Advertisement
درد نے ”میر تقی میر“ بنا رکھا ہے
مجھ کو اس “عشق“ نے “کشمیر“ بنا رکھا ہے
کسی بچے کے کھلونے جیسا
میرا ہونا بھی ہے نہ ہونے جیسا
میں یہ سمجھا کہ فقط بچھڑے ہیں
ہائے قسمت بُھلا دیا اُس نے
‏یہ بچھڑنا نہیں اجڑنا تھا
‏جس طرح سے جدا ہوئے ہم تم
تمہیں سہنا پڑے گا دور جدائی کا
میرا کیا میں تو مر جاونگا
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement