Back to: 12th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- کتاب “بہارستانِ اردو” برائے بارہویں جماعت
- غزل نمبر :03
- شاعر کا نام : مرزا غالب
غزل نمبر 1 کی تشریح
| سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں |
اس شعر میں شاعر مرزا غالب اپنی معنی آفرینی اور جدت خیالی کا ایک خوبصورت اور انوکھا نمونہ پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کے مطا بق شاعر یہ کہتا ہےکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ کوئی اس دنیا میں نہیں آتا۔ لیکن حسن کا جوشِ نمو اور شوقِ نمائش ایک ایسی چیز ہے کہ جو حسن کو دوبارہ وجود میں لاتا ہے اور لالہ و گُل کی شکل واپس تخلیق کر کے ایک دفعہ پھر اہلِ نظر کے لئے خوشی کا سامان مہیا کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہی کہ اس دنیا میں بہت سے نامور لوگ اپنا کردار ادا کرکے چلے جاتے ہیں مگر ان کا نام اور دوسروں کی خاطر جینے والا انسان ہمیشہ کےلئے امر ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہوا بھی جو ماضی کے اوراق کو فنا کر دیتی ہے۔ ان کے وجود کو تو خاک میں ملا دیتی ہے مگر اُن کا نام لوگوں کے دلوں میں انمٹ چھوڑ جاتا ہے۔
| یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں |
اس شعر میں مرزاغالب کہتے ہیں کہ جب تک مجھے غمِ جاناں نہیں تھا تو اُس وقت زندگی بڑی حسین و دلکش تھی، اور ہر لحاظ سے مثالی زندگی تھی۔ وہ زمانے بھی یاد ہیں جب میں محفل کی جان ہوا کرتا تھا۔ مگر جب سے گردشِ زمانہ نے عشق کے مرض میں مبتلا کیا ہے اس وقت سے زندگی کی وہ رنگینی باقی نہیں رہی اور صرف دل کے صنم خانے میں اپنے محبوب کا خوبصورت مجسمہ رکھے اسی کی پرستش کئے جا رہے ہیں۔ محبوب کے عشق نے وہ بے خودی کا عالم کر دیا ہے کہ اس کے سوا کچھ یاد ہی نہیں۔ اب تو مئے عشق نے اس قابل بھی نہیں چھوڑا کہ اس حسین زندگی کے دھندلکی میں تیری شبیہ بھی ذہن میں رکھ سکوں۔
| قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر لیکن آنکھیں روزنِ دیوار زندان ہو گئیں |
اس شعر میں مرزا غالب کہتے ہیں کہ ایک طرف یعقوب علیہ السلام روزن دیوار زنداں ہوا جس سے مراد آنکھوں کا بے نور ہونا ہے اور دوسری طرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اگر چہ ظاہر طور پر یعقوب نے یوسف کی خبر نہیں لی مگر در حقیقت ان کی آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو کر ہر وقت یوسف کا نظارہ کرتی تھیں۔ روزن اور نابینا آنکھوں کی مشابہت خوب ہے۔ جب آنکھیں بے نور ہو جاتی ہیں تو وہ سفید ہو جاتی ہیں اور روزن کی طرح ہمیشہ کھلی رہتی ہیں۔
| میں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا بلبلیں سن کر میرے نالے غزل خواں ہوگئیں |
اس شعر میں غالب باغ میں اپنی موجودگی کی اہمیت کا احساس یوں دلاتے ہیں جیسے کہ مکتب میں استاد کی غیر موجودگی میں طلبہ نہیں پڑھتے لیکن جیسے ہی استاد کو آتا دیکھتے ہیں یا اُس کی آواز سن لیتے ہیں تو اور بھی زیادہ جوش و خروش سے اپنا سبق دہرانے لگتے ہیں۔ اسی طرح کہتا ہے کہ میرا چمن میں جانا تھا کہ بلبلوں کی چہچہاہٹ شروع ہو گئی۔بلبلیں میرا نالہ سن کر اپنے اپنے نغمے نہایت جوش و خروش سے دہرانے لگیں۔ انہوں نے مجھ سے ہی نالہ و فریاد کرنا سیکھا ہے لیکن میرے نالوں کے مقابلے میں اُن کے نالوں میں درد و اثر کی کیفیت کم ہے۔
| رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آسان ہوگئیں |
اس شعر میں شاعر مرزا غالب نے بڑا خوبصورت اور مؤثر اندازِ بیان اختیار کرتے ہوئے اس حقیقت کو پیشِ عقل کیا ہے کہ کسی بھی چیز کی انتہا اس کے حقیقی اثر کو ختم کر دیتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو بہت مصائب و آلام کا سامنا رہتا ہے اور وہ مشکلات میں گھرا رہتا ہے تو اس کا احساسِ غم فنا ہو جاتا ہے کہ اسے غم ٰغم معلوم نہیں ہوتا بلکہ معمول کی بات لگتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کے واقعات پیش آئے ہیں اور میں بھی اسی طرح متاثرہ شخص ہوں۔ مجھے اس قدر دکھوں کا سامنا رہتا ہے کہ میں غم کی کیفیت ہی بھلا بیٹھا ہوں۔
| ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایمان ہوگئیں |
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میں ایک ایسا توحید پرست اور سچا مسلمان ہوں کہ میں نے تمام رسومات کو ترک کر دیا ہے اور توحید ہی میرا اصل عقیدہ ہے اور جب یہ سب کچھ مٹ جائے تو تمام ملتیں بھئ آپ کے ایمان کا جزو بن جاتی ہیں۔
| یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں |
اس شعرمیں غالب کہتاہے کہ اے لوگو! اگر غالب اسی طرح روتا رہا یعنی مسلسل لگاتار بہت شدت سے روتا رہا تو اُس کا یہ رونا ضرور رنگ لائے گا۔ تم دیکھ لو گے کہ اس کے رونے سے بستیوں کی بستیاں ویران ہو جائیں گی کیونکہ اس کے رونے میں درد و اثر کی ایسی کیفیت ہے کہ وہ بستیاں چھوڑ کر ویرانوں میں نکل جائیں گے یا اُس کے آنسو ایسا سیلاب لائیں گے کہ آنسوؤں کا یہ سیلاب ہم کو بہا کر لے جائے گا، مکانوں کو مسمار کر دے گا۔ نتیجتاً پوری بستی ویران ہو جائے گی۔
غزل نمبر 2 کی تشریح
| درد منت کش دوا نہ ہوا میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا |
یہ شعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ عشق میں بہت سی تکالیف میرے درد کی وجہ بنیں۔ عشق میں اٹھائی گئی ان تکالیف کو میں نے اپنے درد کی دوا کرنے کی کوشش کی مگر ان سے میرے درد کی دوا ممکن نہ ہو پائی۔ عشق کی اس دوا سے میں نہ تو اچھا ہو پایا اور نہ ہی یہ میرے لیے برا ثابت ہوا۔
| جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو ایک تماشا ہوا گلا نہ ہوا |
اس شعر میں شاعر مرزا غالب نے اپنی ازلی بے پرواہی اور شوخی کے انداز کو اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اے محبوب اگر تمھیں مجھ سے کوئی گلہ و شکوہ ہے تو خود مجھ سے آمنے سامنے ہو کر یہ گلہ دور کیوں نہیں کرتے ہو اس کے لیے میرے رقیبوں کو جمع کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ اپنی اس حرکت سے تم نے محض ایک تماشہ ہی کیا ہے جبکہ ایسا کرنے سے بھی تمھارا وہ شکوہ دور نہ ہو پایا۔
| ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا |
اس شعرمیں غالب اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں آخر کہاں تک اپنی قسمت کو آزماتا رہوں جبکہ میرا محبوب ہی مجھ سے خنجر آزمائی نہیں کرنا چاہتا۔
| کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا |
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے محبوب تیرے لب اس قدر شیریں میٹھے ہیں کہ ان سے نکلنے والی گالیاں بھی مٹھاس سے بھر پور ہوتی ہیں اور وہ میرے رقیب کی طبیعت پر گراں نہیں گزر رہی ہیں۔ وہ گالیاں کھانے کے بعد بھی بدمزہ نہیں ہوا ہے۔
| ہے خبر گرم ان کے آن کی آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا |
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شہر میں آج ہر جانب میرے محبوب کے آنے کی خبر گرم ہے اور آج وہ میرے گھر کو رونق بخشنے والا تھا کہ آج ہی میرے گھر کی حالت اچھی نہیں ہے۔ میں تنگ دستی کا شکار ہوں جس کی وجہ سے میں محبوب کے شیان شان اس کا استقبال نہ کر پاؤں گا۔
| کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا |
اس شعر میں شاعر صنعت تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نمرود ایک ایسا شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کا یہ دعویٰ جھوٹا تھا وہ ہر گز خدا نہ تھا اور نہ بندوں کو اس طرح نواز سکتا تھا کہ جس طرح اللہ کی ذات نوازتی ہے۔ میں نے اس نمرود کی بندگی کی مگر اس بندگی میں بھی مجھے کسی طرح کی بھلائی میسر نہ آ پائی۔ اس شعر کے ذریعے شاعر دنیاوی خداؤں کی ممانعت کر رہا ہے۔
| جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا |
مرزا غالب کا یہ شعر عشق حقیقی کا شعر ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں تخلیق کرنے والی واحد ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ ہمیں عطا کردہ جان بھی اسی کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ مگر یہ زندگی اور جان جس مصرف کے لیے اس نے ہمیں بخشی ہے ہم اس کا حق اتنی بندگی کے باوجود بھی ادا نہ کر پائے ہیں۔اچھا ہوتا کہ اگر اس جان کو ان فرائض کے ساتھ قربان کر پاتا جو اللہ کی جانب سے عائد ہیں۔
| کچھ تو پڑھئے کہ لوگ کہتے ہیں آج غالب غزل سرا نہ ہوا |
مرزا غالب کا یہ شعر شاعرانہ تعلی کا انداز لیے ہوئے ہے۔ اس شعر میں شاعر نے بہت منفرد انداز میں تعلی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ میرے جانے کے بعد بھی یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ کوئی غزل یا کچھ پڑھیں کہ آج غالب غزل نہیں کہہ رہا ہے۔
۳۔مشق
۱۔دبستان دہلی کے نمائندہ شعرا کی خدمات کا جائزہ لیجئے۔
جواب:اردو زبان کے اولین ادب کی تخلیق کا آغاز دکن سے ہوا۔ دکن کی ادبی روایت جس کا آغاز بہمنی دور سے ہوتا ہے، میں فخر الدین نظامی، خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ، شاہ میراں جی شمش العشاق ، فیروز ، اشرف بیابانی، حسن شوقی ، نصرتی اور رستمی جیسے کئی قابل ذکر شعرا گزرے ہیں۔ گو شمالی ہند میں اردو ادب ولی اور اس کے معاصرین کی دین سمجھا جاتا ہے لیکن تحقیقات میں اس کے کئی سراغ اور ابتدائی صورتیں ملتی ہیں۔ جیسے کہ افضل کی بکٹ کہانی یا بارہ ماسہ جو کہ ایک عشقیہ داستان ہے۔
