غزلیات حسرت موہانی، تشریح، سوالات و جوابات

0

غزل نمبر:1 کی تشریح

بھلاتا لاکھ ہوں، لیکن برابر یاد آتے ہیں
الہی! ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں

تشریح : یہ شعر اس غزل کا مطلع ہے جس میں شاعر کہتا ہے کہ محبت میں، میں نے کچھ اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کیا ہے کہ اب میں محبت سے توبہ کیے بیٹھا ہوں۔ اس لیے اب میں اپنے محبوب کو بھلانا چاہتا ہوں اور اس کو بھلانے کی لاکھ کوشش بھی کی مگر نہ جانے کیا بات ہے کہ وہ برابر یاد آتا ہے۔ کیو نکہ ممکن ہے یہ وہ آگ ہے جو لگائے لگتی نہیں اور بھجاۓ نہیں بجھتی ہے۔

نہ چھیڑ اے ہم نشین! کیفیت صہبا کے افسانے
شراب بیخودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے میرے ہم نشین،دوست صہبا محفل میں میرا ساتھ دینے والے سرخ شراب کی کیفیت، اس کے سرور کے قصے مت چھیٹر ۔ کیونکہ جب تو وہ افسانہ چھیڑتا ہے تو مجھے محبوب کی مدہر آنکھیں یاد آ جاتی ہیں۔ اور جب ان محبوب کی یہ انکھیں مجھے یاد ائیں تو ان سے مما ثلت رکھتی ہوئی شراب جو مجھ پر بے خودی طاری کرے وہ یاد آنے لگ جاتی ہے۔گویا میری حالت ایسی بے خود انسان کی سی ہو جاتی ہے۔ گویا میں خودی میں نہیں رہتا۔

رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے! ناکامی
وه دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں

تشریح:اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ عاشق کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ بے خود رہتا ہے۔اس لیے شاعر کہتا ہے کہ ہم ہوش کی قید میں رہتے ہیں یعنی ہوش میں رہتے ہیں اور ظاہر ہے ناکامی کی صورت ہے۔ لہذا شاعر افسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ جو ہم پر خود فراموشی کا عالم طاری ہوا کرتا تھا جب شاعر اپنے ہوش و حواس سے بے گانہ ہو جایا کرتا تھااور اس بے خودی میں جو وہ جنگل جنگل چکر لگاتا تھااب اسے بتایا ہوا وہ سب وقت یاد آ رہا ہے۔

نہیں آتی، تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں، تو اکثر یاد آتے ہیں

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب سے میرا کچھ ایسا تعلق ہے کہ مجھے محبوب کی اکثر یاد آتی رہتی ہے۔مگر کبھی کبھار کیفیت یوں ہو۔جاتی ہے کہ مجھے اپنے محبوب کے لیے فراموشی اختیار کرنی پڑتی ہے اور اس وقت میں مجھے ان کی یاد مہینوں نہ آئے۔ مگر جب پھر ان کی یاد آتی ہے تو بہت شدت سے آتی ہے۔

حقیقت کھل گئی حسرت ترے ترک محبت کی
تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کہ اے حسرت تو جو کہتا ہے کہ تم نے محبت کو چھوڑ دیا ہے ، ترک کر دیا ہے ، سب غلط ہے۔ اس کی حقیقت اب ہم سب پر ظاہر ہو گئی ہے کیوں کہ اب تمھیں وہ پہلے سے بھی زیادہ یاد آ رہا ہے۔ لہذا تیری ترک محبت کا دعویٰ درست نہیں ہے۔

غزل نمبر:2 کی تشریح

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے

تشریح:یہ شعر حسرت موہانی کی غزل سے لیا گیا ہے اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب میں اپنے دورِ عاشقی کو یاد کرتا ہوں تو مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب میں اپنے محبوب کی یاد میں دن رات تڑپتا تھا اور راتوں کو چھپ چھپ کر روتا تھا مجھے اپنی عاشقی کے یہ ایام اب تک نہیں بھولتے ہیں۔

