Advertisement
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اسکے لب پہ کیا کہئیے
پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
چشمِ دل کھول اُس ہی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
بارباراس کے درپہ جاتا ہوں
حالت اب اضعراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے
آتشِ غم میں دل بھنا شاید
دیرسے بُوکباب کی سی ہے
میراُن نیم بازآنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
-میر تقی میر
ہستی اپنی حباب کی سی ہے Lyrics 1