسمان ،منظر ، پانی ، جنگل ، چمکیلا ، پہاڑ۔
مچھلی: آواز ، کوئل ، کرخت ، فصل ، صورت ، نسل ، دُم۔

نیچے لکھے ہوۓ جوابات کے لیے مناسب سوالات بنائے :

ہمارے ملک میں کس طرح کے پرندے پائے جاتے ہیں؟

جواب : ہمارے ملک میں چھوٹے بڑے، رنگ برنگے پرندے پاۓ جاتے ہیں ۔

بلندی میں اڑنے والے پرندے کون سے ہیں؟

جواب : عقاب، چیل اور کبوتر زیادہ اونچے اڑنے والے پرندے ہیں ۔

ہمارا قومی پرندہ کون سا ہے؟

جواب : ہمارا قومی پرندہ مور ہے۔

کس پرندے کو لوگ شوق سے پالتے ہیں؟

جواب: طوطا مینا کولوگ شوق سے پالتے ہیں۔

کون سے پرندے پانی میں رہتے ہیں؟

جواب : بگلا، مرغابی اور بطخ وغیرہ پانی میں رہنے والے پرندے ہیں ۔

کالم الف اورب کے حصوں کو ملا کرتی جملے بنائے اور نیچے خالی جگہوں میں لکھیے :

بعض پرندے پانی میں بڑے مزے سے تیرتے ہیں جیسے بطخ اور مرغابی
طوطا مینا اس صفائی سے بولتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے
ایک بار پنجرے سے نکل جانے کے بعد وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا
پرانے زمانے میں کبوتر سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام پہنچانے کا کام بھی لیا جا تا تھا

نیچے دیے ہوۓ لفظوں کو ان کے صحیح خانے میں لکھیے :

واحد: طور، عادت ، قسم ، جسم ،منظر، خاص۔
جمع: اطوار، عادات، اقسام ، اجسام ، مناظر ، خواص۔

سبق کے مطابق تصویروں کو دیکھ کر ان سے متعلق جوڑ ملائیے:

کبوترامن کی نشانی سمجھا جا تا ہے۔
مورہمارا قومی پرندہ ہے۔
میناجسے لوگ شوق سے پالتے ہیں۔
کوّااپنی چالاکی کے لیے مشہور ہے۔
کوئلمیٹھی بولی کے لیے جانی جاتی ہے۔
مرغابا نگ دے کر جگا تا ہے۔

دیے گئے اشارے کے مطابق محاوروں کے معنی کی نشاندہی کیجیے:

محاورے:معنی:
ٹکٹکی با ندهناپلک جھپکاۓ بغیر د یکھنا
طوطا چشم ہونابے مروت ہونا
پانی پانی ہونابہت شرمندہ ہونا
آپے سے باہر ہونابہت غصہ میں ہونا
آسمان سر پر اٹھانابہت شور کرنا
اپنا راگ الاپنااپنی ہی بات کہے جانا
آٹے میں نمک ہونابہت کم ہونا

ان لفظوں کو صحیح تلفظ کے ساتھ بلند آواز میں پڑھئے اور خوش خط لکھیے۔

کرخت ، عقاب ، مرغابی ، بطخ ، عاشق۔