مجموعی طور پر اس شاعری کے دبستان کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں سراج الدین خان آرزو اور جعفرزٹلی جیسے شاعر موجود ہیں۔ جعفر زٹلی نے اردو میں ہجویات اور زٹلیات لکھیں۔ جعفر زٹلی کو فرخ سیر نے اس کے خلاف قطعہ کہنے پر قتل کروایا تھا۔ جعفر زٹلی کی کئی نظمیں شہر آشوب کی تعریف میں آتی ہیں۔ اس لحاظ سے اسے اردو کا پہلا شہر آشوب شاعر بھی کہا جا سکتا ہے۔ سراج الدین خان آرزو کی اردو غزل سے دلچسپی کا آغاز دلی میں ولی کے دیوان کی آمد سے ہوتا ہے۔ اس کو سراج الشعراء جیسے القابات سے بھی نوازا گیا۔
۲.دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ کا موازنہ کیجئے۔
دہلی اور لکھنؤ دونوں دبستانوں کا موازنہ اگر ان کی خصوصیات کے حوالہ سے کیا جائے تو خاصا اہم ہے۔
دبستان دہلی کی خصوصیات :
داخلیت پر زیادہ زور ملتا ہے۔ ان کے ہاں تصوف اور اخلاق کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے جبکہ ان کا طرزِ بیان سادہ اور سلیس تھا۔ الفاظ سے زیادہ خیالات کی صفائی اور پاکیزگی پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔ معاملات اور واقعات سچے اور اصلی ہوتے تھے، جزبات حقیقی اور سوز و گداز موجود تھا۔آمد کی کیفیت سارے کلام پر نظر آتی ہے۔ اس دبستان کی غزلیں مختصر ہوتی تھیں جن کی زبان مردانہ اور وصال سے زیادہ ہجر کی طلب رکھتی تھیں۔ابتزال یعنی عریاں نگاری سے پرہیز کیا جاتا تھا اور ساتھ ہی بناوٹ سے گریز کیا جاتا تھا۔
اسی طرح اگر دبستانِ لکھنو کی خصوصیات کا جائزہ لیا جائے تو وہ کچھ یوں ہیں کہ دبستانِ لکھنؤ کا خارجیت یا خارجی پہلو پر زور زیادہ تھا جبکہ اس دبستان کا لہجہ نشاطیہ اور ہر طرح کی تصنع و بناوٹ خوب پائی جاتی ہے۔ رعایت لفظی اور تشبیہ و استعارہ کا بھرپور استعمال کیا جاتا تھا۔ جزبات سے زیادہ نوک پلک سنوارنے اور زبان میں لطافت پیدا کر نے پر زور دیا جاتارہا۔عریانیت اور فحش گوئی زیادہ نظر آتی ہے .معاملہ بندی اور مبالغہ آرائی زیادہ نظر آتی ہے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان دونوں دبستانوں کی اکثر خصوصیات ایک دوسرے کے متضاد نظر آتی ہیں۔
۱۔دبستان دہلی کی ابتدا کیسے ہوئی؟
جب ولی دکنی اپنا تفصیلی اردو دیوان لے کر دہلی پہنچے تویہاں کے فارسی شعراء کو احساس ہوا کہ وہ جس زبان کو گری پڑی سمجھتے ہیں وہ بھلا اتنی جاندار ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خان آرزو، شاکر، حاکم، آبرو، ناجی، مضمون، بیان، امید مخلص وغیرہ نے اس زبان میں طبع آزمائی شروع کی۔ دہلی میں اُردو شاعری کے ان ابتدائی ایام میں ایہام گوئی کا بہت رواج تھا۔ جو شاعری کی ترقی میں ایک رکاوٹ بن گئی تھی۔ آخر کار حاتم نے اس کے خلاف رد عمل شروع کیا اور شاعری کو اس لفظی صنعت سے نجات ملی۔اس کے بعد دہلی میں اُردو شاعری کالا مثال دور شروع ہو جاتا ہے۔ میر تقی میر وامیر میر درد اور مرزامحمد رفیع سودا نے اُردو شاعری کو پروان چڑھایا۔ جس میں غزل کو نئے رنگ و آہنگ سے متعارف کیا۔ اُن کی مصیبت بھری زندگی ان کی شاعری میں جلوہ گر ہے غم اُن کی شاعری کا خاصہ ہے۔ درد نے تصوف کو اُردو غزل میں شامل کیا۔ جب کہ سودا انسان کی مصیبتوں سے بے پرواہ ہوکر ہنسی اڑاتے رہے۔ پھر دہلی تباہ ہوگئی اور یہاں اہل فن کا اثر بر مشکل گزر ہو گیا۔ اہل کمال وفن لکھنو چلے گئے۔
دبستان دہلی کی خصوصیات بیان کیجیے۔
جواب:دبستان دہلی کی شعری خصوصیات کی بات جائے تو اس کے لیے داخلیت کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس دبستان کی شاعری میں داخلیت ، تصوف ، سادگی اور درد کی نمایاں کیفیات موجود تھیں۔ ان خصوصیات سے اس دبستان کو نہ صرف الگ پہچان ملی بلکہ اس نے اسے دبستان لکھنو سے ممتاز بھی بنایا۔ یہاں کے حالات نےلوگوں کی طبیعت پر متفکرانہ اثر ڈالا۔ دہلی میں صوفیانہ تعلیم کا ایک رواج چلا آ رہا تھا جس نے یہاں کے ماحول کے مطابق شاعری میں قناعت ، صبر و توکل ، استغنا اور قلندرانہ خصوصیات کو پیدا کیا۔
داخلیت کی بدولت یہاں کے شاعروں کے ہاں قنوطیت کا رنگ دکھائی دینے لگا۔ درد و سوز اور رنج و غم یہاں کی شاعری کا نمایاں وصف رہا۔ ان کی شاعری میں سلاست و روانی ، فصاحت اور سادگی کے ساتھ ساتھ داخلیت کی بدولت ایک آہ جیسی کیفیت کی موجود گی ملتی ہے۔ انھی خصوصیات کے زیر اثر دہلی میں نہ صرف شاعری کے کئی ادوار گزرے بلکہ شاعری کے کئی رنگ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
غالب کے حالات زندگی قلمبند کیجیے۔
جواب:مرزا اسد اللہ خان نام اور غالب تخلص تھا۔ 1796ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ مشہور محقق مالک رام نے ”تذکرہ ماہ و سال میں غالب کی تاریخ پیدائش 27 دسمبر 1797ء بمطابق 8 رجب 1212ھ لکھی ہے اور یوسف حسین خان بھی ” غالب اور آھنگ غالب ” میں ان کی تاریخ ولادت 27 دسمبر 1797ء بتاتے ہیں۔ جبکہ رام بابو سکینہ ” تاریخ ادب اردو میں مرزا کا سال ولادت 1796ء قرار دیتے ہیں۔
مرزا غالب کا خاندانی سلسلہ بقول رام بابو سکینہ ابیک ترکمانوں، جو وسط ایشیا کے رہنے والے تھے، سے ملتا ہے جو اپنے آپ کو سلاطین سلجوقی کی وساطت سے فریدوں کی نسل میں سمجھتے تھے۔ مرزا کا بچپن بقول رام بابو سکینہ آگرہ میں گزرا جہاں وہ ایک کہنہ مشق استاد شیخ معظم علی سے تعلیم پاتے رہے اور کہا جاتا ہے کہ اسی زمانے میں مشہور شاعر نظیر اکبر آبادی سے بھی کچھ ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں۔
جب ان کی عمر 14 برس ہوئی تو آپ نے ایک فارس سیاح سے فارسی پڑھی۔مرزا غالب کی شادی نواب الہی بخش خان معروف کی بیٹی امراء بیگم کے ساتھ 1810ء میں ہوئی جب مرزا کی عمر محض 13 سال کی تھی۔ نواب الہی بخش خان معروف چونکہ شاعر تھے لہذا مر زا غالب کو بھی ادبی ماحول میسر آیا۔ مرزا پہلے اسد تخلص کرتے تھے بعد کو غالب ہو گئے۔
غدر کے زمانے میں مرزا نے ایک فاری لغت ” برہان قاطع کی کچھ غلطیوں پر ایک رسالہ ” قاطع برہان کے نام سے لکھا۔ اس کی اشاعت سے مرزا کے خلاف ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا جس کے بکھیڑوں سے مرزا کو آخری عمر تک نجات نہ ملی، فروری ۱۸۶۹ء میں مرزا کا انتقال ہوا اور خواجہ نظام الدین اولیاء کی درگاہ کے قریب دفن کئے گئے۔
