مرزا محمد رفیع سودا کی قصیدہ نگاری

مرزا محمد رفیع سودا کو اردو قصیدہ نگاری میں وہی مقام حاصل ہے جو غزل میں میر اور غالب کو حاصل ہے۔اردو میں قصیدہ نگاری کا آغاز دکن سے ہوتا ہے۔دکن اردو زبان و ادب کا پہلا بڑا مرکز تھا جہاں تمام اصنافِ سخن کو پروان چڑھنے کا بھرپور موقع ملا۔قطب شاہی، عادل شاہی وغیرہ شاہی ریاستوں میں متعدد شعراء نے قابل ذکر قصائد تصنیف کیے ہیں۔نصرتی دکن کا ایک بڑا قصیدہ نگار ہو گزرا ہے جس نے دکن میں قصیدہ کو بام عروج بخشا۔بعد میں ولی دکنی نے بھی اس صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اردو قصیدہ کو صحیح معنوں میں جس شاعر نے اعتبار بخشا اور اسے فارسی قصیدہ نگاری کے برابر لاکھڑا کیا، وہ مرزا محمد رفیع سودا ہیں۔

سودا 1712ء میں پیدا ہوا اور 1781ء میں لکھنؤ میں انتقال کیا۔شیخ چاند کی تحقیق کے مطابق سودا کے قصائد کی تعداد 55 ہے جبکہ عتیق احمد صدیقی نے اپنی کتاب”قصائد سودا” میں 58 قصائد کی نشاندہی کی ہے جن میں مذہبی اور غیر مذہبی تمام قسم کے قصائد شامل ہیں۔مذہبی قصائد کی تعداد 22 ہے اور ان میں جن مذہبی شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے ان میں پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہﷺ کے علاوہ اور بھی کئی شخصیات شامل ہیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

  • (١) قصیدہ در نعت سید المرسلین خاتم النبین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم (دو قصائد)
  • (٢) قصیدہ در منقبت علی بن ابو طالب (سات قصائد)
  • (٣) قصیدہ در مدح جناب فاطمہ الزہرا
  • (٤) قصیدہ در مدح امام حسن
  • (٥) قصیدہ در مدح امام حسین
  • (٦) قصیدہ در منقبت امام زین العابدین
  • (٧) قصیدہ در منقبت امام محمد باقر
  • (٨) قصیدہ در منقبت جعفر صادق
  • (٩) قصیدہ در منقبت حضرات امام کاظمین
  • (١٠) قصیدہ در مدح ابوالحسن علی رضا ابن موسی (دو قصائد)
  • (١١) قصیدہ در مدح امام تقی
  • (١٢) قصیدہ در مدح امام نقی
  • (١٣) قصیدہ در مدح امام حسن العسکری
  • (١٤) قصیدہ در مدح امام مہدی (دو قصائد)

ان مذکورہ قصائد کے علاوہ بقیہ قصائد میں 23 قصائد بادشاہوں، نوابوں اور امرا کی شان میں تحریر کیے ہیں۔جن شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے وہ یوں ہیں۔

  • (١) قصیدہ در مدح محمد شاہ عالم بہادر شاہ غازی
  • (٢) قصیدہ در مدح عزیز الدین محمد عالمگیر ثانی بادشاہ غازی (دو قصائد)
  • (٣) گر مداح بسنت خان محمد شاہی (دو قصائد)
  • (٤) قصیدہ در مدح نواب سیف الدولہ (تین قصائد)
  • (٥) قصیدہ در مدح غازی الدین خان بہادر عمادالملک (دو قصائد)
  • (٦) قصیدہ در مدح نواب عماد الملک آصف جاہ
  • (٧) قصیدہ در مدح نواب شجاع الدولہ (سات قصائد)
  • (٨) قصیدہ در مدح حکیم میر محمد کاظم
  • (٩) قصیدہ در مدح آصف الدولہ (چھ قصائد)
  • (١٠) قصیدہ در مدح نواب سر فراز الدولہ (دو قصائد)
  • (١١) در مدح نواب ممتاز الدولہ

ان کے علاوہ دس ہجویات بھی سودا کے کارناموں میں شامل ہیں۔ جن میں چند قابل ذکر ہیں، ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

  • (١) قصیدہ در ہجو اسپ مسمیٰ بہ تضحیک روزگار
  • (٢) قصیدہ شہر آشوب
  • (٣) قصیدہ در ہجو مولوی ساجد
  • (٤) قصیدہ در ہجو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
  • (٥) قصیدہ در ہجو شیخ بریلی وغیرہ

