سبق نمبر7: یونیسکو کی چھتری، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • کتاب: “بہار ستانِ اردو” براۓ جماعت 12
  • سبق کا نام: یونیسکو کی چھتری
  • مصنف: مجتبیٰ حسین

۳۔ مشق

یونیسکوکی چھتری کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجئے۔؟

جواب:یونیسکو کی چھتری ” ایک سفر نامہ ہے جس کو مجتبی حسین نے تحریر کیا ہے۔ مجتبی حسین ایک سیمینار میں حصہ لینے کے لئے جاپان گئے تھے۔ وہاں سے انھوں نے اپنی بیوی کو خط لکھا کہ اسے دوسرے دن ہی وہ مل گئی اور اب اس کے ساتھ جاپان میں دن رات گزاریں گے۔ وہ خط میں چھتری رات وہ لکھنا بھول جاتے ہیں اور ان کی بیوی اس کو کوئی خاتون سمجھتی ہے۔

بیوی رات کے ڈیڑھ بجے فون یا کرتی ہے اور انہیں کوستی ہے، بُرا بھلا سناتی ہے کہ وہ کسی اجنبی عورت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ مصنف نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ کوئی عورت نہیں بلکہ ایک چھتری ہے جو میں شاید خطمیں لکھنا بھول گیا تھا لیکن بیوی کا شک دور نہیں ہوتا اور وہ فون رکھ دیتی ہے۔

مصنف کو یہ چھتری سمینار کے افتتاحی اجلاس میں یونیسکو کے عہدے دار مس جو نے دی تھی اور کہا تھا کہ یہ چھتری یونیسکو کی ملکیت ہے اس لیے جاپان سے چلے جانے سے پہلے اسے واپس کر دیتا۔ مصنف چھتری کے استعمال کے عادی نہ تھے اور جاپان میں چھتری لے کر گھومنا ان کو پسند نہ تھا لیکن انھیں بتایا گیا کہ جاپان کے موسم کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ کسی بھی وقت بارش ہو سکتی ہے۔

کانفرنس کے دوران کا نفرنس روم میں زلزلے کا ایک جھٹکا آتا ہے اور مصنف چھتری چھوڑ کر بھاگنا چاہتا ہے لیکن ایک جاپانی نے آواز لگائی کہ زلزلوں کے وقت چھتری چھوڑ کر بھاگنا منع ہے۔ جاپان میں ایسے زلزے عام ہیں ۔کانفرس میں موجود سری لنکا کے مندوب تو اتنے ڈر گئے کہ اچانک چھتری کھول کر کھڑے ہو گئے۔ زلزلہ ختم ہونے کے بعد مصنف مس جو سے کہتا ہے کہ ہم آسمانی بلاؤں سے نہیں ڈرتے بلکہ مجھے تو زمین کے نیچے سے آنے والی بلاؤں سے ڈر لگتا ہے۔ مس جو مسکرا کر چلی جاتی ہے۔

سری لنکا کے مندوب کو بچوں کی بہت یاد آتی ہے۔ وہ روز زلزلوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں اس لئے وہ کل ہی گھر بھاگ جائیں گے۔یونیسکو کی چھتری کی وجہ سے مصنف جاپان میں کوئی بھی جگہ سکون سے دیکھ نہ سکا کیونکہ وہ جہاں بھی جاتے تھے ان کو چھتری بھول جاتی تھی اور واپس دوبارہ اس جگہ چھتری لانے جانا پڑتا تھا۔

وہ چھتری لانے جاپان ریڈیو اسٹیشن دو بار گئے۔ زنانہ کالج بھی دو بار گئے۔ مصنف جہاں بھی جاتے ہیں چھتری بھول آتے ہیں۔ پھر اس کو واپس لانے کیلئے کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے۔ اس بھاگم بھاگ میں ایک بار دیکھا کہ ان کے کمرے پر ایک نوجوان جوڑے نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس چھتری کی وجہ سے مصنف کو بہت شرمندگی کا سامنا کر نا پڑا۔

جاپان میں اگر چہ بارش بہت ہوتی ہے لیکن اس بار صرف دو مرتبہ بارش ہوئی۔ ایک بار بارش ہوئی تو مصنف کو چھتری کھولنی نہیں آئی اور ایک جاپانی کی مدد لینی پڑی۔ چھتری کو ہر بار بھول جانے سے بہت شرمندہ اور ذلت کا سامنا کر نا پڑا۔ چھتری کو ہر بار بھول جانے کے بعد دوبارہ واپس لانے کیلئے مصنف کو بڑی رقم خرچ کرنا پڑی۔

ایک بار بازار میں چھتری کی قیمت پوچھی تو معلوم ہوا کہ ایک ہزار ین کی ہے جبکہ اس چھتری کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ٹیکسیوں اورٹرینوں میں مصنف کے پانچ ہزار ین خرچ ہو چکے تھے۔ ہندوستان لوٹتے وقت مس جو مصنف سے کہتی ہے کہ اب آپ ہندوستان میں اپنی بیوی کو ایسے ہی ساتھ رکھنا جیسے آپ یہاں اس چھتری کو ساتھ رکھتے تھے۔

مس جو چھتری کے مٹھ سے وہ ٹیپ چھیل دیتی ہے جس پر مصنف کا نام لکھا ہوتا ہے۔ مصنف کے دل پر بجلی سی گرتی ہے وہ تڑپ کر بول اٹھتے ہیں۔ مس جو اس چھتری پر سے ہمارا نام ذرا آہستہ سے نکالیے۔ دل پر چوٹیں پڑ رہی ہیں۔ مصنف سچ مچ رو پڑتے ہیں۔ ہندوستان واپس پہنچنے کے بعد بھی مصنف اس چھتری کو نہیں بھولتے۔اُسے یادکرتے رہتے ہیں۔

۲.مجتبی حسین کی سفرنامہ نگاری کی نمایاں خصوصیات قلمبند کیجئے۔؟

جواب: مجتبیٰ حسین عہد حاضر کے ایک عظیم مزاح نگار گزرے ہیں۔انہوں نے کئی ملکوں کا سفر کیا جن میں جاپان،امریکہ،برطانیہ ،فرانس،کینڈا،پاکستان اور سعودی عربیہ ودیگر ممالک شامل ہیں۔مجتبی حسین نے جو سفر نامے لکھے ان میں ان کی زبان رواں اور سلیس ہے۔اسلوب کی سادگی کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح کی آمیزش بھی شامل ہے۔ جس جگہ کا بھی سفر کرتے ہیں ان کی تحریروں میں ان کی قوتِ مشاہدہ جھلکتی ہے۔ چیزوں اور حالات کا گہرائی اور باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور وہاں کی ثقافت ، مذہب ، کھانے پینے اور دیگر تمام رسم و رواج وغیرہ کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس خطے کا مسافر تصور کرتا ہے اور گھر بیٹھے ان کی تحریروں کے ذریعے اس سفر کا لطف حاصل کر لیتا ہے اور یہی ایک اچھے سفر نامہ نگار کی خصوصیت بھی ہے۔

۳.مجتبی حسین کے حالات زندگی قلمبند کیجیے۔

جواب:اردو کے ممتاز مزاح نگار ادیب مجتبی حسین ۱۵ جولائی ۱۹۳۱ء میں سابقہ ریاست حیدر آباد اور موجودہ ریاست کرناٹک کے ضلع گلبرگہ میں تولد ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ ۱۹۵۳ء میں گلبرگہ سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا اور بی۔ اے عثمانیہ یونیورسٹی سے کیا تعلیم ختم کرنے کے بعد کچھ دنوں محکمہ مال میں ملازمت کی۔ پھر ملازمت چھوڑ دی اور روزنامہ سیاست سے وابستہ ہو گئے.

۱۹۷۲ء میں حکومتِ ہند نے اردو کے مسائل کا جائزہ لینے کیلئے گجرال کمیٹی تشکیل دی۔ مجتبی حسین کا اس کمیٹی کے شعبۂ ریسرچ میں تقرر کیا گیا۔ 19 ستمبر 1974ء میں نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹرینگ کے پبلی کیشن ڈپارنمٹ میں شعبۂ اردو کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ انہیں کئی اعزازات بھی ملے۔ ۲۰۰۸ء میں انہیں پدم شری ایوارڈ دیا گیا۔ آخر کار 7 مئی 2020ء کو حیدر آباد میں انتقال کر گئے۔

