Advertisement
  • نظم : جگنو
  • شاعر: سکندر علی وجد

تعارف نظم

یہ نظم ہماری درسی کتاب سے ماخوذ ہے۔ اس نظم کے لکھنے والے سکندر علی وجد ہیں۔ جگنو ایک قسم کا کیڑا ہے جو اندھیرے میں چمکتا ہے۔ شاعر نے اس نظم میں جگنو کی تعریف کی ہے جو کہ برسات سے شروع ہوتی ہے اور پھر شاعر گلشن کا ذکر کرتے ہوئے جگنو کے چمکنے اور اس کے نور کی تعریف کرتا ہے۔

Advertisement

تعارف ِ شاعر

سکندر علی نام وجد تخلص تھا۔ آپ 1914 ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا، پھر سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوکر ڈسٹرکٹ سیشن جج کے منصب تک پہنچے۔لہو ترنگ، آفتاب تازہ ،اوراق مصور اور بیاز مریم ان کے کلام کے مشہور مجموعے ہیں۔وجد نے غزلیں بھی کہی ہیں جن کا موضوع حسن و عشق اور قلبی واردات ہے، لیکن اصلاً وہ نظم کے شاعر ہیں۔

Advertisement

نظم جگنو کی تشریح

برسات کی رات تھی اندھیری
کچھ نیند اچٹ گئی تھی میری

شاعر فرماتے ہیں کہ برسات کی اندھیری رات تھی اور مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔

پانی جو برس کے کھل گیا تھا
گلشن کا غبار دُھل گیا تھا

شاعر فرماتے ہیں کہ بارش اب رک گئی تھی اور گلشن میں بھی جو دھول اور غبار تھا وہ بھی اب ہٹ چکا تھا۔

Advertisement
بیدار تھی باغ میں اکیلی
پھولوں سے لدی ہوئی چنبیلی

شاعر باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سب سو گئے تھے لیکن باغ میں چنبیلی کے پھول ابھی بیدار تھے۔

اتنے میں جو رو چلی ہوا کی
قسمت ہی چمک گئی فضا کی

شعر نظم کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اتنے میں ہوا کا جھونکا چلا اور فضا کی قسمت بدل گئی۔ وہ اس لئے کیونکہ جب بارش کے بعد ہوا چلتی ہے تو وہ موسم کو دلکش اور دلفریب بناتی ہے۔

Advertisement
ہونے لگی جگنوؤں کی بارش
فطرت کے جمال کی تراوش

شاعر فرماتے ہیں کہ بارش رکنے کے بعد اور پھر جب ہوا چلی تو اتنے میں بے شمارجگنو( ایک قسم کا کیڑا جو اندھیرے میں چمکتا ہے) نکل پڑے جو کہ خدا کی الگ ہی طرح کی تراش کردا مخلوق ہے۔

روشن تھا اس قدر اندھیرا
گویا ہونے کو تھا سویرا

شاعر فرماتے ہیں کہ جگنو کے چمکنے سے اندھیرے میں اتنی روشنی چمکی کہ جیسے صبح ہونے کو تھی۔

Advertisement
جگنو اس طرح اڑ رہے تھے
ہیروں میں پر لگے ہوئے تھے

شاعر فرماتے ہیں کہ جگنو اس قدر ہوا میں اڑ رہے تھے کہ جیسے ہیرو میں پر لگے ہوئے تھے اور ہیرے ہوا میں اڑ رہے ہوں۔

پیپل تو چنار بن رہا تھا
ہر شاخ سے نور چھن رہا تھا

شاعر فرماتے ہیں کہ پیپل کا درخت جس کی اپنی کوئی خوبصورتی تو نہیں ہوتی ہے، وہ بھی جگنوؤں کے چمکنے سے جیسے چنار بن رہا ہو۔ چنار جو کہ موسم خزاں میں بہت چمکتا ہے اور اسکے پتے آگ ببولے ہوتے ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جگنو کے چمکنے سے اس پیڑ کی شاخوں پر جیسے نور چمک رہا تھا۔

Advertisement
ظلمت موتی لٹا رہی تھی
پریوں کی بارات جا رہی تھی

نظم کے آخری شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جگنو کے چمکنے سے ظلمت یعنی اندھیرا بھی جیسے موتی لٹا رہا تھا اور چمکتے جگنو ایسے لگ رہے تھے جیسے پریوں کی بارات جا رہی ہو۔

سوالات

سوال: جگنو کس موسم میں رات کو اٹھتے ہیں؟

ج: جگنو برسات کے موسم میں اڑتے پھرتے ہیں۔

Advertisement

سوال: شاعر نے جگنو کو ہیرا کیوں کہا ہے؟

ج: شاعر نے جگنو کو ہیرا اس لیے کہا ہے کیونکہ جگنو ہیرے کی طرح چمکتا ہے۔

سوال: پریوں کی بارات جا رہی تھی۔اس شعر میں شاعر نے کس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے؟

ج: “پریوں کی بارات جا رہی تھی” اس شعر میں شاعر نے جگنو کی طرف اشارہ کیا ہے۔

Advertisement

تلاش کیجئے اور بتائیے۔

  • پھولوں سے لدی ہوئی تھی چمبیلی قسمت ہی چمک گئی فضا کی۔
  • پیروں میں پر لگے ہوئے تھے ظلمت موتی لٹا رہے تھی۔
  • پریوں کی بارات جا رہی تھی۔

اس نظم میں سبھی اشعار میں سے قافیہ تلاش کرکے لکھیے۔

اندھیری ۔۔۔ میری
اکیلی ۔۔۔ چمبیلی
با رش ۔۔۔ تراوش
رہے ۔۔۔ ہوئے
لٹا ۔۔۔ جا
کھول گیا ۔۔۔ دھل گیا
ہوا ۔۔۔ فضا
اندھر ۔۔۔ سویرا
بن ۔۔۔ چھن
ردیف لکھیے
تھا ۔۔۔ تھا
کی ۔۔۔ کی
تھا ۔۔۔ تھا
تھے ۔۔۔ تھے
تھی ۔۔۔ تھی