Back to: 12th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- کتاب: “بہار ستانٍ اردو” برائے بارہویں جماعت
- سبق نمبر :3
- سبق کا نام: مرغ بازی
- مصنف کا نام:امین کامل
مشق:
۱۔افسانے میں چند ایسے محاورات تلاش کیجیے جو مستورات سے مخصوص ہیں۔
خوشی سے پھولے نہ سمانا ، حیا کی لالی چھا جانا ، زبان قینچی کی طرح چلنا ، رنگ اڑنا ، زمین و آسمان کے قلابے ملانا۔
۴۔ درجہ ذیل سوالات کے مختصر جوابات لکھیے۔
سوال نمبر 1:غلام خان کے ہاتھ میں مرغا د یکھ کر شاہ مال کیوں خوش ہو گئی ؟
جواب: غلام خان کے ہاتھ میں مرغا دیکھ کر شاہ مالاس لیے خوش ہو گئ کہ اب اس کے پاس اپنا مرغاہے پڑوسن کو جلانے کے لئے۔
سوال نمبر 2:شاه مال کے مرغے کا حلیہ کیسا تھا ؟
جواب: شاہ مال کا مرغا سفید براق کے جیسا تھا۔
سوال نمبر 3:مریل جانی کے مرنے کا حلیہ کیسا تھا ؟
جواب:مریل جانی کا مرغا سرخ رنگ کا تھا، اور اس کے پروں پر جا بجا ننھے ننھے سیاہ دھبے تھے۔
سوال نمبر 4:شاہ مال مریل جانی کے مرنے کے ساتھ کیا سلوک کرتی تھی ؟
جواب: شاہ مال ویسے تو مریل جانی کے مرغے سے بہت خوش ہوتی لیکن جب اناج سوکھنے کے لیے ر کھتی تو اسے مرغے کا آنا بہت ناگوار گزرتا اور اسے خوب برا بھلا کہتی۔
سوال نمبر 5:شاہ مال نے اپنا مرغا ذبح کروانے کا ارادہ کیوں کیا ؟
جواب:رات کو جب شاه مال اور اسکا شوہر سونے لگے تو ان کا مرغ با نگ دیتا ہے ۔ شاہ مال اس کی شکایت اپنے شوہر سے کرتی ہے کیونکہ مرغے کی اس وقت با نگ معیوب سمجھی جاتی تھی اور فیصلہ کیا کہ اس مرنے کو دبح کروائے گی۔
سوال نمبر 6:شاہ مال نے مرغا ذبح کیوں نہیں کروایا ؟
جواب: ایک دن شاہ مال اور مریل جانی کا مرغا آپس میں لڑنے لگے اور شاہ مال کے مرغے نے مریل جانی کے مرغے کو مار بھگایا یہ دیکھ کر شاہ مال بہت خوش ہوئ اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب اسے ذبح نہیں کرواۓ گی۔
سوال نمبر ۳ سیاق و سباق کے ساتھ درج ذیل طنزیہ جملوں کی وضاحت کریں۔
ہنھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھی۔ پتہ نہیں کون ہے۔
یہ سطر سبق کے آغآز سے لی گئی ہے جس سے قبل سبق میں شاہ مال کے مرغ آنے کے منظر کو بیان کیا گیا ہےاور وہ اپنے نئے آنے والے مرغ کی شان میں زمیں آسمان کے قلابے ملاتی ہے۔
جواب: شاه مال نے جب احاطے میں مرغار کھ دیا اسکی دونوں مرغیاں مرغے کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی گویانو وارد کی صورت و سیرت کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہو۔ ان میں سے ایک مرغی کوڑے میں نیچے چلا رہی تھی اور اپنے اردگرد گردو غبار کھڑا کر کے اس میں نہا گئی تھی اور جیسے کہہ رہی تھی کہ چھوڑو جو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
عمده نسل کا ہے۔ عام طور سے قصبوں میں نہیں ملتا اور اتنا مہنگا خریدے گا بھی كون۔
جواب – در اصل یہ شاہ مال کے الفاظ ہیں۔ جواس نے مریل جانی کے دل کو جلانے کے لئےاستعمال کئے ہیں۔جس میں وہ اپنے مرغے کی اہمیت اور قیمت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہے اور اسے ایک نہایت عمدہ اور اعلی نسل مرغ قرار دیتی ہے۔ جو اس قدر مہنگا ہے کہ عام قصبوں میں اس کا ملنا بھی نا ممکن ہے۔
تمہیں خود ایک مرغا خرید لینا چاہئے سمجھیں؟ خاص موقعوں پرتو اسے آنے دیتی ہو۔۔۔۔ ہے نا۔ پھر اناج کے چند دانے دینا تمہیں برا لگتا ہے۔
