مثنوی ‘سحرالبیان’ کا خلاصہ

کسی شہر میں ایک بہت بڑا بادشاہ تھا جس کو ہر قسم کی عیش و عشرت میسر تھی۔ مگر اس کے ہاں کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اس لئے وہ مایوس اور پریشان تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیروں کو بلایا اور کہا کہ میرے تاج و تخت کا وارث پیدا نہیں ہوا ہے یعنی میرے ہاں کوئی بیٹا نہیں ہوا اس لیے میں یہ تاج و تخت چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کر رہا ہوں۔

وزیروں نے جواب دیا کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے نجومیوں اور براہمنوں کو بلایا اور انہیں بادشاہ کے مقدر بنانے کے بارے میں کہا۔ سب نے اپنی اپنی کتابیں دیکھیں، حساب و کتاب جوڑا اور عرض کیا کہ خدا پر بھروسہ رکھیّے آپ کا مقدر چمکنے والا ہے۔ آپ کے ہاں چاند جیسا ایک خوبصورت بیٹا ہوگا۔ مگر اپنی عمر کے ابتدائی 12 سال وہ چھت پر نہ جائے۔ محل کے اندر سے باہر نہ نکلے۔ ورنہ کچھ عرصہ کے لیے سے مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ مسافر ہوگا، اس پر جن و پری عاشق ہوں گے اور ایک عورت اس کی معشوقہ ہوگی۔ مگر دکھ اٹھانے کے بعد اسے پھر خوشی نصیب ہوگی۔

بادشاہ کے ہاں 9 ماہ گزرنے کے بعد ایک نہایت خوب صورت بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام "بے نظیر” رکھا۔ بادشاہ نے خیرات کی، خدا کے نام پر دولت لٹائی، فقیروں کو روپے دیے، محتاجوں کی حاجتیں پوری کی، خوشیاں منائیں۔ شہزادہ نہایت حسین و جمیل اور ذہین تھا۔ حسب دستور اسے ابتدا میں قرآن پاک پڑھایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم پڑھائے اور فن سکھائے۔

جب شہزادہ کی عمر 12 سال ہونے کو آئی تو ایک دن شہزادے کو نہلا کر نئے کپڑے پہنائے گھوڑے پر سوار کیا۔ بادشاہ، امیر، وزیر اور ہزاروں لوگ ساتھ چلے۔ شہر سے باہر بادشاہ نے ایک باغ بنوایا تھا اس تک سب گئے۔شہزادے نے اس باغ کی سیر کی اور شام کو شہر میں اپنے محل میں واپس آگیا۔

اتفاق سے وہ رات چاند کی چودھویں رات تھی۔ چاندنی سے ہر طرف روشنی تھی۔موسم خوشگوار تھا ہر طرف خدا کا نور برس رہا تھا۔ یہ عالم دیکھ کر شہزادے کا دل چھت پر جانے کے لئے بے قرار ہوا۔ اس نے اصرار کیا۔خواصوں نے بادشاہ سے عرض کی۔ بادشاہ نے اجازت دے دی مگر خبردار رہنے اور پہرا کرنے کی ہدایات بھی دیں۔ چھت پر پلنگ بچایا گیا، شہزادہ آ کر اس پر سو گیا۔ پہرے دار باری باری پہرہ دے رہے تھے۔ رات کو ایسی ہوا چلی جس سے چاند کے سوا تمام پہرے دار سو گے۔

بدقسمتی سے یہ دن بارہویں سال کا آخری دن اور یہ رات آخری رات تھی۔ اسی رات جب سب سو گئے تو اس محل پر سے ایک پری کا گزر ہوا۔ اس کی نظر شہزادہ پر پڑھی۔ اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر پری نیچے اتری اور شہزادے کو پلنگ سمیت اڑا کر پرستان میں لے گئی۔ جب پہرے دار جاگے تو دیکھا کہ شہزادہ غائب ہے۔ خواصیں انتہائی پریشان ہوئیں۔ آخر کار انہوں نے بادشاہ اور ملکہ کو خبر دی۔ وہ رونے پیٹنے لگے۔ رات اسی حالت میں گزری۔ صبح سارے شہر میں شور مچ گیا۔ بادشاہ اور ملکہ کی حالت بگڑگئی۔ آخر وزیروں نے سمجھایا اور صبر اور خدا کا شکر کرنے کے لئے کہا۔ رو پیٹ کر تلاش کرکے اور تھک ہار کر سب بیٹھ گئے۔

