Advertisement
وہ پرندے اُڑا رہی ہو گی
اور پھر مسکرا رہی ہو گی

کئی دن بعد دھوپ نکلی ہے
وہ ابھی چھت پہ جا رہی ہو گی

پھول کھلنے لگے ہیں ہر جانب
وہ ابھی مسکرا رہی ہو گی

بیٹھی ہو گی وہ باغ میں اور پھر
تتلیوں کو اُڑا رہی ہو گی

روئی ہو گی وہ دیر تک پہلے
اور پھر آنسو چھپا رہی ہو گی

مجھے دھڑکن سنائی دے رہی ہے
وہ ابھی دل بنا رہی ہو گی

سوچتا ہوں کہ ان دنوں دادی
اُس کو قصے سنا رہی ہو گی
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement