شیخ ابراہیم ذوق کی قصیدہ نگاری

شیخ ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی شیخ محمد رمضان کے بیٹے تھے۔1789ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے لئے والد نے حافظ غلام رسول کے ہاتھ دے دیا۔حافظ صاحب شاعر بھی تھے اور ان کے یہاں ہر وقت شعر و سخن کی محفل گرم رہتی تھی۔ اس ماحول نے طبیعت پر اثر کیا اور کم عمری ہی سے شعر کہنے لگے۔ پہلے اپنا کلام حافظ صاحب کو دکھاتے تھے پھر شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے اور انہیں کا رنگ اختیار کیا۔ شاہ نذیر کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاگرد کہیں استاد سے بڑھ نہ جائے اس لیے حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ آخر کار ذوق نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔

ذوق نے شعر گوئی میں ایسی مشک بہم پہنچائی کہ جلد ہی استاد فن کا رتبہ حاصل کرلیا۔ ظفر نے ان کی شاگردی اختیار کی اور چار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ اس وقت تک ظفر تخت شاہی پر نہ بیٹھے تھے ولی عہد تھے۔ذوق کی عمر اس وقت بیس سال تھی نوجوانی ہی میں ایک قصیدہ لکھ کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا تو خاقانی ہند کا خطاب عطا ہوا۔ ظفر جب بہادر شاہ ظفر کے لقب سے تخت نشین ہوگئے تو استاد کی بھی عزت افزائی کی اور ذوق کو سلطنت کا ملک الشعراء مقرر کیا اور تنخواہ چار روپے سے بڑھا کر سو روپے کردی۔ذوق نے 1854ء میں وفات پائی۔

ذوق کے دیوان میں غزلوں کے علاوہ زیادہ تر قصیدے ملتے ہیں جو بادشاہوں کی مدح میں کہے گئے ہیں۔سودا کے بعد ذوق اردو زبان کے سب سے بڑے قصیدہ نگار ہیں۔ انھوں نے اپنی قصیدہ گوئی کے لئے فارسی شعراء کے شاہکار قصائد کو اپنا معیار بنانے کے بجائے سودا کی ہی پیروی کی لیکن اس سے ذوق کی ادبی شان میں کوئی کمی نہیں آئی۔کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:

"ذوق نے بھی قصائد نہایت اہتمام کاوش سے لکھے، ہر قصیدے کا رنگ جدا ہے، ہر قصیدے میں ایک نئی بات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تنوع میں بھی سودا کی پیروی کرتے ہیں لیکن وہ جوش، وہ گرمی، وہ اصلیت میسر نہیں”

ذوق نے کئی قصائد لکھے لیکن کہا جاتا ہے 1857ء کے ہنگامے میں آگ ذوق کے گھر میں کچھ اس طرح لگی کہ جو کچھ تھا سب جل گیا۔جو قصائد بچ گئے محقیقین و ناقدین نے ان کی تعداد 25 کے قریب بتائی ہے۔ بعض جگہ یہ تعداد 27 بھی ملتی ہے۔ ذوق کی قادر الکلامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بادشاہ اکبر ثانی کی شان میں ایک قصیدہ لکھا جس کے کل 18 اشعار مختلف 18 زبانوں میں تھے۔ اسی کے عوض میں اکبر شاہ ثانی نے انہیں ‘خاقانی ہند’ کا خطاب عطا کیا تھا۔اور بعض جگہ یہ ملتا ہے کہ انھیں ایک گاؤں بھی انعام میں دیا گیا۔ ذوق کی قصیدہ نگاری کی فنی خصوصیات اس طرح سے ہے۔