۴. مجتبیٰ حسین کی ادبی خدمات کا جائزہ پیش کیجئے۔

جواب:مجتبیٰ حسین کی شخصیت ہمہ گیر ہے۔ وہ طنز و مزاح نگار، انشائیہ نگار، مرقع نگار، سفرنامہ نگار ہونے کے علاوہ صحافی اور انشا پرداز بھی ہیں۔ مجتبیٰ حسین کی ادبی اور تخلیقی زندگی کا آغاز طالبِ علمی کے زمانے میں ہی ہوا۔ وہ کالج کی طلبہ یونین کے بزم اردو کے جنرل سیکریٹری رہے، وہ اچھے گلوکار اور اداکار بھی تھے۔

انہوں نے مزاحیہ کالم نگاری سے اپنے ادبی سفر کی ابتدا کی بعدازاں انہوں نے کئی مزاحیہ مضامین ، خاکے اور سفرنامے لکھے۔ چند اہم تصانیف کی تفصیل ذیل میں درج ہے: تکلف برطرف طبع کلام ، قصہ مختصر، بہرحال، آدمی نامہ، بلآخر، الغرض، چہرہ در چہرہ ، آخر کار ہوئے ہم جس کے دوست، میرا کالم اور آپ کی تعریف وغیرہ۔

۴.درج ذیل سوالات کے مختصر جواب لکھیے۔

۱۔مصنف نے بیوی کو خط میں کیا لکھا؟

جواب:مصنف نے ٹوکیو سے اپنی بیوی کو خط لکھا کہ وہ ہمیں آج ملی ہے، دیکھنے میں کچھ خاص نہیں مگر پھر بھی اچھی ہے۔ اب ہمیں اسی کی رفاقت میں ٹوکیو کے شب روز گزارنے ہیں اور اسی کے سائے میں رہنا ہے۔

۲.مصنف اور اس کی بیوی کے درمیان ہوئی بات چیت کواپنے لفظوں میں لکھیے۔

جواب:جونہی مصنف نے اپنی بیوی سے خیریت پوچھی تو اسکی بیوی نے اس سے پہلا سوال یہی کیا کہ کمرے میں اکیلے ہو کہ وہ بھی تمہارے ساتھ ہے۔ مصنف نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا کہ رات کا ڈیڑھ بجا ہے اور تمہارے فون کی گھنٹی پر جاگے ہیں، ہمارے ساتھ اس کمرے میں کوئی اور نہیں ہے۔ اسکی بیوی نے کہا کہ اس وقت تو رات کے دس ہی بجے ہیں۔ مصنف نے بات کاٹ کر جواب دیا کہ ہندوستان میں دس بجے ہونگے۔

بیوی نے اس سے پوچھا کہ دوسرے دن جو آپ کو ٹوکیو میں ملی تھی وہ کون تھی، جسکا ذکر آپ نے خط میں کیا تھا؟ اس پر مصنف نے زور دار قہقہ مار کر جواب دیا کہ وہ یونیسکو کی چھتری ہے شاید ہم چھتری لکھنا بھول گئے اور تم نے اس کا رشتہ عورت سے جوڑا۔ بیوی نے یہ پوچھا کہ چھتری شادی شدہ ہے کہ غیر شادی شده ، جس پر مصنف نے جواباً یوں کہا کہ بھلا چھتریوں کی بھی شادی ہوتی ہے۔ بیوی نے کہا اس کا مطلب یہ ہوا کہ چھتری غیر شادی شدہ ہے، پھر یہ بتاؤ کہ اس کی عمر کیا ہے۔ مصنف نے کہا کہ بڑی پرانی ہے اس کو پہلے بھی لوگ استعمال کرچکے ہے۔ اس پر ان کی بیوی نے غمگین لہجے میں کہا کہ خدا کے لئے راه راست پر آ جاؤ تمہاری اولاد اب شادی کے قابل ہورہی ہے۔

مصنف نے ایک بار پھر کہا کہ جس کا ذکر میں نے خط میں کیا ہے وہ تمہارے سر کی قسم سچ مچ چھتری ہی ہے۔ جس کے جواب میں اسکی بیوی نے کہا تبھی تو تم میرے سر پر ایک اور چھتری لے آرہے ہو اور ایک دم فون کاٹ ڈالا۔

