Back to: 12th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- کتاب”بہارستانِ اردو” برائے بارہویں جماعت
- سبق نمبر01: ناول
- مصنف کا نام: ڈپٹی نذیر احمد
- سبق کا نام: مرزا ظاہر دار بیگ
مشق:
سوال: تفصیل کے ساتھ تحریر کیجیے کہ کلیم کو مرزا ظاہر دار بیگ کے ہاں کون کون سی مصیبتیں سہنا پڑیں؟
جواب: کلیم جب مرزا ظاہر دار بیگ کے یہاں رات رہنے آیا تو مرزا نے اسےایک مسجد میں ٹھہرایا جو کہ نہایت پرانی چھوٹی سی مسجد تھی مسجد مرزا کی طرح ویران ، وحشت ناک ، یہاں نہ کوئی طالب علم تھا، نہ حافظ ملا اور مسافر۔ یہاں ہزاروں چمگادڑیں موجود تھیں جن کی وجہ سے کانوں کے پر دے پھٹے جا رہے تھے۔ یہاں کا تمام فرش بھی پھٹ چکا تھا۔مسجد میں بہت تاریکی تھی جس کی وجہ سے کلیم کی طبیعت گھبرا رہی تھی جس کی وجہ سے مرزا کو چراغ بھیجا وانےکا کہا تو مرزا بولےمیں نے لیمپ روشن کرانے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن گرمی کے دن ہیں، پروانے بہت جمع ہو جائیں گے، اور آپ زیادہ پریشان ہو جائیں گے، اور اس مکان میں ابابیلوں کی کثرت ہے روشنی دیکھ کر گرنی شروع ہوں گی اور آپ کا بیٹھنا دشوار کر دیں گی۔ تھوڑی دیر صبر کیجیے کہ ماہتاب نکلا آتا ہے۔کلیم جب گھر سے نکلا تھا تو کھانا بھی نہیں کھایا تھا تو جب مرزا سے کہا تو مرزا بولے مرد خدا! تو آتے ہی کیوں نہیں کہا اب اتنی رات گئے کیا ہو سکتا ہے۔ دکانیں سب بند ہو گئیں اور جو ایک دو کھلی بھی ہیں تو باسی چیزیں رہ گئی ہوں گی جن کے کھانے سے فاقہ بہتر ہے۔ گھر میں آج آگ تک نہیں سلگی۔ مگر ظاہر ہے کہ تم سے بھوک کی سہار ہوئی مشکل معلوم ہوتی ہے کہ دیو اشتہا کو زیر کرنا بڑی ہمت والوں کا کام ہے۔
ایک تدبیر سمجھ میں آتی ہے کہ جاؤں چھرا می بھڑ بھونچے کے یہاں سے گرم گرم خستہ چنے کی دال بنوالاؤں۔ بس ایک دھیلے کی مجھ کو کافی ہوگی۔ رات کا وقت ہے ( ابھی کلیم کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ مرزا باہر گئے اور چشم زدن میں چنے بھنوالائے ۔ مگر دھیلے کے کہہ کر گئے تھے۔ یا تو کم کے لائےیا راہ میں دو چار پھنکے لگائے ۔ اس واسطے کلیم کے روبرو دو تین مٹھی چنے سے زیادہ نہ تھے۔مسجد میں جیسے تیسے کلیم کی رات بسر ہوئی صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنا بستر ، جوتی اور دیگر سامان غائب پایا۔ یہی نہیں اس کا اپنا حلیہ بھوت کی طرح کا ہو چکا تھا۔ اول تو کلیم نے مرزا کے آنے کا انتظار کیا مگر جب مرزا کی کوئی خبر نہ آئی تو اس کے دروازے پر جا پہنچا وہاں جاکر معلوم ہوا کہ مرزا صبح سویرے قطب جاچکے ہیں۔ کلیم نے یہ سوچا کہ اپنا تعارف کروا کر گھر والوں سے کچھ مدد طلب کرے تو تعارف کراتے ہی پہلا سوال رات بھیجے گئے بستر کے لیے داغا گیا۔ کلیم گھبرا کر بھاگا تو اس کو چور چور کہہ کر نہ صرف خوب پیٹا گیا بلکہ قاضی کے حوالے بھی کیا گیا۔ کلیم نے مرزا سے دوستی کے خوب حوالے دیے مگر کچھ کار گر ثابت نہ ہوا۔
۳۔اپنے الفاظ میں لکھیے۔
مولوی نذیر احمد کی زندگی کے حالات
جواب:مولوی نذیر احمد کے حالات زندگی: مولوی نذیر احمد کی پیدائش 1837ء کو اتر پردیش ضلع بجنور میں ہوئی۔ لیکن ان کے پہلے سوانح نگار سید افتخار عالم نے بہت چھان بین کے بعد تاریخ ولادت 6 دسمبر 1836ء متعین کی ہے۔ جمیل جالبی کے مطابق تاریخ پیدائش 1830 ہے۔ نور الحسن نقوی نے ان کی تاریخ پیدائش 1836 لکھی ہے۔ ان کے والد کا نام سعادت علی خان تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ، پھر مزید تعلیم کے لیے والد نے مولوی نصر اللہ خان کے سپرد کر دیا۔ پھر مزید تعلیم کیلئے
دہلی کا سفر کیا۔
مولوی نذیر احمد کی ادبی خدمات
جواب:مولوی نذیر احمد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو میں ناول نگاری کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں لیکن انہیں ناول نگاری میں سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کا سب سے پہلا ناول “مراة العروس” ہے جو ۱۸۶۹ میں شائع ہوا۔ اس میں دو بہنوں اکبری اور اصغری کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بنات النعش ۸۷۲۱ توبۃ النصوح ۱۸۷۷ فسانہ مبتلا ۱۸۸۵ ابن الوقت ،۱۸۸۸، ایامی ۱۸۹۱ اور رویائے صادقہ ۱۸۹۴ ان کے بہترین ناول ہیں۔ نذیر احمد کے ناول اصلاحی ہیں۔ ان کے ناولوں میں مسلم معاشرے کی عکاسی موجود ہے۔ خاص کر انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر زور دی ہے۔ ان کے ناولوں میں حقیقت نگاری پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے معاشرے میں جو کچھ دیکھا اور حقیقی زندگی سے جو تجربہ انہیں حاصل ہوا انہی تمام چیزوں کو انہوں نے اپنے ناول میں جگہ دی ہے۔
۴۔ مختصر جواب طلب سوالات
سوال نمبر 01 : مرزا ظاہر دار بیگ کا حلیہ تحریر کیجیے۔
مرزا ظاہر دار بیگ کا چھوٹا قد، زرد رنگت، آنکھیں کر نجی اور دبلا ڈیل ڈول تھا۔ وہ پاؤں میں ڈیڑھ ہاشیے کی جوتی اور سر پر دوہری بیل کی بھاری کا مدار ٹوپی پہنتے تھے۔ دو دو انگر کھے، گھٹنوں تک لٹکتار یشمی ازار بند پہنتے اور اس میں قفل کی کنجیوں کا گچھا لٹکا ہوتا تھا۔
سوال نمبر 2:مرزا ظاہر دار بیگ کو جمعدار سے کیا تعلق تھا؟
جواب:مرزا ایک جمعدار کے گھر میں پچھواڑے میں مقیم تھے مگر شہر بھر میں خود کو اس کا منھ بولا بیٹا بتاتے تھے۔ اور خود کو اس کی جائیداد کا وارث۔
سوال نمبر 3:کلیم پر چوری کا الزام کیسے گا؟
جواب:مسجد میں جیسے تیسے کلیم کی رات بسر ہوئی صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنا بستر ، جوتی اور دیگر سامان غائب پایا۔ یہی نہیں اس کا اپنا حلیہ بھوت کی طرح کا ہو چکا تھا۔ اول تو کلیم نے مرزا کے آنے کا انتظار کیا مگر جب مرزا کی کوئی خبر نہ آئی تو اس کے دروازے پر جا پہنچا وہاں جاکر معلوم ہوا کہ مرزا صبح سویرے قطب جا چکے ہیں۔ کلیم نے یہ سوچا کہ اپنا تعارف کروا کر گھر والوں سے کچھ مدد طلب کرے تو تعارف کراتے ہی پہلا سوال رات بھیجے گئے بستر کے لیے داغا گیا۔ کلیم گھبرا کر بھاگا تو اس کو چور چور کہہ کر نہ صرف خوب پیٹا گیا بلکہ قاضی کے حوالے بھی کیا گیا۔ کلیم نے مرزا سے دوستی کے خوب حوالے دیے مگر کچھ کار گر ثابت نہ ہوا۔
سوال نمبر 4:مرزا ظاہر دار بیگ نے چنے کے بارے میں کون سی حکایت سنائی ؟
جواب: ایک مرتبہ حضرت میکائیل کی خدمت میں جن کو ارزاق عباد کا اہتمام سپرد ہے فریاد لے کر گیا کہ یاحضرت امیں نے ایسا قصور کیا ہے کہ جونہی میں نے سرزمین سے نکالا تیر ستم چلنے لگا ۔ ماکولات اور بھی ہیں۔ مگر جیسے جیسے علم مجھ پر ہوتے ہیں کسی پر نہیں ہوتے۔ نشو و نما کے ساتھ تو میری قطع و برید ہونے لگتی ہے۔ میری کونپلوں کو توڑ کر آدمی ساگ بناتے ہیں اور مجھے کچھے کھا جاتے ہیں۔ جب بارور ہوا تو خدا جھوٹ نہ بلوائے آدمی بکری بن کر لاکھوں من بونٹ چرتے ہیں۔ اس سے نجات ملی تو ہولے کرنے شروع کیے۔ پکا تو شاخ و برگ بھی بن کر بیلوں اور بھینسوں کے دوزخ شکم کا ایندھن ہوا۔ رہا دانہ، اس کو چکی میں دلیں،گھوڑوں کو کھلائیں، چھاڑ میں بھونیں، بیسن بنائیں ۔۔ کھولتے ہوئے پانی میں آہا لیں ۔ گھنگھنیاں بنا ئیں۔ غرض شروع سے آخر تک مجھ پر طرح طرح کی آفتیں نازل رہتی ہیں ۔در بار اس قدر ناخوش ہوئے کہ ہر شخص اسے کھانے کو دوڑا۔ چنانچہ یہ دیکھ کر بے انتظار حکم اخیر رخصت ہوا۔
سوال نمبر5:مسجد کی حالت تحریر کیجیے۔
جواب:کلیم کو جس مسجد میں ٹھہرایا گیا وہ نہایت پرانی اور چھوٹی سی مسجد تھی۔ یہاں نہ کوئی طالب علم تھا، نہ حافظ ، ملا اور مسافر۔ یہاں ہزاروں چمگادڑیں موجود تھیں جن کی وجہ سے کانوں کے پردے پھٹے جا رہے تھے۔ یہاں کا تمام فرش بھی پھٹ چکا تھا۔
۵۔ ناول “توبتہ النصوح” کی فنی اور اصلاحی اہمیت تحریر کیجیے۔