جواب : میریل جانی کے الفاظ ہیں ۔ جب شاہ مال کے پاس اپنا مرغانہ تھا تب مریل جانی نے شاہمال کو کہہ ڈالا کہ اگر روپے ہے تو تمہیں بھی ایک مرغا خرید لینا چاہئے۔مگر ساتھ ہی اس پر چوٹ بھی کی کہ تمھیں تو اپنے مرغے کو بھی دا نے دینا برا لگتا ہے۔
۵.مرغ بازی افسانے میں وہ جملے تلاش کریں جو شاه مال اور مریل جانی نے آپس میں طنزاور طعنوں کے طور پر استعمال کئے ہیں۔
- جواب۔ (الف) میرے شوہر اسے ابھی خرید کرلائے ہیں پورے ساڑھے چار روپے میں۔
- (ب) عمده نسل کا ہے۔ عام طور پر قصبوں میں نہیں ملتا۔ اور اتنا مہنگا خریدے گا بھی کون
- (ج) خاص موقعوں پرتو اسے آنے دیتی ہے ۔ ہے ناپھر اناج کے چند دانے دینا تمہیں بر الگتا ہیں
- (د) صبح صبح غصے میں کیوں ہو کیا کیاغریب نے ؟
- ه) تم جتنا کھلا سکتی ہو کھلاتی رہو۔
سوال درج ذیل کرداروں میں سے آپ کو کون سا کردار پسند آیا اور کیوں شاہ مال مریل جانی، سفید مرغا، سرخ مرغا
جواب :مجھے اس افسانے میں شاہ مال کا کردار سب سے زیادہ پسند آیا کیونکہ اس افسانے میں سب سے دلچسپ اور متحرک کردارشاه مال کا ہی کردار ہے جو قاری کو مکمل کہانی پڑھنے کے لئے مجبور کرتا ہے اور کشمیرکی تہذیب کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
سوال 8 درج ذیل محاورات کے معنی لکھے۔
| محاورات | معنی |
| خوشی سے پھولے نہ سمانا | بہت زیادہ خوش ہونا |
| ٹھٹھک جانا | کسی بات پر حیران ہو کر رک جانا |
| خون کھول اُٹھنا | بہت زیادہ غصہ آنا |
| دل ہلکا ہونا | پریشا نی اور دل کا بو جھ کم ہونا |
| دل ڈوب جانا | کسی بات یا تکلیف سے بہت پریشان ہونا |
| چہرے کا رنگ اڑنا | مایوس ہونا |
سوال نمبر 7: مرغ بازی افسانے کا خلاصہ اپنےالفاظ میں تحریر کیجئے۔
خلاصہ:
شاه مال کی ہمسائی کے پاس ایک مرغا ہوتا ہے۔ جو شاہ مال کے صحن میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوتا ہے جب شاہ مال کی مرغیاں صحن میں موجود ہوتی تھیں تب شاہ مال اسے آنے سے نہیں روتی تھی مگر جب شامال کے صحن میں اناج دیکھ کر مرغا داخل ہوتا تھا تب شاہ مال اسے برا بھلا کہہ کر مار بھگاتی تھی۔ اس پر جانی شاه مال کو طعنے دیتی ہے۔
ان طعنوں سے بچنے کے لئے شاہ مال اپنے شوہر سے مرغا خرید لانے کے لئے اصرار کرتی ہے۔ آخر غلام خان ایک سفید رنگ کا مرغالا دیتا ہے شاہ مال جب اپنے شوہر کے ہاتھ میں مرغا دیکھتی ہے وہ خوشی سے پھولے نہ سمائی اور مرغے سے زور زور سے باتیں کرنے لگی تا کہ مری جانی کو معلوم ہو جائے کہ شاہ مال بھی اب مرغے کی مالک بن گئی۔ رات کو جب شاه مال اور اسکا شوہر سونے لگے تو ان کا مرغ با نگ دیتا ہے۔
شاہ مال اس کی شکایت اپنے شوہر سے کرتی ہے کیونکہ مرغے کی ہے وقت با نگ معیوب سمجھی جاتی تھی اور فیصلہ کیا کہ اس مرنے کو دبح کروائے گی اور کئی مرتبہ اپنے شوہر سے بھی مرغے کوزبح کرنے کے لئے کہا مگر غلام خان ذبح کرنے سےانکار کرتا رہاآخر شاه مال صمد و قصائی کے پاس جاتی ہے۔ قصائی اسے مرغا لانے کے لئے کہتا ہیں۔
جب شاه مال مرغالانے کے لئے آتی ہے۔ تو وہ اپنے صحن میں اپنے اور جانی کے مرنے کو آپس میںجھگڑتے دیکھتی ہیں۔ ان کی لڑائی دیکھ کر شاه مال کافی پریشان ہو جاتی ہے کہ کہیں اس کا مرغا ہار نہ جائے۔ دونوں لڑائی دیکھ رہی تھیں اور ایک دوسرے کو طنز کرتی تھیں۔ آخر جانی کا مرغا بھاگ جاتا ہے اور شاہ مال کا مرغا پورے احاطے سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ شاہ مال اپنے مرغے کی جیت دیکھ کر کافی خوش ہو جاتی ہے اور اپنے مرغے کو زبح کرنے کا ارادہ بھی ترک کر دیتی ہے۔