جب پری نے شہزادے کو اڑایا تو سیدھا لے کر پرستان میں اتارا۔ وہاں ایک نہایت خوبصورت باغ میں رکھا جہاں نہ سردی تھی، نہ گرمی تھی، نہ آگ کا خطرہ تھا نہ بارش کا ڈر تھا۔ طرح طرح کے پھول تھے۔ اتفاق سے جب شہزادہ جاگا تو اس نے اپنے آپ کو ایک اجنبی مقام پر اور اجنبی لوگوں میں پایا۔ شہزادے کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا۔ اس نے دیکھا تو سرہانے ایک نہایت حسین و جمیل پری کو کھڑے پایا۔ شہزادے نے پوچھا تو کون ہے اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟ پری نے جواب دیا کہ تیرے عشق نے مجھے بے قرار کیا ہے اس لیے میں تجھے اٹھا کر یہاں لے آئی ہوں۔ اب یہ گھر میرا نہیں تیرا ہے۔ میں پری ہوں اور یہ پرستان ہے۔ شہزاد نے مجبور ہوکر ہاں میں ہاں ملائی۔ اس طرح شہزادہ پرستان میں رہنے لگا۔ اصل میں وہ ہروقت پریشان اور مایوس رہتا تھا۔ پری کا نام "ماہ رخ” تھا اور باپ سے یہ کام اس نے پوشیدہ طور پر کیا تھا۔

ایک دن پری نے کہا کہ میں شام کے وقت اپنے باپ کے پاس جاتی ہوں اس لئے تجھے یہ گھوڑا دیتی ہوں۔ تو اس گھوڑے پر سوار ہو کر سیر کو جایا کر اور رات کا ایک پہر سیر کر کے واپس آ جایا کر۔ مگر شہر میں کسی سے ہرگز دل نہ لگانا ورنہ تمہاری خیر نہ ہوگی۔پری نے شہزادے کو یہ مصنوعی گھوڑا چلانے کا ڈھنگ بھی سکھا دیا۔ اس کے بعد رات کے ایک پہر کے لئے شہزادے نے سیر کرنا شروع کی۔

ایک پہر سیر کرکے وہ اپنے مقام پر واپس آ جاتا تھا۔ ایک رات بے نظیر سیر کے لیے گیا۔ اچانک اسے ایک جگہ خوبصورت باغ دکھائی دیا۔ اس میں ایک خوبصورت محل نظر آیا۔شہزادہ نیچے اترا، محل کے اندر گیا اور وہاں پندرہ سال کی ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی کو دیکھا جس کے اردگرد خواصیں کھڑی تھیں۔ اچانک خواصوں میں سے کسی کی نظر شہزادے پر پڑی۔ وہ آپس میں طرح طرح کی باتیں کرنے لگیں۔

جب شہزادی نے یہ باتیں سنیں تو اس کے دل میں تڑپ پیدا ہوئی۔ اس کا نام "بدرمنیر” تھا۔ خواصوں کے ساتھ وہ شہزادے کو دیکھنے کے لیے گئی۔ جب اس نے بے نظیر کو دیکھا تو دونوں ایک دوسرے پر عاشق ہو گئے اور ایک دوسرے کا حسن دیکھ کر دونوں بے ہوش ہو گے۔خواصوں میں سے ایک کا نام "نجم النساء”تھا اس نے گلاب چھڑک کر انہیں ہوش میں لایا۔ دونوں نے آپس میں باتیں کیں اور ایک دوسرے کا تعارف کرایا۔ شہزادے کی باتیں سن کر بدرمنیر ناراض ہوئی مگر بے نظیر نے حقیقت اور بے بسی کا اظہار کیا اور روزانہ آنے کا وعدہ کیا۔اس دن شہزادہ واپس چلا گیا اور اس کے بعد حسب معمول روزانہ وہاں آنا جانا شروع ہو گیا۔ یہاں دونوں آپس میں ہنستے کھیلتے تھے اور حسن و عشق کی باتیں کرتے تھے۔

