"پھول بن” کا تنقیدی جائزہ

مثنوی "پھول بن”1744 اشعار پر مشتمل گولکنڈہ کے عظیم شاعر وانشاپرداز ‘ابن نشاطی’ کی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ابن نشاطی کاپورانام شیخ محمد مظہر الدین شیخ فخر الدین ابن نشاطی ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک انشاپرداز تھے لیکن ان کی انشا پردازی کا کوئی نمونہ منظر عام پر نہیں آیا۔

مثنوی "پھول بن” سلطان عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1066ھ میں صرف تین مہینوں میں لکھی گئی۔ابن نشاطی فارسی اور دکنی اردو کا ایک عالم اور ماہر عروض و بلاغت بھی تھا۔ اسے فن شاعری میں بڑی مہارت حاصل تھی خصوصاً صنائع بدائع کے استعمال میں وہ ید طولی رکھتا تھا۔اس مثنوی کے مطالعے سے شاعر کی قادر الکلامی اور کمال فن کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ مثنوی اگرچہ فارسی تصنیف "بساتین الانس” کے قصے پر مبنی ہے لیکن ابن نشاطی نے اصل قصے میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں اور اسے متعدد ابواب میں تقسیم کرکے ہر باب کا آغاز ایک ایسے شعر سے کیا ہے جس میں اس باب کا خلاصہ آجاتا ہے اور اگر تمام ابواب کے عنوانی ابواب کو یکجا کردیا جائے تو پوری مثنوی لب لباب پیش نظر ہو جاتی ہے۔

پھول بن کی کہانی قصہ در قصہ آگے بڑھتی ہے اور اس میں تین قصے اور چند ذیلی کہانیاں شامل ہیں۔ مثنوی پھول بن میں ابن نشاطی نے جذبات نگاری، منظر نگاری اور کردار نگاری کا کمال دکھایا ہے۔اردو ادب کی یہ واحد مثنوی ہے جس میں 39 صنعتیں استعمال کی گئی ہیں.

مثنوی "پھول بن” میں کل چھ قصے بیان ہوئے ہیں جن میں تین مرکزی ہیں اور باقی تین ضمنی ہیں جو دوسرے قصوں کو آپس میں جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔اس مثنوی کے مطالعے سے دکنی ادب ک لسانی و دیگر خصوصیات کا اندازہ ہوتا ہے۔اردو کے کلاسیکی ادب میں اس مثنوی کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔اس کا خلاصہ درج ذیل سطور میں پیش کیا جاتا ہے۔چنانچہ مشرق میں کنچن پٹن نام کا ایک شہر آباد تھا جس شہر کی ہر چیز سونے کی تھی۔ اس شہر کے تمام لوگ خوشحال تھے، کوئی بھی فقیر بھیک مانگتا نظر نہ آتا تھا۔ اس شہر کا بادشاہ نہایت ہی خوش رہتا تھا، رعایا بھی خوش تھی۔ یہ سچ ہے کہ اس شہر پر عجیب آسمانی فیض نازل تھا کہ شہر میں پہنچ کر بوڑھے بھی جوانی پاتے تھے۔ وہاں ہمیشہ خوشی کی بارش ہوتی تھی۔

رات کو ایک دن بادشاہ خواب میں ایک درویش کو نہایت ہی اداس حالت میں دیکھتا ہے۔ وہ درویش بادشاہ کے دربار میں آنا چاہتا ہے مگر انہیں سکتا۔ اگلے دن جب بادشاہ کی نیند کھلی تو بادشاہ کو خواب کی یاد آئی۔ خادم کو بلایا کہ اس قسم کے فقیر کو بلاؤ۔ کافی تلاش اور کوشش کے بعد اس درویش کو لایا جاتا ہے۔ درویش بادشاہ کو روزانہ ایک حکایت سناتا اور ہر شب کو ایک نیا سوز دیتا۔ اس پر بادشاہ بہت خوش ہوتا اور خوشی سے مست رہتا تھا۔ ایک دن بادشاہ درویش سے اپنے مست ہونے کا سبب پوچھتا ہے تو درویش اسے ایک مجازی حکایت سناتا ہے۔