کھینچ لینا وہ ترا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے

تشریح:اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے میرے محبوب تمھاری ادائیں کتنی دلربا تھیں کہ مجھے دیکھ کر اچانک تم پردے کا ایک کونا اپنی جانب کھینچتی تھی اور یہی نہیں دوپٹے سے بھی خود کو میری نگاہوں سے بارہا بچانے کی کوشش کی مگر مجھے تمھارے عاشقی کے یہ خوبصورت دن بھلائے نہیں بھولتے ہیں۔

بے رخی کے ساتھ سننا درد دل کی داستاں
وہ کلائی پر ترا کنگن گھمانا یاد ہے

تشریح: اس شعر میں شاعر اپنے بے رخ محبوب کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں نے جب اپنے محبوب کو اپنے دل کی حالت بیان کرنا چاہی تو اس نے ہمیشہ بے رخی کے ساتھ میری بات سنی اور میری بات سسنے کے دوران بھی اپنی پوری توجہ میری جانب مرکوز کرنے کی بجائے اس نے بدستور اپنے کنگن کے ساتھ کھیلنا جاری رکھا۔

وقت رخصت، الوداع کا لفظ کہنے کے لئے
وہ ترے سوکھے لبوں کا تھر تھرانا یاد ہے

تشریح: اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے بچھڑنے کا منظر بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب محبوب سے ملاقات کے بعد رخصت کا لمحہ آیا تو مجھے محض اتنا یاد ہے کہ اس نے اس لمحے کوئی عہد وپیمان کرنے کرنے کی بجائے مجھے محض الوداع بولا تھا کیوں کہ اس لمحے اس کے لب زرہ بھر کو محض تھرتھرائے تھے۔

آگیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر فراق
وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رولانا یاد ہے

تشریح:اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مجھے محبوب سے اتنی چاہت تھی کہ جب کبھی محبوب سے ملاقات کی گھڑی کے دوران جدائی کے لمحات کا ذکر بھی آ جاتا تھا تو میرے محبوب پر یہ گھڑی ایسی گراں گزرتی تھی کہ وہ خود تو رو رو کر بدحال ہو جاتا تھا اور ساتھ نیں میں مجھے بھی اس کیفیت میں مبتلا کر دیتا تھا۔

مشق

سوال نمبرا:

آگیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر فراق
وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رلانا یاد ہے

اس شعر میں صنعت تضاد استعمال ہوئی ہے۔ تضاد ایک شعری صنعت ہے جس میں کسی شعر کے ایک مصرعے میں دو متضاد لفظ لائے جاتے ہیں۔ جیسے مندرجہ بالا شعر کے پہلے مصرعے میں وصل اور فراق ہیں۔ ایسے مزید تین اشعار لکھے جن میں صنعت تضاد استعمال ہوئی ہو۔

جواب:

صبح ہوتی ہے ، شام ہوتی ہے
زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے

اس شعر کے پہلے مصرعے میں صبح اور شام متضاد الفاظ ہیں۔

وصل سے شاد کیا ہجر سے ناشاد کیا
اس نے جس طرح سے چاہا مجھے برباد کیا

اس شعر میں وصل ، ہجر شاد اور ناشاد متضاد الفاظ ہیں۔

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

اس شعر میں دن اور رات بطور متضاد الفاظ آئے ہیں۔

سوال نمبر ۲۔ درج ذیل اشعار کی تشریح کیجیے۔

نہیں آتی، تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں، تو اکثر یاد آتے ہیں

تشریح: اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب سے میرا کچھ ایسا تعلق ہے کہ مجھے محبوب کی اکثر یاد آتی رہتی ہے۔مگر کبھی کبھار کیفیت یوں ہو۔جاتی ہے کہ مجھے اپنے محبوب کے لیے فراموشی اختیار کرنی پڑتی ہے اور اس وقت میں مجھے ان کی یاد مہینوں نہ آئے۔ مگر جب پھر ان کی یاد آتی ہے تو بہت شدت سے آتی ہے۔