ایک دن شہزادے کو اس حالت میں کسی دیو نے دیکھا اور جاکر پری کو بتا دیا۔یہ سن کر پری کو بہت غصہ آیا۔ اس نے دیوؤں کو حکم دیا اور دیوؤں نے شہزادے کو ایک صحرا میں لے جا کر ایک کنویں میں ڈال دیا اور اوپر ایک بہت بڑا پتھر رکھ دیا اور دیوؤں کو پہرے پر کھڑا کردیا۔

ادھر جب بے نظیر بدرمنیر کے پاس کئی دن تک نہ آیا تو وہ سخت غمگین اور بے قرار ہو گی۔ رو رو کر اس کا برا حال ہو گیا۔ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ اس کو کھانے، پینے، پہننے اور ہار سنگھار کرنے کا ہوش نہ رہا۔

بدرمنیر کا یہ حال دیکھ کر وزیر زادی نجم النساء نے کہا کہ پردیسیوں سے اس طرح دل لگانا اچھا نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے شہزادہ آپ کو دھوکہ دے گیا ہو۔ بدر منیر نے کہا کہ خدا ہی جانتا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ شہزادہ دھوکے باز نہیں ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ پری کو اس بات کا علم ہو گیا ہو اور اس نے شہزادے کو کہیں قید کر دیا ہو۔بدرمنیر کی بیتابی دیکھ کر نجم النساء نے اپنا لباس تبدیل کیا، وہ جوگی بنی اور شہزادے کی تلاش میں نکل گئی۔ میدانوں، جنگلوں، پہاڑوں اور آبادیوں میں وہ شہزادے کو تلاش کرتی تھی۔

ایک دن وہ ایک جنگل میں پہنچی وہاں اسے رات ہو گئی۔ اس دن چاند کی چودھویں رات تھی۔ ہر طرف چاندنی کا نور پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک جگہ بیٹھ کر بین بجانے لگی۔ اتفاق سے اس رات وہاں سے جنوں کے بادشاہ کے بیٹے فیروز شاہ کا وہاں سے گزر ہوا جس کی عمر بیس سال تھی۔ اس نے بین کی آواز سنی تو نیچے اتر آیا۔ جوگی یعنی نجم النساء کا حسن و جمال اور بین بجانے کے فن کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گیا۔ نجم النساء صبح ہونے تک بین بجاتی رہی اور وہ سامنے بیٹھ کر روتا رہا۔ جب صبح وہ بین بجانا بند کرکے اٹھ کر جانے لگی تو فیروز شاہ نے اسے اپنے تخت پر بٹھایا اور پرستان میں لے گیا۔ وہاں اسے رہنے کے لئے الگ مقام دیا۔ کسی نہ کسی کام کے بہانے وہ ہر روز جوگی نجم النساء کے پاس رہتا تھا اور اس سے بین سن سن کر روتا تھا۔ آخر عاجز ہو کر اس نے پری سے اپنے عشق کا حال بیان کیا۔ نجم النساء نے جواب میں کہا کہ میری کہانی سن کر پہلے تم میری مراد پوری کرو تو پھر تمہاری مراد بھی پوری ہو گی۔

فیروز شاہ نے کہانی پوچھی۔ نجم النساء نے جواب دیا کہ شہر سراندیپ کا بادشاہ "مسعود شاہ” ہے اس کی ایک بیٹی ہے جو نہایت خوبصورت ہے۔ اور جس کا نام بدرمنیر ہے۔ وہ شہزادہ بے نظیر پر عاشق ہے لیکن ماہ رخ پری بھی اس پر عاشق ہے۔ پری کو جب علم ہوا تو اس نے شہزادے کو کہیں پھینک دیا ہے۔میں اسی کی تلاش میں ہوں۔ اس کو تلاش کرنے میں میری مدد کریں پھر آپ کی مراد پوری کروں گی۔