سودا کے قصائد کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو سودا ہی شمالی ہند میں باقاعدہ طور پر قصیدہ کا بنیاد گزار ہے۔بقول ڈاکٹر سلام سندھلوی”اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی ہند میں سودا سے قبل حاتم اور فغاں نے قصیدے کہے ہیں مگر ان کی صرف تاریخی اہمیت ہوسکتی ہے،ان کی ادبی حیثیت میں شک ہے۔سودا نے پہلی بار فارسی کی طرز پر قصیدے کہے ہیں اور فارسی قصیدہ گو شعراء سے اس میدان میں ٹکر بھی لی ہے اور اگر آزاد کے بیان پر اعتبار کیا جائے تو وہ اس میدان میں فارسی کے نامور شہسواروں کے ساتھ عنان در عنان ہی گئے بلکہ اکثر میدانوں میں آگے بھی نکل گئے ہیں۔”اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں موازنہ درکار نہیں مگر یہ ضرور ہوا کہ اردو قصیدہ میں سودا نے اس صنف سخن کو فنی خصوصیات سے مالا مال کیا ہے۔وہ کون سی خصوصیات اور فنی خوبیاں ہیں جو سودا کے قصائد میں نہیں ہیں۔

اجزائے ترکیبی کے حوالے سے بھی انہوں نے تشبیب، گریز، مدح، اور حسن طلب وغیرہ میں اپنی بے پناہ فنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔سودا نے تشبیب میں متنوع موضوعات کو برتا ہے اور اتنا تنوع شاعر صرف سودا کے قصیدوں میں ہی ملتا ہے۔موسم بہار کی منظرکشی، عاشقانہ و رندانہ جذبات،دنیا کی بے ثباتی،صوفیانہ اور حکیمانہ مضامین،شکایت زمانہ،تاریخی واقعات وغیرہ موضوعات ان کے قصیدوں کی تشبیب کا حصہ ہیں۔سودا کا تشبیب کا حصہ نہایت ہی دلکش اور پر زور ہوتا ہے۔کیونکہ شاعر کا بنیادی مقصد اپنے ممدوح کو متاثر کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ ہمہ تن گوش ہو کر قصیدہ نگار کی جانب متوجہ ہوکر اس کی شایان شان داد دے۔یہی وجہ ہے کہ سودا کے تشبیب کے اشعار نہایت ہی زوردار و مبالغہ آمیز ہوتے ہیں۔شاید اسی لیے سودا کے تشبیب میں بہاریہ اور نشاطیہ مضامین اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سودہ کو فطری طور پر علوی تخیل، جودت طبع اور فکر رسا کا ملکہ حاصل ہے۔اس لیے انہوں نے پرزور اور پرشکوہ نیز قوت متخیلہ پر مبنی تشبیب کے اشعار پیش کئے ہیں۔مثلا۔

ہوا جب کفر ثابت، ہے وہ تمغائہ مسلمانی

نو ٹوٹی شیخ سے زنار تسبیح سلیمان

منکر خدا سے کیوں نہ حکیموں کی ہو زبان
جب شہرہ سے مرے ملا ہو اس قدر جہاں

آٹھ گیا بہمن ودے کا چمنستان سے عمل
تیغ اردی نے کیا ملک خراسان مستاصل

قصیدہ میں سودا کے فنی کمالات اور فنکارانہ ہنرمندی کے جوہر مدح میں ہی کھلتے ہیں۔سودا کا کمال یہ ہے کہ وہ ممدوح کی شخصیت کے عین مطابق ہی زبان وضع کرتے ہیں۔اس میں شاعر ممدوح کے جاہ و جلال،شوکت و حشمت،عظمت و بزرگی،بہادری و شجاعت،عدل و انصاف،جہانگیری وجہاں بانی اور مخلوق پروری کی تعریف کرتا ہے۔اگر ممدوح کوئی مذہبی شخصیت ہے تو اسکا علم و حلم، تقوی و پرہیزگاری،عفودرگزر،زہد و تقوی،عبادت و ریاضت وغیرہ کی بھی تعریف وتوصیف کرتا ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ (سودا)ممدوح کی تلوار، فوج، ہاتھی، گھوڑے اور دیگر جنگی سازوسامان کی بھی تعریف کرتا ہے اور مبالغہ سے بھی کام لیتا ہے۔اس سلسلے میں وہ عمدہ الفاظ و محاورات، بھاری پر کم القاب و آداب،تشبیہات و استعارات نیز تراکیب کا بھی تانابانا تیار کرتا ہے۔اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