۳۔سیمنار کے کچھ اور مندوبین کے نام لکھیے۔

جواب:مس جو، مس پرینیا ، مسٹر جیا کوڑی۔

۴۔مصنف جاپان کو اطمینان کے ساتھ کیوں نہیں دیکھ سکا؟

جواب:مصنف جاپان کو اطمینان کے ساتھ اسلئے دیکھ نہ سکا کیونکہ یونیسکو کی چھتری اس کے ساتھ تھی۔ محض اس چھتری کی خاطر مصنف کو ایک جگہ دو دو مرتبہ جانا پڑا۔ پہلی بار اس مقام کو دیکھنے کے لئے اور دوسری مرتبہ اپنی بھولی ہوئی چھتری کوواپس لانے کے لئے۔

۵۔نہایت مختصر جواب طلب سوالات۔

۱.یونیسکو میں مصنف کو دوسرے دن کیا ملا تھا ؟

جواب:مصنف کو یونیسکومیں دوسرے دن ایک چھتری مل گئی تھی۔

۲.مصنف جاپان کیوں گیا تھا؟

جواب:یونیسکو کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے۔

۳۔چھتری پر مصنف کا نام کس طرح لکھا گیا تھا؟

جواب:مصنف کا نام چھتری پر گم ٹیپ سے چپکایا گیا تھا۔

۴.مصنف کو کس جگہ پر چھتری ڈھونڈنے کے لیے دوبارہ جانا پڑا؟

جواب:جاپان ،ریڈیو جاپان کی زنانہ یونیورسٹی یوکوہاما او میا نارا کیوٹو وغيره میں۔

۵.چھتری کی قیمت کتنی تھی؟

جواب:چھتری کی کل قیمت ایک ہزار ین تھی۔

۶.چھتری ڈھونڈنے میں مصنف کا کل کتنا نقصان ہوا تھا؟

جواب:چھتری ڈھونڈنے کے لئے مصنف کو پانچ ہزار ین کا خرچہ ہوا۔

کسی نے کہا کس سے کہا اور کیوں کہا؟
١- میری خیریت جائے بھاڑ میں پہلے یہ تا اس وقت کرے میں اکیلے ہو یہ بھی تمہارے ساتھ ہے۔؟

جواب:مصنف کی بیوی اسے یہ جملہ کہتی ہے کیونکہ اسے شک تھا کہ مصنف جاپان میں کسی خاتون کے ساتھ شب و روز گزار رہا ہے۔

۲۔بھلا چھتریوں کی بھی کہیں شادی ہوتی ہے۔

جواب:یہ جملہ مصنف اس کی بیوی کو تب کہتا ہے جب اس کی بیوی اسے چھتری کی عمر پوچھتی ہے کہ چھتری کی عمر کتنی ہے کیونکہ وہ اس پر شک کر رہی تھی اور چھتری کو عورت مراد لے رہی تھی۔

۳۔میں کل ہی جاپان سے چلا جاؤں گا مجھےایسا دل دہلانے والاسیمنار نہیں چاہے۔

جواب:یہ جملہ مسٹر جیا کوڈی زلزلے کے جھٹکے سے گھبرانے کے وقت مجتبیٰ حسین سے کہتا ہے۔

۴۔اب آپ ہندوستان جا کر اپنی بیوی کو بھی اسی طرح ساتھ رکھیں گے جس طرح یہاں چھتری کو رکھا کرتے تھے۔

جواب:۔ یہ جملہ مس جو نے مذاق میں مجتبیٰ حسین سے کہا، کیونکہ مجتبیٰ حسین نے جاپان میں قیام کے دوران چھتری کا کافی دھیان رکھا۔

۵۔کیا عجب کہ اب کی بار ہم بادل بن کر تجھ پر برسنے آجائیں۔

جواب:یہ جملہ مصنف چھتری سے مخاطب ہو کر اس کی یاد میں بولتا ہے۔

درج ذیل محاورات کے معنی لکھ کر ان کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

1۔گن گانا: تعریف کرناایمن ہر وقت مہرین کے گن گاتی ہے۔
2.رسی جل گئی پر بل نہ گیا:اپنی عادت سے باز نہ آنا ڈانٹ کھانے کے بعد بھی تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گویا رسی جل گئی بل نہ گیا۔
3۔ٹانگ اڑانا: روکاوٹ ڈالنا میرے کام میں ٹانگ مت اڑانا۔
4۔آنکھیں بچھانا:انتظار کرناماں اپنی بیٹی کے انتظار میں آنکھیں بچھا کر کھڑی تھی۔