یہ سن کر فیروز شاہ نے تمام دیوؤں کو بلایا اور شہزادے کو ڈھونڈنے کے لیے حکم دیا۔یہ حکم پا کر تمام دیو تلاش کے لیے نکل گئے۔ اچانک ایک دیو کا ایک جگہ سے گزر ہوا۔ اسے ایک کنویں سے رونے کی آواز آئی۔ ایک طاقت ور دیو نے کنویں سے پتھر اٹھایا اور شہزادے کو نکال کر فیروز شاہ کے پاس پہنچا دیا۔ نجم النساء اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی اور فیروز شاہ نے شہزادے کو تخت پر بٹھایا اور بدر منیر کے پاس پہنچایا۔ اسے تمام سرگذشت سنائی۔ دونوں خوب روئے۔ اس کے بعد کھانا کھایا اور دونوں الگ الگ خواب گاہوں میں چلے گئے۔

اس طرح وہ چاروں بہت دیر تک عیش و عشرت کرتے رہے۔ آخر فیصلہ کیا کہ اس طرح چھپ کر رہنا اچھا نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے والدین سے اپنے اپنے مقصد کا اظہار کریں۔ ہوسکتا ہے خدا ہماری مدد کرے اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔ یہ مشورہ کرکے بدرمنیر اور نجم النساء اپنے اپنے والدین کے پاس چلی گئیں۔

بےنظیر اور فیروز شاہ نے مال و اسباب جمع کیا، فوج تیار کی اور سلطنت کے سامان مہیا کئے۔ پھر اسی جگہ آئے اور وہاں کے بادشاہ مسعود شاہ کو خط لکھا کہ میں ایک شہزادہ ہوں اور میرے مقدر مجھے یہاں لے آئے ہیں آپ مجھے اپنی غلامی میں رکھ لیں۔ بادشاہ خط پڑھ کر متاثر ہوا اور رشتہ منظور کرلیا۔ شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ ساز و سامان تیار کیا اور بڑی دھوم دھام سے بدرمنیر اور بے نظیر کی شادی ہوگئی۔ دونوں خوشی سے رہنے لگے۔ اس کے بعد بے نظیر۔ نجم النساء کے باپ کے پاس گیا اور فیروزشاہ کو اپنا بھائی جتا کر اس کے لیے رشتہ مانگا،وہ رضا مند ہوگیا۔ شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ مال واسباب جمع کیا اور نجم النساء فیروز شاہ کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہو گئی۔ اس کے بعد اخراجات لے کر دونوں پرستان میں چلے گئے۔

بے نظیر اور بدر منیر بھی اجازت لے کر اپنے وطن چلے گئے۔ اپنے شہر کے پاس پہنچ کر خیمے لگائے اور وہاں رہنے لگے۔ لوگوں نے ان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ جو شہزادہ غائب ہوا تھا وہ آ گیا ہے۔ یہ سن کر ماں باپ ننگے پاؤں آئے، بیٹے کو گلے سے لگایا اور خوب روئے۔ پھر بے نظیر اور بدر منیر کو اپنے محل میں لے گئے، خدا کا شکر ادا کیا اور خوشیاں منائیں۔ گھر میں رونق ہو گئی۔ ماں باپ کی خواہش تھی کے بے نظیر کی شادی اپنے ہاتھوں سے کریں اس لیے انہوں نے بے نظیر اور بدر منیر کی شادی دوبارہ کرائی اور خوشیاں منائیں۔ خدا کا شکر ادا کیا اس طرح بچھڑے ہوئے ملے اور اجڑا ہوا باغ خدا کے فضل سے پھر سے ہرا بھرا ہو گیا۔

Mock Test Urdu

مثنوی 'سحرالبیان' کا خلاصہ 1
Close