تشبیب

فنی اعتبار سے ذوق کی قصیدہ نگاری کا جائزہ لیا جائے تو وہ علمی اصطلاحوں کے بادشاہ ہیں۔ تشبیب میں وہ عام طور پر فلسفہ، منطق، نجوم، تصوف اور موسیقی وغیرہ سے متعلق اصطلاحوں اور صنعتوں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ان کی تشبیں بڑی متوازن، پسندیدہ اور نئے پہلو سے پر ہوتی ہیں ض۔سنبل نگار کے مطابق "ذوق کی تشبیب سے بلعموم ایک فرضی تصویر ابھرتی ہے، لفظوں کا زیرو بم اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، فنکارانہ صورت گری کی داد دینی پڑتی ہے۔ وقت پسندی اور نزاکت آفرینی کا قائل ہونا پڑتا ہے لیکن دل پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا”

گریز

قصیدہ کا یہ مقام خون جگر کا تقاضا کرتا ہے۔ سودا کی طرح نہ سہی پھر بھی ذوق گریز کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے قصائد کے اس مقام پر اس قدر بات کا پہلو بدلتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خوبخود بات سے بات پیدا ہو گئی ہے اور ممدوح کا ذکر چھڑ گیا ہے۔ ایک قصیدے میں بطور تشبیب اپنی روش طبیعت اور خاطر نازک کا ذکر کرتے ہیں اور پھر فطری انداز میں زمانے کی مہربانیوں کو بیان کرتے ہیں تو یہیں سے مدد کے لئے فضا ہموار ہو جاتی ہے۔

لے آیا آج مقدر اس آستاں پہ مجھے
کہ سجدہ کرتے ہیں جھک جھک کے جس پہ لیل و نہار

مدح

ذوق ایک دربار شاعر تھے اس لئے ان کے ممدوح کا دائرہ بھی محدود ہے۔انہوں نے ایک قصیدہ مرزا مغل کی مدح میں کہا اور باقی سب کے سب اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی مدح میں لکھے ہیں۔ اس بات پر سنبل نگار نے حیرت جتائی ہے کہ” مذہب سے گہرا شغف ہونے کے باوجود بھی ذوق نے بزرگان دین کی شان میں کوئی قصیدہ نہیں کہا” اصل میں ذوق کے ممدوحین اپنا جاہ و جلال کھو چکے تھے اس لئے مدح گوئی میں مبالغہ آرائی کا سہارا لے کر سودا سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ذوق ممدوح کی خدا ترسی، عدل و انصاف، عقل و حکمت، شان و شوکت اور شجاعت کی تعریف پرزور انداز میں کرتے ہیں۔

آگے جلوے کے ترے پرتو خورشید ہے گرد
آگے رتبے کے ترے خاک ہے بزم کیواں

مدعا و دعا

ذوق کے قصائد کا خاتمہ حسن طلب پر نہیں بلکہ دعا پر ہوتا ہے۔ وہ ایک قناعت پسند انسان تھے اس لئے انہوں نے کبھی بھی اپنے قصائد میں ممدوح کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا۔ اس سے ان کے قصیدوں میں اور بھی نکھار پیدا ہوگیا ہے۔ ایک قصیدے کا خاتمہ اس دعا پر کرتے ہیں:

ختم کرتا ہے سخن ذوق دعا پر اس طرح
تا ہو دریا میں گہر، کان میں پیدا الماس

مجموعی طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ذوق کے قصائد میں جہاں علمیت پسندی، تخیل پرستی، مضمون آفرینی، مبالغہ آرائی، علوم و فنون، تشبیہات و استعارات اور صنائع بدائع کی بھرمار ہے وہیں ان کے قصائد پرکاری و فنکاری، اثریت و شعریت اور سادگی و صفائی سے بھی محروم نہیں ہیں۔ذوق قصیدہ نگاری میں سودا کے مد مقابل نہ سہی لیکن سودا کے بعد وہ اردو قصیدے کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔یہاں فراق گورکھپوری کی اس رائے سے ہمیں اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ "سودا اگر آسمان قصیدہ کے نصف النہار ہیں تو ذوق اسی آسمان کے ماہ کامل ہیں”

Mock Test June 2010 Paper

شیخ ابراہیم ذوق کی قصیدہ نگاری 1
Close