Back to: فیضان رضا
0
| دیے ہیں زخم اتنے زندگی نے کہ کی خود کشی میری خوشی نے |
| مرے غم سے نہیں واقف تھا کوئی کیا ظاہر ہے آنکھوں کی نمی نے |
| مری عادت نہیں ہے دور رہنا مجھے بے گھر کیا ہے مفلسی نے |
| مرے زخموں پہ مرہم کون ملتا دئے تھے زخم مجھکو آپ ہی نے |
| رہوں کس سے قریب اور دور کس سے بتایا ہے مجھے یہ آگہی نے |
| کجی دیوار کی ڈھاتی ہے گھر کو بتایا ہے گھروں کے مستری نے |
| کمی سانپوں کی دنیا میں نہیں ہے ڈسا ہے آدمی کو آدمی نے |
| زمانے نے مجھے ٹھکرا دیا تھا مجھے اپنا بنایا آپ ہی نے |
| دیار یار کے خاروں سے فیضان لیا ہے حسن گل نے ہر کلی نے |