وقت رخصت، الوداع کا لفظ کہنے کے لیے
وہ ترے سوکھے لیوں کا تھر تھرانا یاد ہے

تشریح: اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے بچھڑنے کا منظر بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب محبوب سے ملاقات کے بعد رخصت کا لمحہ آیا تو مجھے محض اتنا یاد ہے کہ اس نے اس لمحے کوئی عہد و پیمان کرنے کرنے کی بجائے مجھے محض الوداع بولا تھا کیوں کہ اس لمحے اس کے لب زرہ بھر کو محض تھرتھرائے تھے۔

سوال نمبر 3:حسرت موہانی کی حیات پر نوٹ لکھیے۔

جواب:حسرت موہانی کا پورا نام سید فضل السن اور تخلص حسرت تھا۔ بمقام موہان ضلع اناؤ میں ۱۸۸۱ء میں پیدا ہوئے۔ زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم مولانا غلام علی موہانی سے گھر پر ہی حاصل کی۔ علاوہ ازیں قرآن مجید پڑھنے کے ساتھ ہی ساتھ اور باقی علم بھی حاصل کی۔

ابتدائی تعلیم کے بعد قت پور سے انٹرنس پاس کیا۔ بعد میں علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ ۱۹۰۳ء میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران ان کی ملاقات سجاد حیدر یلدرم، مولانا شوکت علی، قاضی تم حسین گورکھوری سید ابوحمد خان بہادر سے ہوئی۔ انجمن اردو ملی جسکی بنیاد سجاد میر نے ڈال تھی اس انجمن میں پلے حرت کمر اور بعد میں سکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے رسالہ ”اردو علی ہی میں انھوں نے اپنی جوشیلی تحریریں چھپوا ئیں جو حکومت وقت کو سخت نا پسند تھیں۔

حسرت کی شادی ۱۸۹۹ء میں نشاط النساء کے ساتھ ہوئی۔ حسرت کو ادب اور شاعری کے علاوہ سیاست سے گہرا تعلق تھا۔ وہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کےممبر بھی تھے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے گاندھی جی، جواہر لال نہرو، لوک مانیہ تلک ، وغیرہ جیسے رہنماؤں کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد میں سرگرم حصہ لیا۔ یہ حسرت ہی تھے، جنھوں نے ۱۹۳۰ء میں سب سے پہلے کانگریس کے اجلاس میں ہندوستان کی مکمل آزادی کا ریزولیوشن پیش کیا تھا انھیں متعدد بار جیل بھی جانا پڑا ۔ ۱۳ مئی ۱۹۵۱ء کو حسرت کا انتقال لکھنو میں ہوا۔

سوال نمبر ۴۔ حسرت موہانی کی شعری کاوشوں کا جائزہ پیش کیجیے۔

جواب: اُردو شعر و ادب میں حسرت کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے اُردو لٹریچر کی نہایت گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ خصوصاً اردو شاعری پر ان کا احسان عظیم ہے۔ اکثر غیر معروف شعراء کے حالات اور کلام سے لوگوں کو آشنا کیا۔ غزل گوئی میں حسرت بڑے مرتبہ کے شاعر ہیں۔ غزل کی جو روایت امیر، داغ ، ریاض سے چلی تھی وہ حسرت تک آتے آتے بے جان سی ہو گئی تھی۔ حسرت نے اس انحطاطی رنگ کو محسوس کیا اور اپنی کاوشوں سے ایک نئی راہ نکالی۔

حسرت کے ساتھ غزل کی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنے میں اصغر فانی جگر بھی قابل قدر نام ہیں۔ حسرت کے یہاں حسن و عشق، معاملہ بندی، داخلی نفسانی امور، فارس کی تراکیب، عشق مجازی اور حیا کی کارفرمائی کا خاصا دخل ملتا ہے۔ علاوہ ازیں انھیں زمین کے انتخاب کا خاص ملکہ تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے کلام میں روانی اور شگفتگی سی پیدا ہو جاتی ہے۔ بول چال کا بھی کافی لطف رہتا ہے۔ الفاظ کے انتخاب میں بھی وہ بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ عام طور پر ملائم اور عام فہم لفظوں کو اپنے کلام میں جگہ دیتے ہیں۔