ملک خراسان جو سب سے بڑا ملک تھا۔ اس کا باپ وہاں کا پردھان تھا وہ اتنا روشن ضمیر اور صاف باطن شخص تھا کہ ہونے والی بات کو پہلے ہی بتا دیتا تھا۔اس نے ایک دفعہ ایک حکایت سنی تھی کہ کشمیر میں ایک نہایت ہی عقلمند اور عادل بادشاہ تھا۔ بادشاہ کی حکومت میں ہر چیز موجود تھی حتیٰ کے ہوا بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ جلتی تھی۔ ایک دن بادشاہ اپنی مجلس جماتا ہے تو ایک باغبان ایک پھول لے کر حاضر ہوتا ہے۔ بادشاہ پھول کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے اور مالی کو ایسا ہی پھول لگانے کے لیے کہتا ہے۔ مالی ہر روز بادشاہ کے دربار میں پھول لے کر جایا کرتا تھا جس پر بادشاہ بہت خوش رہتا تھا۔

ایک دن بادشاہ نے پھول کو سوکھا ہوا دیکھ کر مالی سے اس کا سبب پوچھا تو مالی نے کہا کہ ایک کالا بلبل ہے جو اس پھول پر بڑا عاشق ہے۔ ہر روز پھول پر بیٹھ کر چہچہاتا ہے اسی لئے پھول مرجھا گیا ہے۔ یہ سب سن کر بادشاہ نے بلبل کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ بلبل کو گرفتار کر لیا گیا اور اس سے پریشان ہونے کا سبب پوچھا گیا۔ اس پر بلبل بادشاہ کو اپنا حال اس طرح سناتا ہے۔

اس کا باپ ختن کا ایک بڑا ہی مال ودولت والا سوداگر تھا اور ہر ملک میں چکر کاٹتا تھا۔ ایک دن اس نے بھی اس کے ساتھ تجارت کے لیے گجرات کا سفر کیا۔ راستہ میں ایک جگہ رکے جہاں وہ ایک زاہد کی لڑکی پر عاشق ہو جاتا ہے۔ آخر زاہد کی بیٹی سے ملاقات ہوتی ہے۔ عیش و عشرت سے رہنے لگتے ہیں۔ زاہد کو کوئی خبر کردیتا ہے، اس نے اپنی آبرو جاتی دیکھ کر ایک منتر پڑھ کر ہماری صورت تبدیل کر دی۔ اس طرح وہ بلبل بن گیا اور زاہد کی بیٹی گل بن گئی۔ اسی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔

یہ سن کر بادشاہ کو اپنے خزانے میں رکھی ہوئی انگوٹھی کی یادآتی ہے جس کو پھیرنے سے اصلی صورت تبدیل ہوجاتی ہے۔ بادشاہ ان دونوں پر انگوٹھی تھیرتا ہے تو ان دونوں کی صورت تبدیل ہوکر اصلی صورت بن جاتی ہے۔ اور دونوں سوداگر کے لڑکے اور زاہد کی بیٹی کو ایک محل میں رکھ دیتے ہیں۔اور ان دونوں کی شادی کر دیتے ہیں۔

بادشاہ سوداگر کے بیٹے کو دربار میں رکھ لیتا ہے۔ وہ ہر روز بادشاہ کا دل بہلانے کے لئے قصے سناتا ہے۔ ایک دن بادشاہ کی فرمائش پر اس نے ایک عشقیہ قصہ سنانا شروع کیا۔

ملک پیشن کا بادشاہ ایک روز دربار میں ہی تھا کہ چین سے نقاش کے آنے کی خبر سن کر بڑا اداس ہو جاتا ہے اور ہم غلط کرنے کے لیے ندیم ایک حکایت بیان کرتا ہے کہ ایک بادشاہ کو جوگیوں سے بڑا پیار تھا۔ دور دراز سے جوگی اس کے پاس آتے تھے۔

ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک ایسے جوگی سے ہوتی ہے جو نقل روح کا منتر جانتا ہے۔ بادشاہ نے یہ منتر جوگی سے سیکھ لیا جس سے وہ کسی اور کے جسم میں جاسکتا تھا اور واپس اپنے جسم میں بھی آ سکتا تھا۔

ایک روز بادشاہ نے کسی بات پر مجبور ہو کر یہ منتر اپنے وزیر کو سکھلا دیا جس پر بادشاہ کو بہت پریشان ہونا پڑا۔

ایک دن بادشاہ نے کسی مردہ ہرن کو دیکھ کر اپنی روح کو اس میں ڈال دی اور جنگل میں پھرنے لگا۔ وزیر نے فوراً اپنی روح بادشاہ کے جسم میں ڈال کر اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ وزیر بادشاہ بن گیا اور بادشاہ بن کر رانی ستونتی کے پاس چلا گیا۔ بادشاہ کے رانی ستونتی نے جب اس کے چال چلن نئے دیکھے تو اس کو شک ہو گیا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ جب کبھی وہ رانی سے محبت کا اظہار کرتا تو وہ اسے ٹال دیتی۔

بادشاہ جب وہاں آیا تو اپنے جسم کی جگہ خالی دیکھ کر بڑا اداس ہو جاتا ہے اور ایک مردہ طوطے کو دیکھ کر اس کے جسم میں اپنی روح ڈال دیتا ہے اور شکاری کے پاس چلا جاتا ہے۔ شکاری طوطے کو بادشاہ کے حوالے کرتا ہے۔

ایک روز طوطے کی ملاقات رانی ستونتی سے ہوتی ہے۔ طوطا رانی کو سارا ماجرہ سناتا ہے۔ رانی نے طوطے کے کہنے کے مطابق کیا۔ رانی نقلی بادشاہ کو مجبور کرکے جب مری ہوئی قمری اس کے پاس رکھی اور اس میں اس کی روح ڈالنے کے لیے کہا تو طوطے نے فوراً اصلی بادشاہ کا جسم خالی دیکھ کر اپنی روح اس میں داخل کر دی اور قمری کی ٹانگیں چیر کر اسے پھینک دیا اور سلیمان کی طرح پھر تخت پر بیٹھ گیا۔دنیا کو خوشی نصیب ہوئی۔اتنے میں ایک وزیر آتا ہے اور بادشاہ کو یوں قصہ سناتا ہے۔

قدیم زمانے میں ملک عجم کے بادشاہ کی بیٹی بڑی قبول صورت تھی۔ اس کا نام سمن بر تھا۔ مصر کا شہزادہ ہمایوں اس کے حسن کی تعریف سن کر اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور جب عشق کا سوز دل میں ضبط نہ ہو سکا تو وہ ایک روز سمن بر کے محل کے پاس جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بے قرار ہو جاتے ہیں۔ پہلے تو شہزادی اس پر یقین نہ کرتی تھی لیکن جب شہزادی نے اس میں عشق کے پالے دیکھے تو اس کو اپنا سچا عشق مانگی۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا اور گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔

گنگا کے کنارے ایک محل میں قیام پذیر ہوئے۔ اس محل میں ایک مالن رہتی تھی وہ بادشاہ کے پاس پھول لے کر جاتی تھی اور ہر روز سمن بر کے پاس بھی پھول لے کر آیا کرتی تھی۔ایک دن مالن سمن بر کے ہاتھوں کا گوندھا ہوا ہار لے کر بادشاہ کے پاس لے گئی۔ بادشاہ وہ ہار دیکھ کر بہت حیران ہوا اور مالن سے پوچھا کہ یہ ہار کس نے گوندا ہے۔

بادشاہ کو غصے میں دیکھ کر مالن نے ہمایوں اور سمن بر کے حسن کی تعریف کا سب حال بادشاہ کو بیان کردیا۔ بادشاہ یہ سن کر سمن بر پر عاشق ہو گیا اور اپنی بادشاہی کی پرواہ بھی نہ کرتے ہوئے سمن بر کو پانا چاہا۔

