نظم میں اور تو کی تشریح

علامہ اقبال کی نظم "میں اور تو” پہلے شعری مجموعے ‘بانگ درا’ میں شامل ہے۔ اس نظم میں کل آٹھ شاعر ہیں جن کی شعر بشعر تشریح درج ذیل ہے۔

پہلا شعر

شاعر فرماتا ہے اس دنیا میں ایک شخص کم علم اور نادان ہے دوسرا بڑا محقق اور دانا ہے

دوسرا شعر

ایک شخص ہر وقت مصیبتوں میں رہتا ہے دوسرا کامیابی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔

تیسرا شعر

ایک شخص کو دنیا میں کہیں ٹھکانا نصیب نہیں ہوتا اور دوسرا محلوں میں رہتا ہے۔

چوتھا شعر

ایک شخص دولت کما رہا ہے اور دوسرا نقصان اٹھا رہا ہے۔

پانچواں شعر

ایک شخص کو ترقی کے تمام وسائل حاصل ہیں اور دوسرا بے وسیلہ زندگی بسر کر رہا ہے۔

چھٹا شعر

ایک قوی ہے دوسرا ناتواں ہے لیکن ایسا ہے تو کیا ہوا؟ ویسا ہے تو کیا ہوا؟

ساتواں شعر

اس دنیا میں کسی شخص کی زندگی ایک نہج پر نہیں ہو سکتی، جو شخص آج دولت مند ہے کل مفلس ہو جاتا ہے، آج خوش ہے کل رنجیدہ نظر آتا ہے اس لیے اگر کوئی شخص آج کامیاب ہے تو کیا؟ اور دوسرا ناکام ہے تو کیا؟ انجام دونوں کا یکساں ہے یعنی یہ کہ نہ اُسے ہمیشگی ہے اور نہ اِسے، آخرکار دونوں موت کی آغوش میں سو جائیں گے۔

Advertisements