۴۔غالب کے کلام کی خصوصیات لکھیے۔
غالب کو اردو کے بڑے شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فارسی شاعری میں بھی ان کا مرتبہ بلند ہے۔ ان کا طرز بیان سب سے جدا اور الگ ہے۔ غالب اردو کے ہر دلعزیز شاعر ہیں۔ کچھ لوگ تو انہیں اردو کا عظیم ترین شاعر قرار دیتے ہیں۔ غالب کی شاعرانہ عظمت کا بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ تیزی سے گزرتے ہوئے وقت نے انکے فن کو گرد آلود کرنے کے بجائے اسے اور بھی نکھار دیا ہے۔ ان کی شاعری کے کئی رنگ ہیں، شروع میں انہوں نے فارسی آمیز زبان استعمال کی لیکن بعد میں خالص اردو زبان استعمال کرنے لگے۔
مزاج میں شوخی اور جدت تھی جس کی وجہ سے مشکل سے مشکل شعر کو خوبصورت بنا دیا ۔ غالب سے پہلے اردو غزل کی دنیا بہت محدود تھی۔ حسن کے معاملات اور عشق کی واردات کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ غالب پہلے شاعر ہیں جنہوں نے سب سے پہلے زندگی کے حقیقی مسائل پر غور کیا اور انہیں اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔
غالب اگرچہ عملی صوفی نہیں تھے لیکن ان کی شاعری فلسفہ وحدت الوجود سے لبریز ہے۔ مگر ان کا یہ عقیدہ بھی ہر جگہ برقرار نہیں رہتا۔ بعض مقامات پر وہ تشکیک کا شکار ہو جاتے ہیں پھر عالم حیرت میں اللہ تعالی سے طرح طرح کے سوال کرتے ہیں۔ کلام غالب کے بیشتر حصے پر ہمیں غم کا سایہ لہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ان کی شاعری میں ہمیں غم کی ایک ایسی لہر ملتی ہے جس کے سوتے غم ذات ، غم عشق اور غم دوراں سے پھوٹتے ہیں۔ طنز و ظرافت مرزا غالب کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ غالب اپنے کلام میں جام سفال سے لے کر تصوف تک ہر چیز پر بڑی سنجیدگی اور پاکیزگی کے ساتھ ظریفانہ وار کرتے ہیں اور ان کا کلام ذہنی انبساط کا ایک اعلی نمونہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے حالی نے انھیں ” حیوان ظریف اور ممتاز حسین نے ”نشاط کا شاعر ” قرار دیا ہے ۔
حصہ (ب): مختصر جواب طلب سوالات۔
۱۔دبستان دہلی کے نمائندہ شعراء کے نام لکھیے۔
جواب: میر تقی میر ، نصیر ،ظفر ،محمد حسین آزاد ، جوش، سوز ، حالی ، داغ دہلوی ، مومن خان مومن ، مرزا رفیع سودا ، مرزا غالب اور مصطفیٰ خان شیفتہ۔
۲۔غالب کا ابتدائی کلام کیسا تھا؟
جواب: ان کا ابتدائی کلام فارسی آمیز اور بہت رفیق تھا جو ان کی مشکل پسندی کا آئینہ دار ہے۔ پھر آپ نے صاف اور سہل زبان استعمال کی لیکن فارسیت کا غلبہ پھر بھی باقی رہا۔
۳۔غالب کی دونوں غزلوں میں ردیف کی نشاندہی کیجیے۔
- غزل نمبر 01: ہوگئیں
- غزل نمبر 02: نہ ہوا
۴۔غالب کی کسی ایک غزل کا مقطع تحریر کیجیے۔
| کچھ تو پڑھئے کہ لوگ کہتے ہیں آج غالب غزل سرا نہ ہوا |
دوا اور خدا قافیہ ہے۔ آپ دی گئی دونوں غزلوں کے چند اور قافیے لکھیے۔
جواب: نسیاں ، نمایاں ، پنہاں ، زنداں ، خواں ، آساں، ایماں ، ویراں
جہاں ۔ ویراں ، ادا ـ سرا ،