دید تیرا، بدوئی حق سے، نگہ کا ہے خلل
ایک سے دو نظر آتے ہیں بچشم احوال

تیری قدرت بہ جہاں، قدرت حق کی خاطر
خلق کے وہم غلط کار میں ٹھہرے ہے مثل

علم تیرا نہیں ہے، علم خدا سے باہر
ہی عمل بھی وہی تیرا جو خدا کا ہے عمل

حسن طلب میں بھی سودا نے بے پناہ فنکاری کا ثبوت دیا ہے اور ممدوح کو اس قدر متاثر کیا ہے کے ممدوح کو شاعر کا دامن موتیوں اور جواہر سے بھرتے ہی بنتی ہے۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وہ بات سے بات پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

کرے ہے عرض یہ سودا جناب اقدس میں
زمانہ چاہے تھا مجھ کو رکھے بہ حال تباہ

تجھ آستان پر ولے اب مدد طالع کے
ہوا ہے آن کے حاضر یہ بندۂ درگاہ

بس اب جہاں میں کوئی خوش نصیب ہے مجھ سا
امید جس کی بر آئی ہو اتنی خاطر خواہ

کیا میں فرض کہ آنے سے زیر بال ہما
جنہیں حصول ہو جمشید کی سی شوکت و جاہ

سودا کے ہجویہ قصائد میں در ہجواسپ (تضہیک روزگار) و شہرآشوب بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔یہ قصائد سودا کے دور کے معاشی اور اقتصادی نیز سیاسی صورتحال کے مرثیہ ہیں۔مسلسل زوال پذیر اور دگرگوں ہوتی ہوئی مغلیہ سلطنت کو ایک گھوڑے کی نہ توانائی اور لاغر پن کے حوالے سے واضح کیا ہے۔

ناطاقتی کو اسکی کہاں تک کروں بیان
فاقوں کا اس کے اب میں کہاں تک کروں شمار

مانند نقش نعل زمین سے بجز فنا
ہر گز نہ اٹھ سکے وہ اگر بیٹھے ایک بار

ان کے علاوہ سودا نے شخصی ہجویات بھی لکھی ہیں لیکن ان ہجویہ قصائد میں اس کے عقائد و نظریات کے حوالے سے ذاتی بغض وعناد بلکہ خبث باطنی کا پتہ چلتا ہے۔حالا‌نکہ یہ ضرور ہے کہ وہ اچھے خاصے دنیا دار آدمی تھے۔اس لئے اس طرح کے شخص سے اس طرح کے ہجویہ قصائد لکھنا کوئی بعید نہیں۔ایک قصیدہ جو کے ایک مولوی ساجد کی ہجو میں لکھا گیا ہے بقول ام ہانی اشرف”رکاکت اور ابتذال سے مملو ہے یقین نہیں آتا سودا جیسا پڑھا لکھا آدمی اس قدر فحش نگاری پر اتر آئے گا۔ایک ایک شعر سے کراہت ٹپکتی ہے اور ہر شعر کسی سڑی ہوئی ذہنیت کا غماز ہے۔”لیکن مجموعی طور پر سودا کے قصائد معیار کا اعلیٰ نمونہ ہیں اور یہ معیار صرف سودہ کا ہی حصہ ہیں۔

بقول ڈاکٹر عتیق احمد صدیقی”اگر یہ پوچھا جائے کہ اٹھارھویں صدی کی اردو شاعری کو کس نے سب سے زیادہ متاثر کیا،سرمایۂ شاعری میں کس نے سب سے زیادہ اضافہ کیا،زبان و بیان کے سب سے زیادہ تجربہ کس نے کیے،مسلماں رویشۃ سے سب سے زیادہ انحراف کس نے کیا اور کس نے سب سے زیادہ ادبی اختراعات کیے تو بلا تامل مرزا محمد رفیع سودا کا نام لیا جا سکتا ہے۔جس نے اردو شاعری کے مزاج کو شگفتگی اور زندہ دلی عطا کی،جس نے جملہ اصناف سخن کو ایک ہمہمہ کے ساتھ برتا،جس نے غزل کو قصیدہ کا شکوہ عطا کیا،جس نے مروجہ مرثیہ گوئی پر لے دے کر کے مرثیے کو ادبی ڈگر کی راہ پر ڈالا،جس نے زبان اردو کو پاک صاف کرنے میں اولیت کا شرف حاصل کیا،جس میں فارسی قصیدوں کے مقابلہ پر قصیدے لکھے اور جس نے ادبی معرکوں میں خود بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور معاصرین وا متقدمین کے کلام پر تنقید کرکے آئندہ کے لیے راہ ہموار کی،وہ سودا ہیں۔۔

Mock Test June 2010 Paper

مرزا محمد رفیع سودا کی قصیدہ نگاری 1
Close