ایک دن بادشاہ اور اس کے وزیر ہمایوں کو اپنے پاس بلاتے ہیں اسے خوب شراب پلاتے ہیں۔ ہمایوں کو مجبوراً دریا میں کودنا پڑتا ہے۔ وہ ایک مچھلی کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ بادشاہ نے اپنے وزیر کو سمن بر کے پاس بھیجا مگر وہ ناکام رہا۔ اس نے بہت سمجھایا کہ دنیا میں نام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔جو چیز دنیا میں موجود ہے وہ آخر ختم ہو جائے گی اور کہا کہ بادشاہ تیری محبت میں صادق ہے۔ وہ تیرے عشق میں دیوانہ ہے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ ہمایوں کو انہوں نے ہی مروایا ہے۔

ادھر مصر کا بادشاہ اپنے بیٹے کی جدائی میں تڑپ رہا ہے۔ اس کے مرنے کی خبر سن کر غمزدہ ہوگیا ہے اور سندھ پر حملہ کرنے کی تیاری کرتا ہے۔ بڑی گھمسان کی جنگ ہوئی۔ آخر مصر کے بادشاہ کی فتح ہوئی اور سندھ کے بادشاہ کو گرفتار کرلیا اور شہزادے کے بارے میں پوچھا۔

سندھ کا بادشاہ دریا میں مچھلی چھوڑتا ہے جس پر طلسم لکھے ہوئے تھے۔ اس کو مچھلی سے یہ پتہ چلا کہ شہزادہ ابھی زندہ ہے اور پریوں کی قید میں ہے۔ ہمایوں کا باپ جو مصر کا بادشاہ تھا جب اسے شہزادے کے زندہ رہنے کا حال معلوم ہوا تو وہ اپنے ملک کو روانہ ہو گیا۔

اب سمن بر نے شہزادہ کے زندہ رہنے کی خبر سن کر مصر کا ارادہ کیا۔ راستے میں طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کرنے کے بعد وہ ایک جزیرے میں پہنچتی ہے جو کہ جنت کا باغ ہوتا ہے۔ وہ یہاں ایک محل میں رہتی ہے۔

وہاں ایک بادشاہ تھا جس کے حکم سے جن اور پریاں کام کرتی تھیں۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام ملک آرا تھا۔ ملک آرا ایک دن سیر کو نکلتی ہے اور اس محل میں سمن بر کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہے۔ سمن بر نے اس سے اپنے دل کا حال سنایا۔ملک آرا نے جب اس کی درد بھری کہانی سنی تو وہ اسے اپنے ساتھ لے آئی۔ وہاں اسے ایک محل میں رکھا۔ شہزادہ ہمایوں جو پریوں کی قید میں تھا ملک آرا نے اس کی کھوج کے لئے پریوں کے بادشاہ کے پاس ایک خط بھیج۔ا اس پر شہزادے کی کھوج ہوئی۔ بادشاہ نے شہزادے کو بڑی محبت سے اپنے پاس بٹھایا اور حال پوچھا۔ شہزادے نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بادشاہ اس پر بہت خوش ہوا اور اسے دلاسہ دے کر پریوں کے ساتھ ملک آرا کو روانہ کیا۔

ملک آرا کو شہزادی کی خبر ہوئی۔ وہ سن کر خود اسے لینے گئی۔ ایک دن اچھی سی گھڑی دیکھ کر دونوں کو بلایا اور حفاظت کے ساتھ دونوں کو اپنے ملک مصر کو روانہ کیا۔ شہر میں پہنچتے ہی لوگوں نے بڑی خوشیاں منائیں۔ وزیروں نے خدمت بجا لائی۔ شہزادہ کو بٹھا کر اس کی دہائی کرائی گئی۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے اور شہزادہ بے فکری سے راج کرنے لگا۔ اسی پر یہ مثنوی ختم ہوتی ہے۔

Close