ڈپٹی نذیر احمد نے ناول توبتہ النصوح کو مذہبی ، اخلاقی اور تعلیمی مقاصد کو مدِ نظر رکھ کر لکھا یہی وجہ ہے کہ اس ناول کی اردو ادب میں نہ صرف اصلاحی حوالے سے بہت اہمیت ہے بلکہ یہ ناول فن کے اعلیٰ درجے ہر بھی فائز ہے۔اس ناول کے ذریعے یہ حقیقت روشن کی گئی ہے کہ اولاد کی محض تعلیم ہی کافی نہیں ہے۔ اس کی پرورش اس طرح ہونی چاہیے کہ اس میں نیکی اور دین داری کے جذبات پیدا ہوں۔
یہ ناول ایک مکالمے کی شکل میں ہے۔اس ناول کے ذریعے مولوی نذیر احمد واضح کرنا چاہتے ہیں کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو دنیاوی تعلیم سےواقف کرائیں۔ کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں۔ اُن کی تربیت کی طرف پورا دھیان دیں اور اُن کو اخلاقیات سے واقف کروائیں اس پوری کتاب میں گھریلو ناچاقیوں کو ختم کرنے کی کوشش اور اپنے بچوں کو کیسے راہ راست پر لائیں، بتایا گیا ہے۔ مکمل کتاب بارہ فصلوں میں ہے اور ہر فصل الگ الگ عنوان سے قائم ہے۔
درج ذیل اقتباس کے آخر میں دیے گئے سوالات کے جوابات لکھیں:
صبح ہوتے ہی آنکھ لگ گئی تو نہیں معلوم مرزا یا محلے کا کوئی اور عیار ٹوپی ، جوتی ، رومال، چھڑی ، تکیہ، دری، یعنی جو چیز کلیم کے بدن سے منسلک اور اس کے جسم سے جدا تھی لے کر چنیت ہوا۔ پھر سوا پہر دن چڑھے جاگا تو دیکھتا کیا ہے کہ فرش مسجد پر پڑا ہے اور نیند کی حالت میں جو کروٹیں لی ہیں تو سیروں گرد کا بھجوت اور چمگادڑوں کی بیٹ کا ضمادبن کر تھپا ہوا ہے۔ حیران ہوا کہ قلب ماہیت ہو کر میں کہیں بھتنا تو نہیں بن گیا۔
۶۔ سوال نمبر 1:کلیم کہاں سویا تھا ؟
جواب: مسجد میں۔
سوال نمبر 2: کلیم کی کون کون سی چیزیں چوری ہوئی ؟
جواب: بستر ، جوتی اور دیگر اشیاء۔
سوال نمبر 3: کلیم کا حلیہ بیان کیجیے۔
جواب: کلیم کے ہاتھ میں ایک چھڑی سر پر ٹوپی تھی اور پاؤں میں ایک جوتی تھی۔
۴۔ مندرجہ ذیل الفاظ کو اس طرح جملوں میں استعمال کیجیے کہ ان کی تذکروتانیث واضح ہو جائے:
| ۱۔ٹوپی:(مونث) | میں نے نئی ٹوپی خریدی۔ |
| ۲۔ جوتی:(مونث) | علی کی جوتی بہت پیاری ہے۔ |
| ۳۔رومال: (مذکر) | اقصیٰ نے میرے لیے ریشم کا رومال خریدا۔ |
| ۴۔ چھڑی: (مونث) | اماں جان کی چھڑی کہاں ہے ؟ |
| ۵۔ تکیہ: (مذکر) | تکیہ کا غلاف بہت پیارا ہے۔ |
| ۶۔ دری: (مونث) | کلیم کے ہاتھ میں ایک دری بھی موجود تھی۔ |
| ۷۔ضماد:(مذکر) | کلیم نے مریض کے لیے ضماد تیار کیا۔ |
۵۔ معنی لکھیے:
| آنکھ لگنا: | سو جانا |
| چنپت ہونا: | نظروں سے اوجھل ہونا |
| قلب ماہیت: | کسی شے کا وجود |
| عیار: | چالاک |
۷۔”مرزا ظاہر دار بیگ” مولوی نذیر احمد کے ناول کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ،اس حصے کا ماحصل اپنے الفاظ میں لکھیے۔
مرزا ظاہر دار بیگ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول کا کردار ہے۔ مرزا ظاہر داربیگ جس کا حلیہ کچھ یوں ہے کہ چھوٹا قد، زرد رنگت، آنکھیں کر نجی اور دبلا ڈیل ڈول تھا۔ وہ پاؤں میں ڈیڑھ ہاشیے کی جوتی اور سر پر دوہری بیل کی بھاری کا مدار ٹوپی پہنتے تھے۔
دو دو انگر کھے، گھٹنوں تک لٹکتار یشمی ازار بند پہنتے اور اس میں قفل کی کنجیوں کا گچھا لٹکا ہوتاتھا۔مرزا ایک جمعدار کے گھر میں پچھواڑے میں مقیم ہیں مگر شہر بھر میں خود کو اس کا منھ بولا بیٹا بتاتے ہیں۔ اور خود کو اس کی جائیداد کا وارث۔ ایک بار جب مرزا کس دوست کلیم گھر سے : س دوست کلیم گھر سے ناراض ہو کر مرزا کے پاس قیام کے لیے آیا تو اس پر مرزا کی حقیقت کھلی۔
کلیم نے جب اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو پہلے پہل تو مرزا نے پس و پیش سے کام لیا جب کہ پھر کلیم کو ایک مسجد میں ٹھہرایا جس کی حالت کچھ یوں تھی کہ وہ نہایت پرانی اور چھوٹی سی مسجد تھی۔ یہ نہ کوئی طالب علم تھا، نہ حافظ ، ملا اور مسافریہاں ہزاروں چپ کا دریں موجود تھیں جن کی وجہ سے کانوں کےپر دے پھٹے جارہے تھے۔ یہاں کا تمام فرش بھی پھٹ چکا تھا۔
کلیم چونکہ گھر سے بنا کچھ کھائے آیا تھا جب اس نے مرزا سے کھانے کا مطالبہ کیا تو مرزا نے اول تو اسے بھوکے سونے کا مشورہ دیا کہ رات کافی ہو چکی ہے پھر اس کے لیے جا کر بے ر بھنے چنے لے آیا۔ مرزا نے ان چنوں کی خوب تعریف کی اور کہا ان چنوں کی عجب سوندھی خوشبو ہے ۔لوگ مٹی کا عطر کشید کرتے ہیں اس جانب کسی کا دھیان کیوں نہ گیا۔
چھدائی کی دوکان پر اتنا رش تھا۔ اس کے ہاتھوں میں فن ہے جو بھنے ہوئے چنوں کو سڈول بنا دیتا ہے۔ چنوں کی دال ایسی بنی ہے کہ اس پر کوئی خراش تک نہیں ہے۔ دانوں کی رنگت ایسی خوبصورت ہے کہ کوئی بسنتی اور کوئی پستی ہے۔ زمین سے اگنے والے پھل اور اناج بھی چنے کی لذت کو نہیں پا سکتے۔
مسجد میں جیسے تیسے کلیم کی رات بسر ہوئی صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنا بستر ، جوتی اور دیگر سامان غائب پایا۔ یہی نہیں اس کا اپنا حلیہ بھوت کی طرح کا ہو چکا تھا۔ اول تو کلیم نے مرزا کے آنے کا انتظار کیا مگر جب مرزا کی کوئی خبر نہ آئی تو اس کے دروازے پر جا پہنچا وہاں جاکر معلوم ہوا کہ مرزا صبح سویرے قطب جا چکے ہیں۔
کلیم نے یہ سوچا کہ اپنا تعارف کروا کر گھر والوں سے کچھ مدد طلب کرے تو تعارف کراتے ہی پہلا سوال رات بھیجے گئے بستر کے لیے داغا گیا۔ کلیم گھبرا کر بھاگا تو اس کے را کر بھاگا تو اس کو چور چور کہہ کر نہ صرف خوب پیٹا گیا بلکہ قاضی کے حوالے بھی کیا گیا۔ کلیم نے مرزا سے دوستی کے خوب حوالے دیے مگر کچھ کار گر ثابت نہ ہوا۔